جانے کیسے یار پرانے لوٹ آئے۔
پھر اپنے موسم وہ سہانے لوٹ آئے۔
۔۔۔۔۔۔'کیسے' دوسرے معنوں یعنی نیگٹو بھی استعمال ہوتا ہے، مثلاً یار تم کیسے دوست ہو وغیرہ
اس کی جگہ کوئی اور لفظ اگر لا سکیں۔ ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے
جانے کہاں سے یار پرانے لوٹ آئے
اس کے علاوہ دوسرے مصرع میں 'وہ' اضافی لگ رہا ہے اس کا بھی کچھ حل سوچیں
پت جھڑ کے آثار نہیں ہیں گلشن میں۔
شاید پھر وہ پھول کھلانے لوٹ آئے۔
۔۔۔۔پت جھڑ پر نظر نہیں پڑی تھی شاید یا میں نے توجہ نہیں دی ۔ لیکن پھول کھلانے کے ساتھ پت جھڑ کچھ جچ نہیں رہا، کچھ اور ترکیب اگر لا سکتے ہیں تو . . .
کیوں برسوں کے بعد خیالات اُن کےبھی۔
تنہائی میں آگ لگانے لوٹ آئے۔
۔۔۔۔پہلے مصرعے کو ویسا ہی رہنے دیتے، تبدیل کیوں کر دیا؟ صرف خیالات لانا تھا
ٹوٹا جن سے عہد وفا کا ماضی میں۔
آنکھوں میں پھر خواب سجانے لوٹ آئے۔
۔۔۔۔۔یہ تو درست ہو گیا ہے
کتنےدلکش رنگ سجا کر دامن میں۔
اپنے روٹھے یار منانے لوٹ آئے۔
۔۔۔۔۔۔کون؟ دوسرا مصرع واضح نہیں ہے
پھولوں کی بارش سے کروں گا استقبال۔
میرےاجڑے گھر کو بسانے لوٹ آئے۔
۔۔۔۔اس شعر کو بھی میں نے بعد میں دیکھا تھا تو دوسرا مصرع غیر واضح لگا تھا، اسی انتظار میں تھا کہ آپ کا کوئی جواب آئے تو یہ بات کہوں
میرے مشورے کے بعد بھی یہ کمی رہتی ہے کہ کون لوٹ آئے؟ آپ کے اصل شعر میں 'جو' سے پھر بھی یہ معنی پیدا ہو رہے تھے کہ جو کوئی بھی میرا اجڑا گھر بسانے لوٹ آئے اس کا پھولوں کی بارش سے استقبال کروں گا۔ لیکن موجودہ صورت میں دوسرا مصرع واضح نہیں لگتا
سورج کب کا ڈوب گیا لوٹ آؤ ۔
تارے پھر سے زخم دکھانے لوٹ آئے۔
۔۔۔۔'ڈوب گیا ہے' کر لیں۔ اور 'دکھانے' کیا پنجابی نہیں ہو جائے گا؟ کچھ اور سوچیں اس کا بھی
جانے کہاں سے یار پرانے لوٹ آئے
پھر موسم پہلے سے سہانے لوٹ آئے۔
پژمردہ آثار نہیں ہیں گلشن کے۔
شاید پھر وہ پھول کھلانے لوٹ آئے۔
کیوں برسوں کے بعد خیالات آج اُن کے۔
تنہائی میں آگ لگانے لوٹ آئے۔
ٹوٹا جن سے عہد وفا کا ماضی میں۔
آنکھوں میں پھر خواب سجانے لوٹ آئے۔
کتنےدلکش رنگ سجا کر دامن میں۔
وہ پھر روٹھے یار منانے لوٹ آئے۔
سورج کب کا ڈوب گیاہے لوٹ آؤ ۔
تارے پھر سے زخم دُکھانے لوٹ آئے۔
سر اس شعر کو میں چینج کر لوں گا استقبال بھی میرے خیال تے بحر میں اچھا نہیں لگ رہا
اور آخری شعر میں دکھانے ہندی کا لفظ ہے سر