خورشید بھارتی — جنوری 13، 2019 4:56 شام
1-چھوڑ کر مئے پی رہی ہے زہر اب میری غزل
ہو گئی ہے سر سےلیکر پاؤں تک نیلی غزل
2-آپ کی آواز پاکر ہوگئی ہے معتبر
ورنہ میں نے تو لکھی تھی ایک ہلکی سی غزل
3-ہم نے لفظوں کو تراشے،حرف میں موتی جڑے
خوبصورت ہو نہ پائی آپ کی جیسی غزل
4-مسکرا کر لوٹ لی محفل مگر ایک شوخ نے
یوں تو میں نے بھی سنائی تھی بہت اچھی غزل
5-میں جلاتا ہوں لہو اپنے جگر کا دیر تک
تب اترتا ہے کہیں قرطاص پر کوئی غزل
خورشید بھارتی۔۔۔کولکاتا
فاخر — جنوری 13، 2019 5:34 شام
قرطاس ہوا کرتا ہے جناب !!
فاخر — جنوری 13، 2019 5:36 شام
1-چھوڑ کر مئے پی رہی ہے زہر اب میری غزل
ہو گئی ہے سر سےلیکر پاؤں تک نیلی غزل
2-آپ کی آواز پاکر ہوگئی ہے معتبر
ورنہ میں نے تو لکھی تھی ایک ہلکی سی غزل
3-ہم نے لفظوں کو تراشے،حرف میں موتی جڑے
خوبصورت ہو نہ پائی آپ کی جیسی غزل
4-مسکرا کر لوٹ لی محفل مگر ایک شوخ نے
یوں تو میں نے بھی سنائی تھی بہت اچھی غزل
5-میں جلاتا ہوں لہو اپنے جگر کا دیر تک
تب اترتا ہے کہیں قرطاص پر کوئی غزل
خورشید بھارتی۔۔۔کولکاتا
بھارتی صاحب غزل عمدہ ہے جناب میری طرف سے مبارک باد قبول فرمائیں بہت خوب !!!!
سید عاطف علی — جنوری 13، 2019 7:26 شام
یا تو کہیں کہ۔ ہم نے لفظ تراشے ۔ یا کہیں کہ ۔ہم نے لفظوں کو تراشا ۔
لفظوں کو تراشے۔ درست نہیں۔
غزل البتہ اچھی ہے۔
فلسفی — جنوری 14، 2019 3:04 صبح
مسکرا کر لوٹ لی محفل مگر ایک شوخ نے
یوں تو میں نے بھی سنائی تھی بہت اچھی غزل
اس شعر میں "مگر" پہلے مصرعے میں اور "یوں تو“ دوسرے مصرعے میں ایک جیسے معنی دے رہے ہیں۔ اگر پہلا مصرعہ یوں کہیں تو شاید بہتر لگے
مسکرا کر لوٹ لی محفل اُسی ایک شوخ نے
مجموعی طور پر اچھی غزل ہے جناب داد قبول کیجیے۔
الف عین — جنوری 14، 2019 5:47 صبح
احباب کے مشورے صائب ہیں۔
مگر اک شوخ... بحر میں آتا ہے 'ایک' مکمل نہیں