غزل برائے اصلاح

خورشید بھارتی — نومبر 10، 2018 9:01 صبح
تیرے ہونٹوں کی ہنسی اچھی لگی
جگنوؤں کی روشنی اچھی لگی
جب لگی ہا تھوں میں ان کی مہندیاں
مجھ کو ان کی بے بسی اچھی لگی
ہو گیا اب معتبر میرا قلم
ان کو میری شاعری اچھی لگی
شہر گھو ما سیکڑوں میں نے مگر
مجھ کو بس تیری گلی اچھی لگی
کچھ پرانے دوستوں میں بیٹھ کر
بد مزہ یہ چائے بھی اچھی لگی
ہو گئی تھی بے وجہ بے رنگ سی
تم ملے تو زندگی اچھی لگی
آندھیوں کا سامنا کرتی ہوئی
گلستاں میں اک کلی اچھی لگی
خورشید بھارتی
مرزا پور۔یو۔پی
9506910222
یاسر شاہ — نومبر 10، 2018 10:20 صبح
غزل مجھے تو اچھی لگی - یہ مصرعے ذرا کھٹکے:
جب لگی ہا تھوں میں ان کی مہندیاں
"مہندیاں "نہیں جچتا --
ہو گئی تھی بے وجہ بے رنگ سی
بے وجہ بروزن مفعول استعمال ہوتا ہے -اس کی جگہ "بےسبب" کر دیں
خورشید بھارتی — نومبر 10، 2018 12:00 شام
جب رچی مہندی تمہارے ہاتھوں میں
مجھکو تیری بے بسی اچھی لگی
کیسا رہے گا
یاسر شاہ — نومبر 10، 2018 2:24 شام
جب رچی مہندی تمہارے ہاتھوں میں
مجھکو تیری بے بسی اچھی لگی
شتر گربہ =تمھارے + تیری
مصرع اولیٰ کی یہ شکلیں دیکھ لیں :

سر دست یہ مصرع بھی درست کر لیں :
شہر گھو ما سیکڑوں میں نے مگر
"نے" اضافی ہے-یوں کر دیں :
شہر گھو ما سیکڑوں ہرچند میں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.104158/