غزل برائے اصلاح

ارشد چوہدری — جنوری 9، 2019 2:53 صبح
افاعیل --- مفاعلاتن مفاعلاتن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی کو اپنا بنا رہا ہوں
اسے میں جینا سکھا رہا ہوں
-----------
میں جانتا ہوںوہ پیار دے گا
ابھی تو میں ہی جتا رہا ہوں
------------
سمجھ نہیں ہے ابھی تو اس کو
کتابِ الفت پڑھا رہا ہوں
-------------
وفا پہ اس کی نہ داغ آئے
یہی میں نقطے بتا رہا ہوں
--------------
عزیز اس کو میں ہو گیا ہوں
یہی بے پر کی اُڑا رہا ہوں
--------------
نہیں ہے ممکن جو دور رہنا
قریب اپنے میں لا رہا ہوں
-----------
وفا نبھانا وہ جان لے گا
یہی تو اس کو سکھا رہا ہوں
-----------
کبھی بھی ارشد کو دکھ نہ دینا
تجھے میں اپنا بنا رہا ہوں
------------
ارشد چوہدری — جنوری 9، 2019 2:53 صبح
الف عین
ارشد چوہدری — جنوری 10، 2019 2:47 صبح
الف عین
الف عین — جنوری 10، 2019 5:22 صبح
پہلے تینوں اشعار درست ہیں
وفا پہ اس کی نہ داغ آئے
یہی میں نقطے بتا رہا ہوں
-------------- واضح نہیں
عزیز اس کو میں ہو گیا ہوں
یہی بے پر کی اُڑا رہا ہوں
-------------- فارسی عربی الفاظ کی 'ے' کا اسقاط جائز نہیں ۔ بے پر کو بَپر تقطیع کرنا غلط ہے
نہیں ہے ممکن جو دور رہنا
قریب اپنے میں لا رہا ہوں
----------- یہ آپ کے ہاتھ میں ہے؟
وفا نبھانا وہ جان لے گا
یہی تو اس کو سکھا رہا ہوں
----------- یہ بھی مفہوم مجہول سا ہے
کبھی بھی ارشد کو دکھ نہ دینا
تجھے میں اپنا بنا رہا ہوں
---------- ہہ بھی مجہول مضمون ہے
اس کے علاوہ شتر گربہ بھی ہے
دینا، کرنا میں' تم' مضمر ہے جیسے دے، لے میں 'تو'

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.104987/