غزل برائے اصلاح

سعید احمد سجاد — اپریل 17، 2019 7:12 شام
الف عین
یاسر شاہ
فلسفی
عظیم
سر اصلاح کی درخواست ہے
جب بھی خوشبو تری سانسوں کی سہانی آئے۔
منجمد خون میں پھر جا کے روانی آئے
جب کھلے پھول ترے وصل کی امیدوں کے۔
شبنمی ہونٹ ترے بن کے نشانی آئے
ناتواں اس کے مجھے ہجر نے کر ڈالا ہے۔
صورتِ یار جو دیکھوں تو جوانی آئے۔
مجھ پہ اب تک ہے وہی روحِ رواں کا عالم۔
ساعتِ ہجر کو بھولوں ٗ نہ بھلانی آئے۔
اُن کی خواہش ہے تو جلتا ہوں چتا پر بھی مگر۔
شرط یہ ہے کہ اُنھیں آگ لگانی آئے ۔
ناگ بن کر مجھے ڈستا ہے کوئی سوزِ نہاں۔
جب بھی تنہائی میں اک یاد پرانی آئے۔
ربط سانسوں میں نہ دھڑکن میں تسلسل باقی۔
تُو جو آئے تو رگ و پے میں جوانی آئے۔
سلب ہے قوتِ گویائی بھی سجاد مری۔
ضبط آنسو نہ ہوں جب درد کہانی آئے
عظیم — اپریل 18، 2019 12:10 صبح
جب بھی خوشبو تری سانسوں کی سہانی آئے۔
منجمد خون میں پھر جا کے روانی آئے
۔۔۔۔۔'پھر جا کے' کی جگہ 'تب جا کے' بہتر معلوم ہو رہا ہے
جب کھلے پھول ترے وصل کی امیدوں کے۔
شبنمی ہونٹ ترے بن کے نشانی آئے
۔۔۔۔۔پہلا مصرع بحر میں نہیں
ہونٹ نشانی بن کر کہاں آئے۔ اس کی بھی وضاحت ہونی
چاہیے
ناتواں اس کے مجھے ہجر نے کر ڈالا ہے۔
صورتِ یار جو دیکھوں تو جوانی آئے۔
۔۔۔۔ناتواں کے ساتھ جوانی ٹھیک نہیں رہے گا۔
مجھ پہ اب تک ہے وہی روحِ رواں کا عالم۔
ساعتِ ہجر کو بھولوں ٗ نہ بھلانی آئے۔
۔۔۔یہ ٹھیک لگ رہا ہے
اُن کی خواہش ہے تو جلتا ہوں چتا پر بھی مگر۔
شرط یہ ہے کہ اُنھیں آگ لگانی آئے ۔
۔۔۔۔یہ بھی درست معلوم ہو رہا ہے
ناگ بن کر مجھے ڈستا ہے کوئی سوزِ نہاں۔
جب بھی تنہائی میں اک یاد پرانی آئے۔
۔۔۔۔۔اچھا شعر ہے
ربط سانسوں میں نہ دھڑکن میں تسلسل باقی۔
تُو جو آئے تو رگ و پے میں جوانی آئے۔
۔۔۔درست معلوم ہو رہا ہے
سلب ہے قوتِ گویائی بھی سجاد مری۔
ضبط آنسو نہ ہوں جب درد کہانی آئے
۔۔۔۔۔درد کہانی،؟
ارشد چوہدری — اپریل 18، 2019 1:46 صبح
( ایک تجویز )
سلب ہے قوتِ گویائی بھی سجاد مری۔
ضبط آنسو نہ ہوں جب یاد وہ کہانی آئے
سعید احمد سجاد — اپریل 18، 2019 2:11 صبح
( ایک تجویز )
سلب ہے قوتِ گویائی بھی سجاد مری۔
ضبط آنسو نہ ہوں جب یاد وہ کہانی آئے
ارشد بھائی بحر سے خارج ہو جاتا ہے مصرعہ
سعید احمد سجاد — اپریل 18، 2019 2:12 صبح
