غزل برائے اصلاح

ارشد چوہدری — اپریل 24، 2019 1:23 صبح
الف عین
@عظیم،فلسفی، یاسر شاہ
--------------
افاعیل-مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
------------------
کرو اس کی عبادت بس ہمیں جس نے بنایا ہے
ہمارے واسطے اس نے جہاں سارا سجایا ہے
----------
بڑی سب سے ہے گمراہی کرو گے شرک اس سے تو
سبھی مخلوق ہیں اس کی اکیلے نے بنایا ہے
------------
گزاری زندگی ساری مگر بھولے رہے اس کو
اکیلے بیٹھ کر سوچو کیا ہم نے کمایا ہے
-----------------
مرا جینا مرا مرنا اسی کے ہاتھ میں سب کچھ
اسی کی یہ عنایت ہے ہمیں انساں بنایا ہے
----------------
ہمیں وہ آزماتا ہے کبھی دے کر کبھی لے کر
ہماری زندگی کو آزمائش ہی بنایا ہے
-------------یا
اجر دینے سے پہلے اس نے ہم کو آزمایا ہے
-----------------
یہی عادت ہے ارشد کی نہیں ڈرتا زمانے سے
مرے رب نے مری فطرت کو ایسا ہی بنایا ہے
--------------
الف عین — اپریل 24، 2019 7:54 صبح
ایک بار اس پر پھر غور کر کے دیکھیں کہ کہاں کہاں اور کیا کیا غلطی ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.106547/