غزل

آئی کے عمران — فروری 2، 2017 4:37 شام
احباب! السلام عليكم!

ایک غزل برائے بے لاگ رائے


ایک دل آزار دل آرا ہوا
جیسے انگارا کوئی غنچہ ہوا
ہم نے تو یوں ہی کیا ذکرِ جفا
سرخ کاہے آپ کا چہرہ ہوا
آعدو مل کےکریں آہ و فغاں
وہ نہ میرا اور نہ ہی تیرا ہوا
دردِ دل ہے دردِ دنیا کا علاج
میں نہ جو اچھا ہوا اچھا ہوا
فکر دو عالم سے میں آزاد ہوں
میں تری یادوں میں ہوں الجھا ہوا
تب کہیں، ان کو ہوا ہم پر یقیں
خون سے تحریر جب نامہ ہوا
تم سے بے جا ہے تباہی کا گلہ
تھا مقدر میں یہی لکھا ہوا
ہم دوانوں کا مقدر دوستو
کوئی زنداں یا کوئی صحرا ہوا
کہتے تھے ہم عاشقی سے باز آ
آخرش عمران تو رسوا ہوا
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 6، 2017 10:31 صبح
اردو محفل میں خوش آمدید آئی کے عمران بھائی۔ آج آپ کی غزل دیکھی تو ڈھونڈ کر آپ کے اس پہلے مکالمے پر پہنچے۔
بھائی تعارف کے زمرے میں اپنا تعارف بھی کروائیے لگے ہاتھوں!
الف عین — اپریل 7، 2017 7:58 صبح
اچھی غزل ہے ماشاءللہ۔
بس اس کی روانی متاژر ہو رہی ہے، اسے بدل کر دیکھیں۔
وہ نہ میرا اور نہ ہی تیرا ہوا
آئی کے عمران — اپریل 7، 2017 11:18 صبح
اچھی غزل ہے ماشاءللہ۔
بس اس کی روانی متاژر ہو رہی ہے، اسے بدل کر دیکھیں۔
وہ نہ میرا اور نہ ہی تیرا ہوا

بہت شکریہ بہت نوازش محترم الف ‫۔عین صاحب
میں مصرع بدلنے کی کوشش کرتا ہوں
آئی کے عمران — اپریل 7، 2017 11:57 صبح
بہت شکریہ بہت نوازش محترم الف ‫۔عین صاحب
میں مصرع بدلنے کی کوشش کرتا ہوں
کیا ایسے رواں ہو جائے گا؟
وہ نہ تو میر ا،نہ ہی تیرا ہوا
الف عین — اپریل 8، 2017 5:16 صبح
وہ نہ میرا ہی، نہ وہ تیرا ہوا
زیادہ رواں ہے
آئی کے عمران — اپریل 8، 2017 8:06 صبح
جی!
بہت بہت شکریہ اب زیادہ رواں ہو گیا ہے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84.94597/