غزل اصلاح کی خاطر پیشِ خدمت ہے

امان زرگر — فروری 26، 2017 10:17 صبح
سر الف عین
سر محمد ریحان قریشی
محترمہ La Alma
سر راحیل فاروق
فاعلاتن مفاعلن فعلن
۔
قصہ درد بھی کبھی لکھنا
اپنی عادت رہی خوشی لکھنا
چارہ سازوں سے بس روا نہ ہوا
اک تسلی کا حرف ہی لکھنا
یہ جو حالت خراب ہے اپنی
تم سبب اس کا دلبری لکھنا
موسمِ گل خزاں بداماں سے
حالِ گلچیں کی خستگی لکھنا
بزمِ رنداں، بروئے ساقی یوں
جام و ساغر کی تشنگی لکھنا
دشتِ دل میں پئے نمو غم ہیں
روگِ جاں ذوقِ تازگی لکھنا
محمد ریحان قریشی — فروری 26، 2017 10:40 صبح
نفی کا درست وزن فاع ہے۔
زیادہ تر اشعار کے مصرعوں کا ربط واضح نہیں ہے۔
امان زرگر — فروری 26، 2017 10:46 صبح
نفی کا درست وزن فاع ہے۔
زیادہ تر اشعار کے مصرعوں کا ربط واضح نہیں ہے۔
آپ نےقابلِ تبصرہ سمجھا ،آپ کی ذرہ نوازی۔۔ بہت شکریہ
امان زرگر — فروری 26، 2017 1:48 شام
لفظ نفی کی اصلاح کے حوالے سے تدوین کی ہے. ذرا دیکھئے گا.
محمد ریحان قریشی
محمد ریحان قریشی — فروری 26، 2017 1:51 شام
لفظ نفی کی اصلاح کے حوالے سے تدوین کی ہے. ذرا دیکھئے گا.
‏@محمد ریحان قریشی
درست ہے اب۔
امان زرگر — فروری 26، 2017 2:05 شام
موسمِ گل خزاں بداماں سے
حال گلچیں کی خستگی لکھنا
سر محمد ریحان قریشی
محمد ریحان قریشی — فروری 26، 2017 3:00 شام
موسمِ گل خزاں بداماں سے
حال گلچیں کی خستگی لکھنا
سر محمد ریحان قریشی
درست ہی دکھائی دے رہا ہے۔
امان زرگر — فروری 26، 2017 5:01 شام
ریحان بھائی آپ کے مراسلے میں لفظِ ہی اشکال پیدا کر رہا ہے، وضاحت فرما دیں۔
درست ہی دکھائی دے رہا ہے۔
محمد ریحان قریشی — فروری 26، 2017 5:17 شام
ریحان بھائی آپ کے مراسلے میں لفظِ ہی اشکال پیدا کر رہا ہے، وضاحت فرما دیں۔
مراد یہ ہے کہ تھوڑا دقیق ہے۔ گلچیں عاشق ہے،گل محبوب، بہار کا موسم خزاں بداماں ہے یعنی رشکِ خزاں ہے۔ عاشق کی خستگی کا حال موسم کو لکھنا ہے یعنی گلہ تقدیر سے ہے۔
خزاں بداماں محلِ نظر ہے۔ رشکِ خزاں کہنا ہی بہتر ہوتا مگر بحر اس کی اجازت نہیں دیتی۔
امان زرگر — فروری 26، 2017 5:28 شام
بزمِ رنداں، بروئے ساقی یوں
جام و ساغر کی تشنگی لکھنا
اس کو کیا نکال دیا جائے؟
سر محمد ریحان قریشی
محمد ریحان قریشی — فروری 26، 2017 5:33 شام
اس کا مفہوم سمجھا دیں تو تب ہی کوئی رائے دے سکوں گا۔ فی الحال تو میرے لیے بعید از فہم ہے۔
امان زرگر — فروری 26، 2017 5:43 شام
شاید اس طرح قابلِ فہم ہو سکے۔
بزمِ رنداں، بروئے ساقی یوں
لَبِ لَعلِیں کی تشنگی لکھنا
یا
اس طرح کر دیا جائے
بزمِ رنداں میں ساقیا کیوں ہے
لَبِ لعلیں کی تشنگی لکھنا
.
محترمہ La Alma
بزمِ رنداں، بروئے ساقی یوں
جام و ساغر کی تشنگی لکھنا

