غزل - (2024-03-30)

خورشیداحمدخورشید — مارچ 30، 2024 10:56 صبح
غزل پیش ِخدمت ہے۔ اساتذہ کرام سے اصلاح کی درخواست ہے:
الف عین ، ظہیراحمدظہیر ، سید عاطف علی ، محمد احسن سمیع راحلؔ ، یاسر شاہ
خدارا ہمیں یوں نہ تڑ پائیے
مری جان تشریف لے آئیے
الجھ سی گئی ہست کی ڈور ہے
مرے چارہ گر آکے سلجھائیے
نہیں سہہ سکوں گا جدائی کا غم
خدارا نہ اتنے قریب آئیے
بناتے ہیں کندن یہ انسان کو
غموں سے نہ ہرگز بھی گھبرائیے
کٹھن ہیں بہت عشق کے مرحلے
جوانی پہ اپنی ترس کھائیے
دبی راکھ میں ہیں جو چنگاریاں
جلا دیں گی خرمن، نہ سلگائیے
اگر جانچ مقصود ہے عشق کی
تو جی بھر کے ہم پر ستم ڈھائیے
ترے پیار کا گر سزا وار ہوں
ذرا بھی تکلف نہ فرمائیے
خزاؤں سے ڈرتے ہو خورشید تو
چمن کو گلوں سے نہ مہکائیے
صریر — مارچ 31، 2024 12:06 شام
ترے پیار کا گر سزا وار ہوں
ذرا بھی تکلف نہ فرمائیے
خزاؤں سے ڈرتے ہو خورشید تو
چمن کو گلوں سے نہ مہکائیے
شتر گربہ لگتا ہے۔😐
سزا وار ہوں آپ کے پیار کا
ذرا بھی تکلف نہ فرمائیے
لیکن سزاوار کے تو دو معنی ہوتے ہیں ناں؟
خزاؤں سے ڈرتے ہوں خورشید تو
چمن کو گلوں سے نہ مہکائیے
الف عین — اپریل 1، 2024 12:03 صبح
غزل پیش ِخدمت ہے۔ اساتذہ کرام سے اصلاح کی درخواست ہے:
الف عین ، ظہیراحمدظہیر ، سید عاطف علی ، محمد احسن سمیع راحلؔ ، یاسر شاہ
خدارا ہمیں یوں نہ تڑ پائیے
مری جان تشریف لے آئیے
تھیک، مگر عامیانہ شعر ہے

الجھ سی گئی ہست کی ڈور ہے
مرے چارہ گر آکے سلجھائیے
ہست یہاں فٹ نہیں ہو رہا
.... زندگی کی لڑی
یا کچھ مزید بہتر

نہیں سہہ سکوں گا جدائی کا غم
خدارا نہ اتنے قریب آئیے
مفہوم دور از کار ہے، ویسے درست

بناتے ہیں کندن یہ انسان کو
غموں سے نہ ہرگز بھی گھبرائیے
کٹھن ہیں بہت عشق کے مرحلے
جوانی پہ اپنی ترس کھائیے
دبی راکھ میں ہیں جو چنگاریاں
جلا دیں گی خرمن، نہ سلگائیے
اگر جانچ مقصود ہے عشق کی
تو جی بھر کے ہم پر ستم ڈھائیے
یہ سارے بھی ٹھیک لگ رہے ہیں

ترے پیار کا گر سزا وار ہوں
ذرا بھی تکلف نہ فرمائیے
شتر گربہ کی بات ہو چکی، سزا وار بھی مختلف معنی رکھتا ہے، سزا کا اہل نہیں، یہاں خطا کار لا سکتے ہو

خزاؤں سے ڈرتے ہو خورشید تو
چمن کو گلوں سے نہ مہکائیے
یہ بھی شتر گربہ، صریر نے اصلاح کر ہی دی ہے
خورشیداحمدخورشید — اپریل 6، 2024 6:42 شام
محترم جناب الف عین صاحب اور جناب صریر صاحب !
آپ حضرات کا شکریہ! آپ کی رائے من وعن قبول ہے،
خورشیداحمدخورشید — اپریل 6، 2024 7:32 شام
سر الف عین صاحب دوبارہ کوشش کی ہے۔ نظرثانی کی درخواست ہے۔
خدارا ہمیں یوں نہ تڑ پائیے
مری جان تشریف لے آئیے
تھیک، مگر عامیانہ شعر ہے
خدارا نہ میت کو تڑ پائیے
لحد پر ہی تشریف لے آئیے
الجھ سی گئی ہست کی ڈور ہے
مرے چارہ گر آکے سلجھائیے

ہست یہاں فٹ نہیں ہو رہا
.... زندگی کی لڑی
یا کچھ مزید بہتر
ہے الجھی ہوئی زندگی کی لڑی
مرے چارہ گر آکے سلجھائیے
ترے پیار کا گر سزا وار ہوں
ذرا بھی تکلف نہ فرمائیے

شتر گربہ کی بات ہو چکی، سزا وار بھی مختلف معنی رکھتا ہے، سزا کا اہل نہیں، یہاں خطا کار لا سکتے ہو
خطا کار ہوں آپ کے پیار کا
ذرا بھی تکلف نہ فرمائیے
خزاؤں سے ڈرتے ہو خورشید تو
چمن کو گلوں سے نہ مہکائیے

یہ بھی شتر گربہ، صریر نے اصلاح کر ہی دی ہے
خزاؤں سے ڈرتے ہوں خورشید تو
چمن کو گلوں سے نہ مہکائیے
الف عین — اپریل 6، 2024 11:08 شام
سر الف عین صاحب دوبارہ کوشش کی ہے۔ نظرثانی کی درخواست ہے۔
خدارا نہ میت کو تڑ پائیے
لحد پر ہی تشریف لے آئیے
کس کی میت؟ میرے خیال میں پہلا مصرع پرانا اور دوسرا نیا درست رہے گا
ہے الجھی ہوئی زندگی کی لڑی
مرے چارہ گر آکے سلجھائیے
خطا کار ہوں آپ کے پیار کا
ذرا بھی تکلف نہ فرمائیے
خزاؤں سے ڈرتے ہوں خورشید تو
چمن کو گلوں سے نہ مہکائیے
مشوروں کے مطابق ہو ہی گئے ہیں
خورشیداحمدخورشید — اپریل 8، 2024 1:54 صبح
خدارا نہ میت کو تڑ پائیے
لحد پر ہی تشریف لے آئیے

کس کی میت؟ میرے خیال میں پہلا مصرع پرانا اور دوسرا نیا درست رہے گا
مشوروں کے مطابق ہو ہی گئے ہیں

خدارا ہمیں یوں نہ تڑ پائیے
لحد پر ہی تشریف لے آئیے
ہے الجھی ہوئی زندگی کی لڑی
مرے چارہ گر آکے سلجھائیے
نہیں سہہ سکوں گا جدائی کا غم
خدارا نہ اتنے قریب آئیے
بناتے ہیں کندن یہ انسان کو
غموں سے نہ ہرگز بھی گھبرائیے
کٹھن ہیں بہت عشق کے مرحلے
جوانی پہ اپنی ترس کھائیے
دبی راکھ میں ہیں جو چنگاریاں
جلا دیں گی خرمن، نہ سلگائیے
اگر جانچ مقصود ہے عشق کی
تو جی بھر کے ہم پر ستم ڈھائیے
خطا کار ہوں آپ کے پیار کا
ذرا بھی تکلف نہ فرمائیے
خزاؤں سے ڈرتے ہوں خورشید تو
چمن کو گلوں سے نہ مہکائیے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-2024-03-30.120562/