غزل برائے اصلاح---طرب کے پھول سے گلدان کو سجا کے رکھ

منذر رضا — اپریل 15، 2019 7:21 صبح
السلام علیکم!
اساتذہ سے اصلاح کی درخواست ہے۔
الف عین
یاسر شاہ
فلسفی
سید عاطف علی
طرب کے پھول سے گلدان کو سجا کے رکھ
متاعِ درد خزاں کے لیے بچا کے رکھ
شبِ فراق میں دل کا دیا جلا کے رکھ
چراغِ بزمِ طرب کو ذرا بجھا کے رکھ
کبھی چراغِ جنوں بھی جلا تو اے ہمدم!
کبھی تو شمعِ خرد سامنے ہوا کے رکھ
وفا شناس ہو دنیا تو کھول دے یہ بھید
وگرنہ رازِ وفا قلب میں چھپا کے رکھ
اگر تجھے رہِ عشق و وفا پہ چلنا ہے
خیالِ سود و زیاں ذہن سے مٹا کے رکھ
مقابلہ ہے براہیمِ عقل سے تیرا
دیارِ دل میں نئے بت بنا بنا کے رکھ
کسی جمال کے قصے سنا یگانہ مگر
بنائے قصرِ ستمگر کو بھی ہلا کے رکھ!
شکریہ!
فلسفی — اپریل 15، 2019 7:26 صبح
مقابلہ ہے براہیمِ عقل سے تیرا
دیارِ دل میں نئے بت بنا بنا کے رکھ

کسی جمال کے قصے سنا یگانہ مگر
بنائے قصرِ ستمگر کو بھی ہلا کے رکھ!
یہ دو شعر میں سمجھ نہیں پایا۔
منذر رضا — اپریل 15، 2019 7:29 صبح
فلسفی
پہلے شعر میں عقل و جنوں کے مقابلے کا ذکر ہے۔ جبکہ دوسرے شعر میں انقلاب و رومان کو مدغم کرنے کی بات کی گئی ہے۔
الف عین — اپریل 15، 2019 10:40 صبح
مقطع کے علاوہ سب درست ہے، اس سے وہ مطلب ظاہر نہیں ہوتا جو تم نے بتایا ہے
سعید احمد سجاد — اپریل 15، 2019 11:13 صبح
السلام علیکم!
اساتذہ سے اصلاح کی درخواست ہے۔
الف عین
یاسر شاہ
فلسفی
سید عاطف علی
طرب کے پھول سے گلدان کو سجا کے رکھ
متاعِ درد خزاں کے لیے بچا کے رکھ
شبِ فراق میں دل کا دیا جلا کے رکھ
چراغِ بزمِ طرب کو ذرا بجھا کے رکھ
کبھی چراغِ جنوں بھی جلا تو اے ہمدم!
کبھی تو شمعِ خرد سامنے ہوا کے رکھ
وفا شناس ہو دنیا تو کھول دے یہ بھید
وگرنہ رازِ وفا قلب میں چھپا کے رکھ
اگر تجھے رہِ عشق و وفا پہ چلنا ہے
خیالِ سود و زیاں ذہن سے مٹا کے رکھ
مقابلہ ہے براہیمِ عقل سے تیرا
دیارِ دل میں نئے بت بنا بنا کے رکھ
کسی جمال کے قصے سنا یگانہ مگر
بنائے قصرِ ستمگر کو بھی ہلا کے رکھ!
شکریہ!
السلامُ علیکم !
طرب کے پھول سے گلدان کو سجا کے رکھ
متاعِ درد خزاں کے لیے بچا کے رکھ
اس شعر میں پہلے فقرے میں پھول واحد استعمال ہو رہا ہے جو میرے خیال سے ترکیب ٹھیک نہیں ہے گلدان میں پھولوں کا عمومًا گلدستہ سجایا جاتا ہے
اور خزاں کا موسم تو اپنے ساتھ درد لے کر آتا ہے دو لختی ہے
شبِ فراق میں دل کا دیا جلا کے رکھ
چراغِ بزمِ طرب کو ذرا بجھا کے رکھ
اس شعر کا مفہوم میری سمجھ میں نہیں آیا میرے خیال میں یہاں بھی دولختی ہے۔
کبھی چراغِ جنوں بھی جلا تو اے ہمدم!
کبھی تو شمعِ خرد سامنے ہوا کے رکھ
بہت خوب
وفا شناس ہو دنیا تو کھول دے یہ بھید
وگرنہ رازِ وفا قلب میں چھپا کے رکھ
ٹھیک ہے
اگر تجھے رہِ عشق و وفا پہ چلنا ہے
خیالِ سود و زیاں ذہن سے مٹا کے رکھ
یہ بھی ٹھیک ہے
مقابلہ ہے براہیمِ عقل سے تیرا
دیارِ دل میں نئے بت بنا بنا کے رکھ
یہ شعر بھی سمجھ میں نہیں آیا کہ منظر بھائی آپ کہنا کیا چاہتے ہیں ابراہیم کا عقل سے مقابلہ اور پھر دل میں بتوں کو بنا بنا کر رکھنے سے کیا ہو گا کچھ سمجھ نہیں آئی اس کا مطلب مجھے تو واضح نہیں لگا
باقی استاد محترم الف عین اور یاسر صاحب بہتر مشورہ دیں گے

منذر رضا — اپریل 15، 2019 11:18 صبح
الف عین صاحب۔۔۔۔مقطع کو نکال ہی دیتا ہوں۔۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%B7%D8%B1%D8%A8-%DA%A9%DB%92-%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%84-%D8%B3%DB%92-%DA%AF%D9%84%D8%AF%D8%A7%D9%86-%DA%A9%D9%88-%D8%B3%D8%AC%D8%A7-%DA%A9%DB%92-%D8%B1%DA%A9%DA%BE.106431/