غزل برائے اصلاح(5)

انیس جان — اکتوبر 11، 2018 4:12 شام
اٹھنا مت بالیں سے میرے یار آج
مرنے والا ہے ترا بیمار آج
ذبح کرتے کرتے ہائے پھر گئے
(ذبح کرتے کرتے وہ کیوں پھر گئے )
کیا ہوا اے طالعِ بیدار آج
وہ اگر بوسہ بھی دے تو میں نہ لوں
توڑنا ہے حسن کا پندار آج
جائے جو سر جاتا ہے اس میں مرا
کرنا ہی ہے پیار کا اظہار آج

واں پہ جانا اے انیس اچّھا نہیں
بزم میں ہیں ہر طرف اغیار آج
انیس جان — اکتوبر 11، 2018 4:13 شام
الف عین
یاسر شاہ
محمد خلیل الرحمٰن
ارشد چوہدری — اکتوبر 12، 2018 1:27 صبح
اسلام علیکم ۔ باقی باتیں تو اساتذہ دیکھیں گے۔ مقطع میں ایک غلطی کی نشاندہی کرنا چاہتا ہوں۔ اغیار غیر کی جمع ہے ۔ اس لئے (بزم میں ہیں ہر طرف اغیار آج )
انیس جان — اکتوبر 12، 2018 6:14 شام
محمد ریحان قریشی
محمد ریحان قریشی — اکتوبر 12، 2018 6:22 شام
یوں تو غزل درست ہے مگر اشعار کی بندش کچھ سست معلوم ہوتی ہے۔ کوشش کریں کہ الفاظ میں الِف کا اسقاط کم سے کم ہو۔
الف عین — اکتوبر 13، 2018 7:01 صبح
درست ہے غزل
بوسہ بازی کا شوق کچھ زیادہ ہی نہیں کیا؟
انیس جان — اکتوبر 13، 2018 1:23 شام
درست ہے غزل
بوسہ بازی کا شوق کچھ زیادہ ہی نہیں کیا؟
بس کیا کریں استاد صاحب داغ مرحوم کا کلام پڑھ پڑھ کر
اوپر سے طبیعت بھی داغ جیسی واقع ہوئی ہے تو اسی طرح کے مضامین خیال میں آتے ہیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-5.103648/