غزل 2 برائے اصلاح

حکیم علی الوردي — دسمبر 4، 2019 1:37 شام
کہتا رہا نا تجھ سے مجھے مت خدا بنا
بننا نہیں تھا مجھ کو تو کیوں کبریا بنا
ہستی کو بھی عدم کا کوئی نقشِ پا بنا
جو کچھ فنا بنا نہ بغیر از فنا بنا
بے معنی ایک لفظ کو مت آسرا بنا
گر پھر بنا مجھے تو بنامِ خدا بنا
وہ درد ہیں کہ جن کا بیاں بھی نہیں کوئی
رہتا ہے گھر ہمارا سدا کربلا بنا
اک زخمِ دل تھا سو تھا تمہارا دیا ہوا
یوں مت کہو کہ کیا ہوا بولو کہ کیا بنا
تھا اس جہان میں بھی تماشائی میں کوئی
وہ کیا ہے اس جہاں میں جو میرے بنِا بنا
تازہ ہیں خاک میں بھی وہی ولولے حکیم
اک زخم کہہ رہا ہے کہ دل ہے نیا بنا
حکیم علی الوردي — دسمبر 4، 2019 1:40 شام
استاد محترم الف عین
الف عین — دسمبر 5، 2019 6:06 صبح
کہتا رہا نا تجھ سے مجھے مت خدا بنا
بننا نہیں تھا مجھ کو تو کیوں کبریا بنا
... دوسرا مصرع سمجھ نہیں سکا
ہستی کو بھی عدم کا کوئی نقشِ پا بنا
جو کچھ فنا بنا نہ بغیر از فنا بنا
.... اس کا بھی دوسرا مصرع بے معنی لگ رہا ہے
بے معنی ایک لفظ کو مت آسرا بنا
گر پھر بنا مجھے تو بنامِ خدا بنا
... یہ مطلع محاورہ کے لحاظ سے درست ہے اگرچہ دو لختی اا میں بھی ہے یا دونوں مصرعوں کا ربط میں سمجھ نہیں سکا
باقی اشعار درست ہیں محاورہ وغیرہ کے تعلق سے لیکن دو لخت بھی محسوس ہو رہے ہیں
اس میں
اک زخمِ دل تھا سو تھا تمہارا دیا ہوا
'تھا تمہارا' میں تنافر کا عیب ہے
.. سو وہ تمہاری عطا ہی تھی
سے مصرع خوبصورت ہو جائے گا
حکیم علی الوردي — دسمبر 5، 2019 11:14 صبح
بہت شکریہ، اس سے کافی مدد ہوئی۔
بے معنی ایک لفظ کو مت آسرا بنا
گر پھر بنا مجھے تو بنامِ خدا بنا
یہ شعر لفظِ کن کے بارے میں تھا کہ وہ بے معنی ہے اور صرف اللہ کا نام (بنامِ خدا) بامعنی ہے۔ شاید یہ مطلب ادا نہیں ہو سکا۔
الف عین — دسمبر 6، 2019 9:09 صبح
بہت شکریہ، اس سے کافی مدد ہوئی۔
یہ شعر لفظِ کن کے بارے میں تھا کہ وہ بے معنی ہے اور صرف اللہ کا نام (بنامِ خدا) بامعنی ہے۔ شاید یہ مطلب ادا نہیں ہو سکا۔
لفظ کُن کو بے معنی کہنا تو اور بھی عجیب ہے!
حکیم علی الوردي — دسمبر 6، 2019 5:48 شام
لفظ کُن کو بے معنی کہنا تو اور بھی عجیب ہے!
ممکن ہے۔ چلو اس کا متبادل ڈھونڈتا ہوں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-2-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.109400/