آپ کا یہ مراسلہ دیکھ کر بے اختیار سر پیٹنے کو جی چاہا۔
بھائی ، پہلی بات تو یہ کہ لغت اورتھیسارس کا فرق جانیے۔ لغت میں لفظ کے معنی اور دیگر متعلقہ معلومات ہوتی ہیں جبکہ قاموس یا تھیسارس میں لفظ کے صرف متبادلات ( یا ہم معنی) الفاظ درج ہوتے ہیں ۔ اردو کے کئی معتبر لغات تو موجود ہیں لیکن کوئی اچھاتھیسارس ابھی تک دستیاب نہیں ہے۔ احسان دانش نے اردو مترادفات کے نام سے ایک کتاب تالیف کی تھی لیکن وہ بہت محدود ہے اور اس میں بھی مسائل ہیں۔
لغت لکھاری کے اوزاروں میں سے ایک اوزار ہے ۔ اگر غلط اوزار استعمال کریں گے تو غلط نتیجہ نکلے گا۔ اگر صحیح اوزار بھی غلط طریقے سے استعمال کریں گے تو نتیجہ پھر غلط نکلے گا۔ آپ نے جو آنلائن تھیسارس کا ربط دیا ہے اسے میں نے دیکھا ۔ کسی بھی مآخذ کو استعمال کرنے سے پہلے اس کے طریقۂ استعمال کو سمجھنا ضروری ہے۔ اس تھیسارس کو تالیف کرنے والے صاحبان نے ایک حرکت اس میں یہ کی ہے کہ کسی بھی لفظ کے متبادلات نمبر وارلکھنے کے بعد ان میں سے ہر متبادل لفظ کے سامنے اس لفظ کے متبادلات بھی لکھ دیئے ہیں ۔ چنانچہ انہوں نے رند کے تین متبادلات الفتا ، الفتہ اور اوباش لکھے ہیں ۔ پھر اوباش کے آگے اس کے متبادلات لکھ دیئے ہیں( جس میں آپ نے سست کا لفظ دیکھا اور اسے رند کا متبادل سمجھ لیا۔ )
"رند
متعلقہ مترادفات
معنی میں قریب الفاظ نیچے جلی حروف میں درج ہیں. ان کے مترادفات میں تلاش کردہ لفظ کے متعلقہ مترادفات مل سکتے ہیں۔
1.اَلفتا: اوباش
2.اَلفتہ: اوباش
3. اوباش: آوارہ ۔ آوارہ مزاج ۔اجامر۔ بد چلن۔ بد قماش۔بد کردار،۔بد معاش۔ بد وضع۔ بدکار۔پچمیل ۔ترخوان ۔تماش بین ۔ جلف۔ جمری۔ رندِ بے باک ۔ رندِ خام۔ رندِ غلط مشرب۔ زناکار۔ سایہ پرست ۔سبک روح۔ سست۔ مہار۔ شُہدا ۔عیاّش۔ غنڈا ۔کمینہ۔لُچّا ۔لوالو۔نخیز ۔نہنگ۔ ہادوری "
کیامندرجہ بالا تمام الفاظ رند کے مترادفات ہیں؟! کیا ان میں سے جو لفظ آپ چاہیں رند کی جگہ رکھ سکتے ہیں؟!
یہ تھیسارس بالکل بھی معتبر نہیں ہے ۔ اسے مت استعمال کیجیے ۔ اب آپ کا ہوم ورک یہ ہے کہ آپ بتائیے کہ آپ کون سی لغات استعمال کرتے ہیں اور یہ بھی بتائیے کہ مذکورہ بالاتھیسارس استعمال کرنے کا خیال آپ کو کیسے آیا۔
تیسری بات یہ کہ ہمیشہ کے لیے امریکی صدر ابراہیم لنکن کے اس قول کو گرہ سے باندھ لیجیے کہ: انٹرنیٹ پر لکھی ہوئی ہر بات معتبر نہیں ہوتی۔
استادِمحترم
ظہیراحمدظہیر صاحب!
آپ کے فرامین بجا۔تھیسارس مترادف الفاظ کی لغت ہی ہوتی ہے۔اور مترادف کا مطلب ہم معنی ہی ہوتا ہے۔البتہ یہ تھیسارس معتبر نہیں ہے آپ فرمارہے تو درست ہوگا۔
ایک اور آن لائن لغت میں بھی رند کے معنی اسی طرح کے درج ہیں۔ میں اس لغت کے علاوہ فرہنگِ آصفیہ بھی استعمال کرتا ہوں۔ اس میں بھی اسی آن لائن لغت جیسے معانی لکھے ہیں:
مذہب کا پابند نہ ہونا،منکرِشریعت،آزاد، ملحد، لچا، لفنگا، کافر، بے ایمان، لامذہب، بدمذہب، متوالا (آن لائن لغت میں صوفی ، پارسا بھی لکھے ہیں)، نشہ باز،شرابی، چرسی بھنگی
شرابی، بھنگی، چرسی کی ایک صفت سست ہونا بھی ہوتی ہے جب وہ نشے میں ہو۔
جیسے ایک پہلوان (روائتی) کی ایک صفت موٹا ہونا بھی ہوتی ہے۔ موٹے کوپہلوان کی اسی صفت کی وجہ سے پہلوان بھی کہ دیتے ہیں۔ اور پہلوان کو موٹا بھی کہ دیتے ہیں۔ تو کیا اس طرح کا استعمال جائز نہیں ہے؟
میں نے بھی رند کی ایک صفت جو سست ہونا ہے کی وجہ سے رند استعمال کیا تھا۔
نوٹ:- یہ اپنے حق میں دلائل نہیں- بلکہ استاد کی حیثیت سے آپ کا کہا مان کر اس شعر کو تبدیل کرنے کی کوشش کی تھی۔ اب صرف علم میں اضافےکے لیے آپ مزید راہنمائی درکار ہے۔