اس کا مفہوم سمجھا دیں تو تب ہی کوئی رائے دے سکوں گا۔ فی الحال تو میرے لیے بعید از فہم ہے۔
La Alma — فروری 26، 2017 8:32 شام
ساعتِ درد بھی کبھی لکھنا
اپنی عادت رہی خوشی لکھنا
قصّہِ درد کہیں تو ؟
قصّہِ درد بھی کبھی لکھنا
اپنی عادت رہی خوشی لکھنا
چند جگہوں پر آپ نے اپنے قاری کو عجب مخمصے میں ڈال دیا ہے کچھ اشعار کے خود سے معانی اخذ کرنے پڑ رہے ہیں .
موسمِ گل خزاں بداماں سے
حالِ گلچیں کی خستگی لکھنا
شاید آپ موسمِ گل سے باغبان کی خستہ حالی کا ذکر کرنا چاہ رہے ہیں . کہ گل چیں کی بدولت چمن میں رونق تو آ گئی ہے لیکن اس کی اپنی حالت دگرگوں ہے .
لیکن پھر شعر یوں ہوتا
موسمِ گل خزاں بداماں سے
حالِ گلچیں کی خستگی کہنا .
" لکھنا" سے وہ تاثر پیدا نہیں ہوتا
بزمِ رنداں، بروئے ساقی یوں
جام و ساغر کی تشنگی لکھنا
کیا آپ کا مقصود یہ ہے ، "کہ مےکشوں کی محفل ہے، ساقی بھی روبرو ہے لیکن پھر بھی تشنہ کامی ہے ؟"
مجھے لگتا ہے ردیف ساتھ نہیں نبھا رہی
دشتِ دل میں پئے نمو غم ہیں
روگِ جاں ذوقِ تازگی لکھنا
یہاں بھی کم و بیش وہی معاملہ ہے .
امان زرگر — فروری 27، 2017 2:16 صبح
بہت شکریہ محترمہ La Alma تو اس معاملہ کا حل بھی تو تجویز ہو!
امان زرگر — فروری 27، 2017 6:48 صبح
موسمِ گل خزاں بداماں سے
حالِ گلچیں کی خستگی لکھنا
اس کو اس طرح کر دیں اگر
موسمِ گل خزاں بداماں سے
دست گلچیں کی خستگی لکھنا
سر محمد ریحان قریشی
محترمہ La Alma
سر الف عین
محمد ریحان قریشی — فروری 27، 2017 6:52 صبح
شاید آپ موسمِ گل سے باغبان کی خستہ حالی کا ذکر کرنا چاہ رہے ہیں . کہ گل چیں کی بدولت چمن میں رونق تو آ گئی ہے لیکن اس کی اپنی حالت دگرگوں ہے .
معذرت مگر گلچیں کی بدولت چمن میں رونق کیسے آئے گی؟
La Alma — فروری 27، 2017 7:20 صبح
معذرت مگر گلچیں کی بدولت چمن میں رونق کیسے آئے گی؟
اگر مالی چمن کی دیکھ بھال نہیں کرے گا . بیل بوٹے نہیں لگائے گا ، پودوں کو وقت پر پانی نہیں دے گا ان کی کاٹ چھانٹ ، تراش خراش نہیں کرے گا ، گلشن تو پھر ویران ہی ہو گا .
La Alma — فروری 27، 2017 7:22 صبح
بہت شکریہ محترمہ La Alma تو اس معاملہ کا حل بھی تو تجویز ہو!
آپ کے اصل مدعا کی طرف رسائی ہو تو پھر ہی کوئی تجویز دی جا سکتی ہے .
محمد ریحان قریشی — فروری 27، 2017 7:28 صبح
اگر مالی چمن کی دیکھ بھال نہیں کرے گا . بیل بوٹے نہیں لگائے گا ، پودوں کو وقت پر پانی نہیں دے گا ان کی کاٹ چھانٹ ، تراش خراش نہیں کرے گا ، گلشن تو پھر ویران ہی ہو گا .
گلچیں پھول چننے والے کو کہتے ہیں باغبان کو نہیں۔
الف عین — فروری 27، 2017 7:31 صبح
گلچیں کا مطلب مالی کب سے ہونے لگا، مجھے اس کا علم نہیں!!
پ“ہلے تو یہ لکھوں کہ اولیں مراسلے میں تدوین نہ کی جائے، اصلاح کے بعد تاکہ دوسروں کو بھی پتہ چل سکے کہ اصل کیا تھا۔ میں ابھی آصیا ہوں تو مجھے معلوم نہیں ہو سکا کہ ’نفی‘ بر وزن فعو کہاں استعمال ہوا ہے!!
چارہ سازوں سے بس روا نہ ہوا
اک تسلی کا حرف ہی لکھنا
۔۔ یہاں مراد یہ ہے نا کہ چارہ سوازوں کو اتنا بھی گوارا نہ ہوا، لیکن گوارا کی جگہ جو روا لکھا گیا ہے، تو ’روانہ‘ پڑھا اور سنا جاتا ہے“ بمعنی چلا گیا!! میرے خیال میں
چارہ سازوں سے اتنا بھی نہ ہوا
سے بات واضح اور بہتر ہو جاتی ہے۔
یہ شعر سمجھ میں ب ھی نہیں آیا
دشتِ دل میں پئے نمو غم ہیں
روگِ جاں ذوقِ تازگی لکھنا
اور ’روگِ جاں‘ بہر حال غلط ہے کہ روگ سنسکرت لفظ ہے، اس کے ساتھ اضافت نہیں لگ سکتی۔
باقی پر گفتگو ہو چکی ہے
صفحات: 1 2 3 4

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%DA%A9%DB%8C-%D8%AE%D8%A7%D8%B7%D8%B1-%D9%BE%DB%8C%D8%B4%D9%90-%D8%AE%D8%AF%D9%85%D8%AA-%DB%81%DB%92.95047/