غزل: (رمل ) فاعلاتن فاعلاتن فاعلن

شکیل عباس — اگست 8، 2017 7:40 صبح
آنکھ سے آنسو کوئی نکلا نہیں
پھول کوئی شاخ پر آیا نہیں
میں نے تو امید رکّھی تھی بہت
آپ نے دامن مرا تھاما نہیں
جب بلایا کامیابی نے مجھے
پیچھےمڑ کر میں نے پھر دیکھا نہیں
موت کب کس کو کہاں پر آئیگی
مسٔلہ یہ وہ ہے جوسلجھا نہیں
اک ترے غم کے سوا اے جانِ غم
اس جہاں میں کوئی بھی اپنا نہیں
ہر طرف ہیں جھوٹ کی پرچھائیاں
کوئی بھی منظر یہاں سچا نہیں
فائدہ کیا اس میں اور نقصان کیا
یہ محبت ہے کوئی سودا نہیں
دل میں نفرت اور ہونٹوں پر ہنسی
میں نے ایسا کوئی فن سیکھا نہیں
اک کھنڈر ہے، دل نہیں ہے وہ شکیلؔ
یاد کا جس میں دیا جلتا نہیں​
محمد وارث — اگست 8، 2017 10:25 صبح
کیا اچھا مطلع ہے!
شکیل عباس — اگست 8، 2017 11:30 صبح
شکریہ جناب محمد وارث صاحب
فرحان محمد خان — اگست 8، 2017 12:22 شام
سر الف عین
سر محمد ریحان قریشی
محمد خلیل الرحمٰن — اگست 8، 2017 12:33 شام
خوبصورت غزل۔ داد قبول فرمائیے
اس غزل کو تو آپ کی پابندِ بحور شاعری میں ہونا چاہیے۔
الف عین — اگست 8، 2017 4:26 شام
اچھی غزل ہے اصلاح سے ماورا۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%B1%D9%85%D9%84-%D9%81%D8%A7%D8%B9%D9%84%D8%A7%D8%AA%D9%86-%D9%81%D8%A7%D8%B9%D9%84%D8%A7%D8%AA%D9%86-%D9%81%D8%A7%D8%B9%D9%84%D9%86.97858/