امتیاز ایوب امتیاز — دسمبر 9، 2016 1:03 شام
وہ حُسنِ گُل پہ بچھی مرمریں ردا جیسے وہ اپنی ذات میں ایسا کہ ہو خُدا جیسے
الف عین — دسمبر 11، 2016 4:08 صبح
یہ تو محض مطلع ہے غزل کا!! اس میں بھی قوافی غلط ہیں ردا اور خدا میں 'ر' اور 'د' کے اعراب جدا ہیں
ابن رضا — دسمبر 11، 2016 7:25 صبح
یہ تو محض مطلع ہے غزل کا!! اس میں بھی قوافی غلط ہیں ردا اور خدا میں 'ر' اور 'د' کے اعراب جدا ہیں
سر قوافی میں تو روی الف ہے ان کے ساتھ سزا وفا ادا نوا استعمال ہو سکتے ہیں؟
الف عین — دسمبر 12، 2016 5:57 صبح
لیکن ردا اور خدا میں الف سے ما قبل حروف کی حرکات مختلف ہیں۔ ردا میں ’ر‘ پر زیر، اور خدا میں ’خ‘ پر پیش ہے۔ یہ قوافی دوسرے اشعار میں چل سکتے ہیں لیکن مطلع میں نہیں۔