جب بھی خوشبو تری سانسوں کی سہانی آئے۔
منجمد خون میں پھر جا کے روانی آئے
۔۔۔۔۔'پھر جا کے' کی جگہ 'تب جا کے' بہتر معلوم ہو رہا ہے
جب کھلے پھول ترے وصل کی امیدوں کے۔
شبنمی ہونٹ ترے بن کے نشانی آئے
۔۔۔۔۔پہلا مصرع بحر میں نہیں
ہونٹ نشانی بن کر کہاں آئے۔ اس کی بھی وضاحت ہونی
چاہیے
ناتواں اس کے مجھے ہجر نے کر ڈالا ہے۔
صورتِ یار جو دیکھوں تو جوانی آئے۔
۔۔۔۔ناتواں کے ساتھ جوانی ٹھیک نہیں رہے گا۔
مجھ پہ اب تک ہے وہی روحِ رواں کا عالم۔
ساعتِ ہجر کو بھولوں ٗ نہ بھلانی آئے۔
۔۔۔یہ ٹھیک لگ رہا ہے
اُن کی خواہش ہے تو جلتا ہوں چتا پر بھی مگر۔
شرط یہ ہے کہ اُنھیں آگ لگانی آئے ۔
۔۔۔۔یہ بھی درست معلوم ہو رہا ہے
ناگ بن کر مجھے ڈستا ہے کوئی سوزِ نہاں۔
جب بھی تنہائی میں اک یاد پرانی آئے۔
۔۔۔۔۔اچھا شعر ہے
ربط سانسوں میں نہ دھڑکن میں تسلسل باقی۔
تُو جو آئے تو رگ و پے میں جوانی آئے۔
۔۔۔درست معلوم ہو رہا ہے
سلب ہے قوتِ گویائی بھی سجاد مری۔
ضبط آنسو نہ ہوں جب درد کہانی آئے
۔۔۔۔۔درد کہانی،؟
عظیم بھائی امید اور امّید دونوں مستعمل ہیں
الف عین — اپریل 18، 2019 6:03 صبح
وصل کی امیدوں والا مصرع مکمل بحر میں ہے عظیم کو کچھ غلط فہمی ہوئی ہے
عظیم — اپریل 18، 2019 7:22 صبح
عظیم بھائی امید اور امّید دونوں مستعمل ہیں
وصل کی امیدوں والا مصرع مکمل بحر میں ہے عظیم کو کچھ غلط فہمی ہوئی ہے
ایک دو بار ذہن میں تقطیع بھی کی مگر جلدی کر گیا
سعید احمد سجاد — اپریل 18، 2019 12:21 شام
وصل کی امیدوں والا مصرع مکمل بحر میں ہے عظیم کو کچھ غلط فہمی ہوئی ہے
سر مکمل غزل پہ رائے کے لئے درخواست ہے
سعید احمد سجاد — اپریل 18، 2019 5:35 شام
وصل کی امیدوں والا مصرع مکمل بحر میں ہے عظیم کو کچھ غلط فہمی ہوئی ہے
الف عین سر
الف عین — اپریل 19، 2019 3:09 صبح
عظیم کے مشوروں سے متفق ہوں، جہاں ان کی غلطی محسوس کی، وہاں نشاندہی کر دی تھی متفق کا بٹن دبانے کے بعد
سعید احمد سجاد — اپریل 19، 2019 3:15 صبح
عظیم کے مشوروں سے متفق ہوں، جہاں ان کی غلطی محسوس کی، وہاں نشاندہی کر دی تھی متفق کا بٹن دبانے کے بعد
شکریہ سر
سعید احمد سجاد — اپریل 19، 2019 10:34 صبح
جب بھی خوشبو تری سانسوں کی سہانی آئے۔
منجمد خون میں پھر جا کے روانی آئے
۔۔۔۔۔'پھر جا کے' کی جگہ 'تب جا کے' بہتر معلوم ہو رہا ہے
