احمد وصال — جنوری 17، 2017 4:49 صبح
نظر ہے میری راہ پہ دل میں اضطرار ہے
بنا ہوں مثلِ سنگِ میل کیسا انتظار ہے
یہ آنا جانا رات کا، یہ چاند تارے ، جتنے ہیں
یہ خار و گل ، ہر ایک شے خدا کی شاہکار ہے
میں امتی رسول کا، جو خاتمِ رسول ہے
ہوں کلمہ گو محمدی، یہ وجہ افتخار ہے
اگر وفا کا کھیل ہے شکست ایک جیت ہے
یہاں کبھی گرا نہیں جو اصل شہسوار یے
دیا تھا پھول تم نے جو ہے اب تلک کتاب میں
وہ پھول بیتے لمحوں کا حسین یادگار ہے
اٹھے نظر تو صبح ہے ، جھکے نظر تو شام ہے
تری نظر پہ زندگی کا نظم استوار ہے
وصال تم غزل لکھو فضا بنی غزل کی ہے
عروج پہ ہے ہجر اور دل بھی سوگوار ہے
احمد وصال — جنوری 17، 2017 4:52 صبح
محترم
الف عین ، محترم
راحیل فاروق ، محترم
ظہیراحمدظہیر
محترم
محمد ریحان قریشی سے
رھنمائی اور اصلاح کی درخواست ہے
ڈاکٹرعامر شہزاد — جنوری 17، 2017 5:27 صبح
نظر ہے میری راہ پہ دل میں اضطرار ہے
بنا ہوں مثلِ سنگِ میل کیسا انتظار ہے
بہت خوب ۔۔ زبردست
میں امتی رسول کا، جو خاتمِ رسول ہے
ہوں کلمہ گو محمدی، یہ وجہ افتخار ہے
سبحان اللہ بہت ہی پیارا شعر ہے ۔۔
باقی اصلاح اور رہنمائی تو اساتذہ ہی کریں گے ۔
ظہیراحمدظہیر — جنوری 17، 2017 5:39 صبح
بھائی اچھی غزل ہے ۔ بہت داد آپ کے لئے ۔ کئی ٹائپو ہیں انہیں درست کر لیجئے ۔ فی الوقت کچھ لسانی لغزشوں کی طرف اشارہ کرتا ہوں ۔ دیکھ لیجئے۔
یہ خار و گل ، ہر ایک شے خدا کی شاہکار ہے
۔۔۔۔۔۔ خدا کا شاہکار ہے
میں امتی رسول کا، جو خاتمِ رسول ہے
یہاں خاتمِ رسل ہونا چاہئے ۔
وہ پھول بیتے لمحوں کا حسین یادگار ہے
۔۔۔۔ لمحوں کی حسین یادگار ہے
تری نظر پہ زندگی کا نظم استوار ہے
زندگی کا نظم ؟! نظم کا اس طرح استعمال محلِ نظر ہے ۔ یہ عموما نظم و نسق، نظم و ضبط وغیر کی صورت مین استعمال ہوتا ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب۔
الف عین — جنوری 17، 2017 6:22 صبح
زندگی کا نظم میرے خیال میں قبول کیا جا سکتا ہے۔
لیکن پہلا ہی مصرع وزن میں نہیں ہے۔
نظر ہے میری راہ پہ دل میں اضطرار ہے
’پہ‘ کو تو ’پر‘ کیا جا سکتا ہے کہ مکمل وزن میں آتا ہے۔ لیکن ‘دل‘نہیں ’دلوں‘ بحر میں آتا ہے۔ ورنہ محض فاعلن رہ جاتا ہے، مفاعلن کی جگہ
احمد وصال — جنوری 17، 2017 10:33 صبح
بھائی اچھی غزل ہے ۔ بہت داد آپ کے لئے ۔ کئی ٹائپو ہیں انہیں درست کر لیجئے ۔ فی الوقت کچھ لسانی لغزشوں کی طرف اشارہ کرتا ہوں ۔ دیکھ لیجئے۔
۔۔۔۔۔۔ خدا کا شاہکار ہے
