غزل

Shahnawaz Anwar — فروری 29، 2016 6:27 شام
ملنے کا جب سے انکے کوئی سلسلہ نہیں
انکے لبوں پہ میرے لئے کوئی دعا نہیں
سنسان دل کا شہر ہے تیرے روٹھنے سے
کوئی حسین خواب بھی مجھکو پھر دکھا نہیں
باتوں سے جس کے جھڑتے رہیں پھول ہی سدا
ہم نفس تیرے جیسا ہمیں کوئی ملا نہیں
پل میں سمیٹ لے جو سبھی کے ہی پیار کو
میری محبتوں کا یہ در کبھی بند ہوا نہیں
شیریں وہ باتیں یاد ہمیں آتی ہر گھڑی
تیرے بغیر جیسے میں ایک پل بھی رہا نہیں
ممکن ہو تو لؤٹ بھی جا اےمیرے ہم نشیں
انور یہاں تو تیرے جیسا کوئی ہم نوا نہیں
سلمان دانش جی — فروری 29، 2016 6:38 شام
پہلے بحر کے وزن پر محنت کریں صاحب۔ اکثر اشعار بحر سے بھٹکے ہوئے ہیں۔ دوسرا ، تیسرا سب آؤٹ
دوسرے شعر کا پہلا مصرع الفاظ کی نشست تبدیل کے کے یوں بحر میں ہو سکتا ہے
سنسان دل کا شہر ترے روٹھنے سے ہے
کاشف اختر — فروری 29، 2016 8:19 شام
اچھی کاوش ہے! بحروں شحروں کا مسئلہ تو بعد میں حل ہوتا رہے گا! پہلے تعارف کے زمرے میں اپنا تعارف کرائیں!
ادب دوست — فروری 29، 2016 8:24 شام
بہت اچھی کوشش ہے صاحب جاری رکھئیے
ساتھ ساتھ مطالعہ بھی جاری رکھیں
الف عین — مارچ 1، 2016 4:21 شام
محض اس مصرع پر پہلے غور کریں
کوئی حسین خواب بھی مجھکو پھر دکھا نہیں
اور اس کا موازنہ اس سے کریں
کوئی حسین خواب بھی مجھ کو دکھا نہیں
اگر طبیعت میں موزونیت ہو گی ، جس کا مجھے احساس ہو رہا ہے، تو دونوں میں فرق محسوس ہو گا۔ پہلا موزوں نہیں، جب کہ دوسرا وزن میں ہے۔ ایک لفظ کا فرق وزن سے بے وزن کر دیتا ہے!!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84.88365/