محمد خلیل الرحمٰن — اگست 25، 2013 5:06 صبح
غزل
محمد خلیل الرحمٰن
لوڈ شیڈنگ اس قدر ہے اس نگر میں دوستو!
اب چراغاں کرلیا ہے اپنے گھر میں دوستو!
ھائے گھی مہنگا ہوا ہے، اب پراٹھے چھوڑ کر
گھی چراغوں میں جلا ہے میرے گھر میں دوستو!
’’گو ذراسی بات پر برسوں کے یارانے گئے‘‘
لوگ پہچانے گئے ہیں اس سفر میں دوستو!
شوق منزل کا تھا لیکن رہنما کوئی نہ تھا
کِس قدر بھٹکے ہیں اس راہِ خضر میں دوستو!
قدر اُس گندُم کی روٹی کی نہ پوچھے اب کوئی
جِس نے ڈالا گردشِ شام و سحر میں دوستو!
منزلِ مقصود ہر پتھر کو سمجھے ہم خلیلؔ
سنگِ میل آتے گئے جب رہ گزر میں دوستو!
محمد اسامہ سَرسَری — اگست 25، 2013 6:27 صبح
بہت خوب جناب عالی بہت اعلیٰ۔
ماشاءاللہ۔
بہت سی داد ۔۔۔۔۔
محمد خلیل الرحمٰن — اگست 25، 2013 9:00 صبح
بہت خوب جناب عالی بہت اعلیٰ۔
ماشاءاللہ۔
بہت سی داد ۔۔۔ ۔۔
جزاک اللہ
محمد اسامہ سَرسَری بھائی۔
شمشاد — اگست 25، 2013 9:45 صبح
اتنی زیادہ فضول خرچی کہ گھی کے چراغ جلائے جا رہے ہیں۔
بہت داد قبول فرمائیں۔
محمد خلیل الرحمٰن — اگست 26، 2013 3:57 صبح
اتنی زیادہ فضول خرچی کہ گھی کے چراغ جلائے جا رہے ہیں۔
بہت داد قبول فرمائیں۔
لوڈ شیڈنگ سے بچنے کا صحیح طریقہ!!!!!
الف عین — اگست 26، 2013 4:17 صبح
گھی بچائیں اور نقلی تیل کے چراغ جلائیں!! اچھی غزل ہے۔ ’خضر‘ کا تلفظ دونوں طرح دیکھا گیا ہے، ض پر جزم کے ساتھ شاید بہتر ہو
لازم نہیں کہ خضر کی ہم پیروی کریں
جیہ — اگست 26، 2013 5:58 صبح
بہت خوب غزل ہے۔
میری رائے میں یہ سنجیدہ شاعری ہے اسے بلا وجہ ہی مزاحیہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔
محمد خلیل الرحمٰن انکل! نظر ثانی کی خواہش کے ساتھ داد قبول کریں
محمد خلیل الرحمٰن — اگست 26، 2013 6:01 صبح
اچھا تو پھر کوشش کریں گے کہ چند سنجیدہ اشعار اور لکھ ماریں اور ساتھ ساتھ غیر سنجیدہ مردودوں کو کان پکڑ کر غزل نکالا دے دیں۔ اب خوش؟
بہت خوب غزل ہے۔
میری رائے میں یہ سنجیدہ شاعری ہے اسے بلا وجہ ہی مزاحیہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔
محمد خلیل الرحمٰن انکل! نظر ثانی کی خواہش کے ساتھ داد قبول کریں
جیہ — اگست 26، 2013 6:04 صبح
اچھا تو پھر کوشش کریں گے کہ چند سنجیدہ اشعار اور لکھ ماریں اور ساتھ ساتھ غیر سنجیدہ مردودوں کو کان پکڑ کر غزل نکالا دے دیں۔ اب خوش؟
نہیں جی! غیر سنجیدہ اشعار کو دوسری غزل بنا دیں اضافے کر کے

محمد خلیل الرحمٰن — اگست 27، 2013 4:10 صبح
دیکھا جیہ بٹیا!
استادِ محترم جو اکثر اس بات پر ہمارے کان پکڑتے ہیں کہ ہم خواہی نخواہی ایک ہی غزل میں سنجیدہ اور غیر سنجیدہ مضامین کو خلط ملط کردیتے ہیں ، آج آپ کے توجہ دلانے پر چپکے سے متفق کا ٹیگ لگا کر چلتے بنے ہیں۔ اب ہم کیا کریں

جیہ — اگست 27، 2013 4:17 صبح
زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھیں

محمداحمد — اگست 27، 2013 7:10 صبح
بہت خوب خلیل الرحمٰن صاحب،
داد قبول کیجے۔