منذر رضا — اگست 6، 2019 6:21 شام
السلام علیکم،
اساتذہ سے اصلاح کی درخواست ہے
الف عین
یاسر شاہ
سید عاطف علی قید و بندِ وجود سے نکلیں
روز و شب کے جمود سے نکلیں
یا تو اس سے کوئی سبق لیں، یا
قصۂ عاد و ہود سے نکلیں
آؤ ذکرِ جمالِ یار کریں
بحثِ غیب و شہود سے نکلیں
اب کے گمنام رہ کے کام کریں
آرزوئے نمود سے نکلیں
آپ اپنا جہاں بنائیں ہم
ملکِ چرخِ کبود سے نکلیں
دیدۂ دل کھلی، یگانہ ہم
اب طلسمِ وجود سے نکلیں
شکریہ!
الف عین — اگست 7، 2019 5:45 صبح
اچھی غزل ہے بس یہ دو اشعار کچھ قابل توجہ ہیں
آپ اپنا جہاں بنائیں ہم
ملکِ چرخِ کبود سے نکلیں
یہ لگتا ہے کہ محض قافیہ استعمال کرنے کے لیے شعر کہا گیا ہے، آسمان کا ملک کسے کہا جا رہا ہے؟
دیدۂ دل کھلی، یگانہ ہم
اب طلسمِ وجود سے نکلیں
... دیدہ مذکر ہے،؛ س کے ساتھ 'کھلا' ہونا چاہیے۔ ویسے یہاں 'کھل گیا' بہتر ہے
چشمِ دل کھل گئی،... کیسا رہے گا؟
منذر رضا — اگست 7، 2019 5:53 صبح
بہت شکریہ
الف عین صاحب۔
یہ متبادل ذہن میں آیا ہے
آپ اپنا جہاں بنائیں ہم
آسماں کی حدود سے نکلیں
کیا یہ ٹھیک ہے؟
ممنون ہوں۔
الف عین — اگست 7، 2019 6:14 صبح
بہت شکریہ
الف عین صاحب۔
یہ متبادل ذہن میں آیا ہے
آپ اپنا جہاں بنائیں ہم
آسماں کی حدود سے نکلیں
کیا یہ ٹھیک ہے؟
ممنون ہوں۔
پہلے مصرع میں کچھ پرواز کی بات ہو تو ابلاغ میں آسانی ہو، ورنہ یہی بہتر ہے
منذر رضا — اگست 7، 2019 6:48 صبح
الف عین
حضرت یہ دیکھیے۔
ہے اگر زعمِ طاقتِ پرواز
تو فلک کی حدود سے نکلیں
میم الف — اگست 7، 2019 8:11 صبح
یگانہ آپ کا تخلص ہے؟
میم الف — اگست 7، 2019 9:07 صبح
بہت اچھے اشعار لکھے ہیں یگانہ بھائی
قصۂ عاد و ہود کیا تھا؟
کچھ اِس بارے میں بتائیں گے۔۔
منذر رضا — اگست 7، 2019 10:05 صبح
شکریہ
میم الف بھائی۔
قصۂ عاد و ہود حضرت ہود علیہ السلام اور ان کی قوم کا قصہ ہے۔ قوم نے حضرت ہود کی باتیں نہیں مانی اور نتیجتاً ایک آفت نے انہیں آ لیا۔
تفصیل علما ہی بہتر دے سکتے ہیں۔
میم الف — اگست 7، 2019 10:23 صبح
آپ کے خیالات بہت اچھے لگے۔
اللہ کرے آپ کے فن میں مزید پختگی آئے، آمین!
منذر رضا — اگست 7، 2019 10:34 صبح
میم الف بھائی! نیک تمناؤں کے لئے ممنون ہوں۔ اللہ آپ کی زبان مبارک کرے۔
الف عین — اگست 8، 2019 6:31 صبح
الف عین
حضرت یہ دیکھیے۔
ہے اگر زعمِ طاقتِ پرواز
تو فلک کی حدود سے نکلیں
تو فلک' کی بجائے' آسماں' ہی کہا جائے جو اصل مصرع تھا
درست ہے شعر