یہاں خاتمِ رسل ہونا چاہئے ۔
۔۔۔۔ لمحوں کی حسین یادگار ہے
زندگی کا نظم ؟! نظم کا اس طرح استعمال محلِ نظر ہے ۔ یہ عموما نظم و نسق، نظم و ضبط وغیر کی صورت مین استعمال ہوتا ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب۔
جزاکم اللہ خیر۔۔ سر آپ کی ہدایت کے مطابق درستگی کرتا ہوں
احمد وصال — جنوری 17، 2017 10:34 صبح
زندگی کا نظم میرے خیال میں قبول کیا جا سکتا ہے۔
لیکن پہلا ہی مصرع وزن میں نہیں ہے۔
نظر ہے میری راہ پہ دل میں اضطرار ہے
’پہ‘ کو تو ’پر‘ کیا جا سکتا ہے کہ مکمل وزن میں آتا ہے۔ لیکن ‘دل‘نہیں ’دلوں‘ بحر میں آتا ہے۔ ورنہ محض فاعلن رہ جاتا ہے، مفاعلن کی جگہ
جزاکم اللہ خیر سر۔ جی درستی کے بعد دوبارہ پیش کرتا ہوں
احمد وصال — جنوری 17، 2017 10:46 صبح
بہت خوب ۔۔ زبردست
سبحان اللہ بہت ہی پیارا شعر ہے ۔۔
باقی اصلاح اور رہنمائی تو اساتذہ ہی کریں گے ۔
مشکور ہوں جناب۔۔ جزاکم اللہ خیر
احمد وصال — جنوری 18، 2017 5:56 صبح
درستی کے بعد غزل دوبارہ پیش خدمت ہے
-------------؛--------------؛----------؛---------؛----------؛--------
نظر ہے میری راہ پر، تو دل میں اضطرار ہے
بنا ہوں مثلِ سنگِ میل ،کیسا انتظار ہے
یہ آنا جانا رات کا، یہ چاند تارے ، جتنے ہیں
یہ خار و گل ، ہر ایک شے خدا کا شاہکار ہے
میں امتی رسول کا، جو آخری رسول ہے
ہوں کلمہ گو محمدی، یہ وجہ افتخار ہے
اگر وفا کا کھیل ہے شکست ایک جیت ہے
یہاں کبھی گرا نہیں جو اصل شہسوار یے
دیا تھا پھول تم نے جو ہے اب تلک کتاب میں
وہ پھول بیتے لمحوں کی حسین یادگار ہے
اٹھے نظر تو صبح ہے ، جھکے نظر تو شام ہے
تری نظر پہ زندگی کا نظم استوار ہے
وصال تم غزل لکھو فضا بنی غزل کی ہے
عروج پہ ہے ہجر اور دل بھی سوگوار ہے
احمد وصال — جنوری 18، 2017 5:57 صبح
زندگی کا نظم میرے خیال میں قبول کیا جا سکتا ہے۔
لیکن پہلا ہی مصرع وزن میں نہیں ہے۔
نظر ہے میری راہ پہ دل میں اضطرار ہے
’پہ‘ کو تو ’پر‘ کیا جا سکتا ہے کہ مکمل وزن میں آتا ہے۔ لیکن ‘دل‘نہیں ’دلوں‘ بحر میں آتا ہے۔ ورنہ محض فاعلن رہ جاتا ہے، مفاعلن کی جگہ
نظر ہے میری راہ پر، تو دل میں اضطرار ہے
ہوجائے تو کیا ٹھیک ہوجائے گا
الف عین — جنوری 18، 2017 6:06 صبح
نظر ہے میری راہ پر، تو دل میں اضطرار ہے
ہوجائے تو کیا ٹھیک ہوجائے گا
یقیناً اب غزل درست ہے
احمد وصال — جنوری 18، 2017 7:14 صبح
محترم، محبتوں اور رھنمائی کا مشکور ہوں
جزاکم اللہ خیر