غزل" اسیر الفت" برائ اصلاح

Hassan naqvi — مارچ 28، 2016 7:58 صبح
اسیر الفت کو اپنے یوں تیرا دیکھنا
قید دار و رسن سے کچھ کم تو نہیں
اپنی پلکوں کے نشتر یوں تیرا مارنا
جام زہر ہلاہل سے کچھ کم تو نہیں
بن کے سنور کے یوں تیرا ٹہلنا
عکس مہتاب سے کچھ کم تو نہیں
تیرے ہاتھوں میں طاقت تسخیر ہے کلائیوں کو اک بار اٹھا کر تو دیکھو
حسن صورت کا چرچا جہاں گیر ہے
آنگن سے اپنے نکل کر تو دیکھو
حسن تو محبت کی تصویر ہے
خدوخال جاناں بنا کر تو دیکھو
الف عین — مارچ 29، 2016 4:34 شام
غزل یا نظم جس کا عنوان دیا گیا ہے۔ غزل کی صورت میں دو غزلوں کی کوشش کی گئی ہے۔
بحر و اوزان اور مزاج میں توازن پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A7%D8%B3%DB%8C%D8%B1-%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.88903/