غزل برائے اصلاح:- مرے گھر میں تھا ہر سامان لکڑی کا

عمران سرگانی — جولائی 19، 2018 6:56 شام
سر الف عین و دیگر اساتذہ سے اصلاح کی درخواست ہے۔
افاعیل:-
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
بنا ہو جسم اک بے جان لکڑی کا
ہو پودا پیار کا ، گلدان لکڑی کا
جلا ڈالے گی تیرے حسن کی یہ آگ
مرا دل بھی ہے مری جان لکڑی کا
ہے دیمک سے بچاؤ کے لئے گر تیل
سنو! ہے اس میں بھی نقصان لکڑی کا
ہے گھر کا فرد گھر کے اک ستوں کی طرح
کہ جیسے بن گیا انسان لکڑی کا
مرے گھر میں لگی تھی اس لئے یہ آگ
مرے گھر میں تھا ہر سامان لکڑی کا
شکریہ۔۔۔
الف عین — جولائی 20، 2018 10:45 صبح
تکنیکی طور پر تو صرف "مری جاں" غلط ہے کہ بحر میں 'میری جاں' آتا ہے۔ لیکن اکثر جگہ الفاظ کی نشست میں چستی نہیں محسوس ہو رہی ہے۔ بطور خاص یہ شعر
ہے دیمک سے بچاؤ کے لئے گر تیل
سنو! ہے اس میں بھی نقصان لکڑی کا
آخری شعر میں "یہ آگ" سے کون سی آگ مراد ہے؟
عمران سرگانی — جولائی 20، 2018 12:01 شام
تکنیکی طور پر تو صرف "مری جاں" غلط ہے کہ بحر میں 'میری جاں' آتا ہے۔ لیکن اکثر جگہ الفاظ کی نشست میں چستی نہیں محسوس ہو رہی ہے۔ بطور خاص یہ شعر
ہے دیمک سے بچاؤ کے لئے گر تیل
سنو! ہے اس میں بھی نقصان لکڑی کا
آخری شعر میں "یہ آگ" سے کون سی آگ مراد ہے؟
جی سر لفظ ' میری جاں ' ہی ہے۔۔۔ غلطی سے مری جاں لکھا گیا۔۔۔
باقی میں کوشش کرتا ہوں بہتر کرنے کی۔۔۔
عمران سرگانی — جولائی 20، 2018 12:04 شام
آخری شعر کچھ اس طرح کردیا ہے۔
مرے گھر میں لگی کچھ اس لئے بھی آگ
مرے گھر میں تھا ہر سامان لکڑی کا
عمران سرگانی — جولائی 21، 2018 8:56 صبح
سر الف عین کیا اب کچھ بہتر ہوئی ہے؟؟؟
بنا ہو جسم اک بے جان لکڑی کا
ہو پودا پیار کا ، گلدان لکڑی کا
جلا ڈالے گی تیرے حسن کی یہ آگ
مرا دل بھی ہے میری جان لکڑی کا
ہاں دیمک سے بچاؤ کے لئے ہے تیل
مگر ہے اس میں بھی نقصان لکڑی کا
ہے گھر کا فرد گھر کے اک ستوں جیسا
بنا ہے جیسے ہر انسان لکڑی کا
مرے گھر میں لگی کچھ اس لئے بھی آگ
مرے گھر میں تھا ہر سامان لکڑی کا
عمران سرگانی — جولائی 24، 2018 7:43 شام
سر الف عین آپکی رائے کا انتظار ہے۔۔۔
الف عین — جولائی 25، 2018 9:16 صبح
یوں کیسا رہے گا یہ شعر
میسر تیل ہے دیمک سے بچنے کو
مگر اس میں بھی ہے ۔۔۔۔۔
الف عین — جولائی 25، 2018 9:17 صبح
باقی درست ہے
عمران سرگانی — جولائی 25، 2018 9:20 صبح
یوں کیسا رہے گا یہ شعر
میسر تیل ہے دیمک سے بچنے کو
مگر اس میں بھی ہے ۔۔۔۔۔
جی سر زبردست ہو گیا۔۔۔ بہت نوازش۔۔۔
میسر تیل ہے دیمک سے بچنے کو
مگر اس میں بھی ہے نقصان لکڑی کا
عمران سرگانی — جولائی 25، 2018 9:21 صبح
بنا ہو جسم اک بے جان لکڑی کا
ہو پودا پیار کا ، گلدان لکڑی کا
جلا ڈالے گی تیرے حسن کی یہ آگ
مرا دل بھی ہے میری جان لکڑی کا
میسر تیل ہے دیمک سے بچنے کو
مگر اس میں بھی ہے نقصان لکڑی کا
ہے گھر کا فرد گھر کے اک ستوں جیسا
بنا ہے جیسے ہر انسان لکڑی کا
مرے گھر میں لگی کچھ اس لئے بھی آگ
مرے گھر میں تھا ہر سامان لکڑی کا
عمران سرگانی — جولائی 25، 2018 9:46 صبح
سر الف عین ایک شعر کا اضافہ کیا ہے۔۔۔
ترے غم میں بنا ہے سوکھ کر لکڑی
گھنا جنگل جو تھا عمران لکڑی کا
یا
شجر تھا پر نہ تھا عمران لکڑی کا
الف عین — جولائی 25، 2018 9:56 صبح
سر الف عین ایک شعر کا اضافہ کیا ہے۔۔۔
ترے غم میں بنا ہے سوکھ کر لکڑی
گھنا جنگل جو تھا عمران لکڑی کا
مزا نہیں آیا۔ لکڑی کا جنگل سوکھ کر لڑکی تو نہیں بن جاتا!
عمران سرگانی — جولائی 25، 2018 9:58 صبح
مزا نہیں آیا۔ لکڑی کا جنگل سوکھ کر لڑکی تو نہیں بن جاتا!
جی سر تدوین کی۔۔۔
آخری مصرعہ یوں کر دیا ہے
شجر تھا پر نہ تھا عمران لکڑی کا
عمران سرگانی — جولائی 25، 2018 10:05 صبح
یا سر الف عین اس طرح زیادہ بہتر رہے گا۔۔۔
ترے غم میں بنا ہے سوکھ کر لکڑی
نہیں تھا وہ شجر عمران لکڑی کا
عمران سرگانی — جولائی 25، 2018 10:41 صبح
کسے پھر کون کشتی سے گرائے گا
سجا ہے پانی پر میدان لکڑی کا
عظیم — اگست 10، 2018 1:39 شام
مزا نہیں آیا۔ لکڑی کا جنگل سوکھ کر لڑکی تو نہیں بن جاتا!
مزا کو میں مزہ لکھتا تھا

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%85%D8%B1%DB%92-%DA%AF%DA%BE%D8%B1-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AA%DA%BE%D8%A7-%DB%81%D8%B1-%D8%B3%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%86-%D9%84%DA%A9%DA%91%DB%8C-%DA%A9%D8%A7.102368/