غزل "اس عاجزی پہ ہو کے پشیمان ایک دن" برائے اصلاح

سید اسد معروف — جنوری 12، 2016 9:58 صبح
غصے کے عالم میں لکھی گئی 2015 کی آخری
غزل
اس عاجزی پہ ہو کے پشیمان ایک دن
برپا کروں گا حشر کا سامان ایک دن
کردے گا آکے سامنے حیران ایک دن
مجھ میں چھپا ہوا کوئی شیطان ایک دن
اک اور ضرب تک ہے مری ذات کا سکوت
کردوں گا صور پھونک کے حیران ایک دن
اے کاش ان لبوں پہ جمی سرد خامشی
بن جائے پیش خیمہءِ طوفان ایک دن
اندر سے کاٹ کھائے گا میرے وجود کو
ناکام خواہشات کا سرطان ایک دن
تنہائیوں کی بھیڑ میں لے جائے گا ہمیں
آگے نکلتے رہنے کا رجحان ایک دن
حد سے بڑھا جو درد تو اکسیر ہو گیا
ہنسنے لگا میں ہو کے پریشان ایک دن
منسوب ہیں اسی سے مری سب کہانیاں
بدلوں گا ہر فسانے کا عنوان ایک دن
محفل میں سارے لوگ بہت باشعور ہیں
پہنچے گا مجھ تلک بھی یہ فیضان ایک دن

+++++++++++++
کردے گا سارے شہر کو ویران ایک دن
ایثار اور خلوص کا فقدان ایک دن
الجھیں گے بے سبب جو حکم ران ایک دن
مسند پہ بیٹھ جائے گا دربان ایک دن
مخمور ہے وہ جوشِ عقیدت سے اس قدر
حد سے گزر نہ جائے ثنا خوان ایک دن
الف عین — جنوری 12، 2016 4:52 شام
ماشاء اللہ درست ہے غزل مجموعی طور پر۔
مطلع میں ایطا کا تقص ہے، دونوں قوافی ’مان‘ پر ختم ہوتے ہیں۔ اس مطلع کو بدل کر عام شعر بنا دیں الفاظ بدل کر۔
کیا دو غزلے کی کوشش کی ہے، اثبات کے نشان کے بعد۔ اس غزل میں حکم ران کا تلفظ غلط استعمال ہوا ہے۔ اسکا وزن فاعلات ہونا چاہئے۔ یہاں مفاعیل استعمال ہوا ہے۔ ۔حُ کُ م ران، اصل میں کاف پر سکون ہوتا ہے۔
سید اسد معروف — جنوری 13، 2016 5:56 صبح
بہت شکریہ استادِ محترم۔
شکیب — جنوری 13، 2016 6:07 صبح
مطلع میں ”مان“ کی قید ہٹا دیں، بس!
باقی زبردست غزل ہے۔
حد سے بڑھا جو درد تو اکسیر ہو گیا
ہنسنے لگا میں ہو کے پریشان ایک دن
اس کے لیے الگ سے زبردست کی ریٹنگ قبول فرمائیں۔
سید اسد معروف — جنوری 13، 2016 6:16 صبح
پذیرائی کا بہت شکریہ شکیب بھائی۔
مطلع میں ”مان“ کی قید ہٹا دیں، بس!
باقی زبردست غزل ہے۔
اس کے لیے الگ سے زبردست کی ریٹنگ قبول فرمائیں۔
شکیب — جنوری 13، 2016 6:19 صبح
غصے کے عالم میں لکھی گئی 2015 کی آخری
:) :) :)
اس پر ابھی ابھی نظر پڑی۔ فانٹ چھوٹا ہوگیا ہے۔
سید اسد معروف — جنوری 13، 2016 6:33 صبح
بھائی۔ شرمندگی سے خود چھوٹا رکھا ہے(غصہ حرام جو ہے)
:) :) :)
اس پر ابھی ابھی نظر پڑی۔ فانٹ چھوٹا ہوگیا ہے۔
ظہیراحمدظہیر — جنوری 13، 2016 4:54 شام
اسد بھائی ۔ وہ واہ! کیا بات ہے ۔ ماشاء اللہ ۔ کئی اچھے اشعار ہیں ۔ کیا بات ہے آپ کے غصے کی !! اب آپ ہمیں یہ بتائیں کہ آپ کو غصہ کس طرح دلایا جاتا ہے۔ :)
سید اسد معروف — جنوری 14، 2016 3:58 صبح
ظہیر بھائی مہربانی ہے آپ احباب کی۔۔ رہی بات غصے کی تو کبھی آ ہی جاتا ہے;);)
حنیف خالد — جنوری 18، 2016 8:01 صبح
ماشاء اللہ بہت خوب غزل۔ ساری ہی غزل بہترین ہے مگر یہ شعر
اندر سے کاٹ کھائے گا میرے وجود کو
ناکام خواہشات کا سرطان ایک دن
تو بہت ہی خوب ہے ۔ بہت بہت داد قبول کیجئے۔
سید اسد معروف — جنوری 18، 2016 8:46 صبح
ماشاء اللہ بہت خوب غزل۔ ساری ہی غزل بہترین ہے مگر یہ شعر
تو بہت ہی خوب ہے ۔ بہت بہت داد قبول کیجئے۔

اس حوصلہ افزائی کے لئے بہت ممنون ہوں خالد بھائی۔بہت شکریہ
محمد تابش صدیقی — جنوری 18، 2016 8:49 صبح
واہ، بہت خوب اسد بھائی
کردے گا سارے شہر کو ویران ایک دن
ایثار اور خلوص کا فقدان ایک دن
ابن رضا — جنوری 18، 2016 10:12 صبح
واہ بہت خوب
کاشف اسرار احمد — جنوری 18، 2016 7:06 شام
اچھی غزل ہے ما شا اللہ۔
بس ایطا کو دور کر دیں۔
سید اسد معروف — جنوری 19، 2016 8:06 صبح
بہت شکریہ ابنِ رضا بھائی
سید اسد معروف — جنوری 19، 2016 8:07 صبح
اچھی غزل ہے ما شا اللہ۔
بس ایطا کو دور کر دیں۔
شکریہ کاشف بھائی۔ تصحیح کے بعد حاضر ہوتا ہوں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A7%D8%B3-%D8%B9%D8%A7%D8%AC%D8%B2%DB%8C-%D9%BE%DB%81-%DB%81%D9%88-%DA%A9%DB%92-%D9%BE%D8%B4%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%AF%D9%86-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.87116/