غزل - (2024-09-12)

خورشیداحمدخورشید — ستمبر 12، 2024 7:31 شام
غزل پیش ِخدمت ہے۔محترم اساتذہ کرام سے اصلاح کی درخواست ہے:
الف عین ، ظہیراحمدظہیر ، سید عاطف علی ، محمد احسن سمیع راحلؔ ، یاسر شاہ

بظاہر دوستی بھی چل رہی تھی
کدورت بھی دلوں میں پل رہی تھی
کہیں رم جھم برستے آنسوؤں میں
محبت کی چتا اک جل رہی تھی
خوشی کی گونجتی شہنائیوں میں
طبیعت کیوں مری بوجھل رہی تھی
جدائی کا بہت لمبا سفر ہے
شناسائی مگر دو پل رہی تھی
نظر کے سامنے ہی تھی ہمیشہ
نگاہوں سے وہ جب اوجھل رہی تھی
الف نظامی — ستمبر 12، 2024 8:04 شام
دوسرے شعر میں چتا کو قبا سے تبدیل کر کے دیکھیے۔
تبدیل شدہ شعر ایسا بھی ہو سکتا تھا:
لگی برسات جب تھی آنسوؤں کی
محبت کی قبا بھی جل رہی تھی
الف عین — ستمبر 12، 2024 9:49 شام
خوش آمدید الف نظامی تمہیں یہاں دیکھ کر اور یہ جان کر کہ ماشاء اللہ موزوں طبیعت پائی ہے۔
ویسے چتا میں بھی مجھے کوئی قباحت نظر نہیں آتی
بلکہ مکمل غزل میں بھی کوئی سقم دکھائی نہیں دیتا.
الف نظامی — ستمبر 13، 2024 5:44 صبح
ویسے چتا میں بھی مجھے کوئی قباحت نظر نہیں آتی
محبت کو چتا میں جلانے اور قبر میں تدفین کرنے کے تصور سے علیحدہ کرنے کے لیے قبا کا لفظ تجویز کیا۔
الف نظامی — ستمبر 13، 2024 5:51 صبح
خوش آمدید الف نظامی تمہیں یہاں دیکھ کر اور یہ جان کر کہ ماشاء اللہ موزوں طبیعت پائی ہے۔
یہ شعر موزوں اُنہی کا ہے جس کی جگہ اب تبدیل شدہ شعر لکھا ہوا ہے،میں نے صرف اس شعر میں پہلے مصرعے میں بھی تھی ، کی جگہ جب تھی کر دیا۔
خورشیداحمدخورشید — ستمبر 21، 2024 1:18 شام
خوش آمدید الف نظامی تمہیں یہاں دیکھ کر اور یہ جان کر کہ ماشاء اللہ موزوں طبیعت پائی ہے۔
ویسے چتا میں بھی مجھے کوئی قباحت نظر نہیں آتی
بلکہ مکمل غزل میں بھی کوئی سقم دکھائی نہیں دیتا.
محترم استاد صاحب! آپ کے ارشادات بطور سند محفوظ رہیں گے اور اس طالب علم کاحوصلہ بڑھاتے رہیں گے-
خورشیداحمدخورشید — ستمبر 21، 2024 1:22 شام
دوسرے شعر میں چتا کو قبا سے تبدیل کر کے دیکھیے۔
تبدیل شدہ شعر ایسا بھی ہو سکتا تھا:
لگی برسات جب تھی آنسوؤں کی
محبت کی قبا بھی جل رہی تھی
جناب الف نظامی صاحب! توجہ فرمانے پر شکر گذار ہوں۔
خورشیداحمدخورشید — ستمبر 21، 2024 1:28 شام
جناب صریر صاحب! آپ کی پسندیدگی اور حوصلہ افزائی کا شکریہ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-2024-09-12.120996/