جب کھلے پھول ترے وصل کی امیدوں کے۔
شبنمی ہونٹ ترے بن کے نشانی آئے
۔۔۔۔۔پہلا مصرع بحر میں نہیں
ہونٹ نشانی بن کر کہاں آئے۔ اس کی بھی وضاحت ہونی
چاہیے
ناتواں اس کے مجھے ہجر نے کر ڈالا ہے۔
صورتِ یار جو دیکھوں تو جوانی آئے۔
۔۔۔۔ناتواں کے ساتھ جوانی ٹھیک نہیں رہے گا۔
مجھ پہ اب تک ہے وہی روحِ رواں کا عالم۔
ساعتِ ہجر کو بھولوں ٗ نہ بھلانی آئے۔
۔۔۔یہ ٹھیک لگ رہا ہے
اُن کی خواہش ہے تو جلتا ہوں چتا پر بھی مگر۔
شرط یہ ہے کہ اُنھیں آگ لگانی آئے ۔
۔۔۔۔یہ بھی درست معلوم ہو رہا ہے
ناگ بن کر مجھے ڈستا ہے کوئی سوزِ نہاں۔
جب بھی تنہائی میں اک یاد پرانی آئے۔
۔۔۔۔۔اچھا شعر ہے
ربط سانسوں میں نہ دھڑکن میں تسلسل باقی۔
تُو جو آئے تو رگ و پے میں جوانی آئے۔
۔۔۔درست معلوم ہو رہا ہے
۔۔۔۔۔درد کہانی،؟
جب بھی خوشبو تری سانسوں کی سہانی آئے۔
منجمد خون میں تب جا کے روانی آئے۔
جب کھلے پھول ترے وصل کی امیدوں کے۔
شبنمی ہونٹ خیالوں میں نشانی آئے۔
ایک بے جان مجسم ہوں جدائی کے سبب
صورتِ یار جو دیکھوں تو جوانی آئے۔
سلب ہے قوتِ گویائی بھی سجاد مری۔
توڑنے ضبط کوئی درد کہانی آئے۔
عظیم بھائی اب نظر ثانی فرما دیجیے گا
عظیم — اپریل 21، 2019 6:40 شام
ہونٹ والے شعر میں ابھی بھی یہ بات واضح نہیں کہ کس کے ہونٹ
دوسرا صرف 'نشانی کہنے سے بات مکمل نہیں ہو گی۔ بن کے نشانی آئے، کی ضرورت ہے
پھر بھی یہ کمی رہی جائے گی کہ کس بات کی نشانی بن کر آئے
تیسرے شعر کے پہلے مصرع میں 'بے جان مجسمہ' ہونا چاہیے تھا اس کے علاوہ جوانی ایسا لگ رہا ہے کہ بس قافیہ استعمال کرنا تھا۔ اس لیے کہ یہ لفظ یہاں فٹ نہیں ہو رہا
مقطع میں وہی مسئلہ ہے کہ 'درد کہانی' کی سمجھ نہیں آ رہی
سعید احمد سجاد — اپریل 21، 2019 6:46 شام
ہونٹ والے شعر میں ابھی بھی یہ بات واضح نہیں کہ کس کے ہونٹ
دوسرا صرف 'نشانی کہنے سے بات مکمل نہیں ہو گی۔ بن کے نشانی آئے، کی ضرورت ہے
پھر بھی یہ کمی رہی جائے گی کہ کس بات کی نشانی بن کر آئے
تیسرے شعر کے پہلے مصرع میں 'بے جان مجسمہ' ہونا چاہیے تھا اس کے علاوہ جوانی ایسا لگ رہا ہے کہ بس قافیہ استعمال کرنا تھا۔ اس لیے کہ یہ لفظ یہاں فٹ نہیں ہو رہا
مقطع میں وہی مسئلہ ہے کہ 'درد کہانی' کی سمجھ نہیں آ رہی
شکریہ عظیم بھائی

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.106468/