غزل برائے اصلاح

سعید احمد سجاد — مئی 23، 2019 6:06 شام
الف عین
یاسر شاہ
عظیم
فلسفی
سر اصلاح کی درخواست ہے
برہنہ سر جب جناب اترے
تو مثلِ سایہ سحاب اترے
شراب احمر بھی بے نشہ ہے۔
فلک سے اطہر شراب اترے
بہار ہو جب سوال میرا۔
جواب تیرا گلاب اترے۔
امید پر انتظار میں ہوں۔
وہ اک گھڑی بےحجاب اترے۔
رخِ صنم بے نقاب دیکھا۔
تو آرزوؤں کے باب اترے۔
وہی تھے میری متاعِ ہستی۔
شکستہ دل میں جو خواب اترے۔
چراغِ تربت کی لو سے دل میں۔
ہزارہا اضطراب اترے۔
فلسفی — مئی 23، 2019 6:10 شام
شراب احمر بھی بے نشہ ہے۔
فلک سے اطہر شراب اترے
شرابِ احمر تو بے نشہ ہے
زیادہ بہتر ہے۔ اچھی غزل ہے داد قبول کیجیے
سعید احمد سجاد — مئی 23، 2019 6:53 شام
شرابِ احمر تو بے نشہ ہے
زیادہ بہتر ہے۔ اچھی غزل ہے داد قبول کیجیے
شکریہ فلسفی بھائی
سعید احمد سجاد — مئی 23، 2019 6:56 شام
برہنہ سر جب جناب اترے
تو مثلِ سایہ سحاب اترے
شراب احمر تو بے نشہ ہے۔
فلک سے اطہر شراب اترے
بہار ہو جب سوال میرا۔
جواب تیرا گلاب اترے۔
امید پر انتظار میں ہوں۔
وہ اک گھڑی بےحجاب اترے۔
رخِ صنم بے نقاب دیکھا۔
تو آرزوؤں کے باب اترے۔
وہی تھے میری متاعِ ہستی۔
شکستہ دل میں جو خواب اترے۔
چراغِ تربت کی لو سے دل میں۔
ہزارہا اضطراب اترے۔
وجود سجاد نیم جاں ہے
کہ زخم ہی بے حساب اترے
سعید احمد سجاد — مئی 23، 2019 7:38 شام
شرابِ احمر تو بے نشہ ہے
زیادہ بہتر ہے۔ اچھی غزل ہے داد قبول کیجیے

برہنہ سر جب جناب اترے
تو مثلِ سایہ سحاب اترے
شراب احمر تو بے نشہ ہے۔
فلک سے اطہر شراب اترے
بہار ہو جب سوال میرا۔
جواب تیرا گلاب اترے۔
امید پر انتظار میں ہوں۔
وہ اک گھڑی بےحجاب اترے۔
رخِ صنم بے نقاب دیکھا۔
تو آرزوؤں کے باب اترے۔
وہی تھے میری متاعِ ہستی۔
شکستہ دل میں جو خواب اترے۔
چراغِ تربت کی لو سے دل میں۔
ہزارہا اضطراب اترے۔
وجود سجاد نیم جاں ہے
کہ زخم ہی بے حساب اترے
عرفان سعید — مئی 23، 2019 7:57 شام
واہ! اچھی غزل ہے
عرفان سعید — مئی 23، 2019 8:00 شام
صنم جو برسات میں نہائے
تو سر سے اس کے خضاب اترے
سعید احمد سجاد — مئی 23، 2019 8:18 شام
شکریہ جناب حوصلہ افزائی کا
سعید احمد سجاد — مئی 23، 2019 8:19 شام
صنم جو برسات میں نہائے
تو سر سے اس کے ِخضاب اترے
واہ ہا ہا ہا
سعید احمد سجاد — مئی 24، 2019 8:11 صبح
برہنہ سر جب جناب اترے
تو مثلِ سایہ سحاب اترے
شراب احمر تو بے نشہ ہے۔
فلک سے اطہر شراب اترے
بہار ہو جب سوال میرا۔
جواب تیرا گلاب اترے۔
امید پر انتظار میں ہوں۔
وہ اک گھڑی بےحجاب اترے۔
رخِ صنم بے نقاب دیکھا۔
تو آرزوؤں کے باب اترے۔
وہی تھے میری متاعِ ہستی۔
شکستہ دل میں جو خواب اترے۔
چراغِ تربت کی لو سے دل میں۔
ہزارہا اضطراب اترے۔
وجود سجاد نیم جاں ہے
کہ زخم ہی بے حساب اترے
سر الف عین
الف عین — مئی 24، 2019 10:38 صبح
اچھی غزل ہے
برہنہ سر جب جناب اترے
تو مثلِ سایہ سحاب اترے
میں جناب محبوب کو عزت و احترام سے کہا گیا ہے لیکن اگر یہ تمنائی ہے تو اترے نہیں، 'اتریں' کا محل ہے۔ ہاں ماضی کے کسی وقوعے کا ذکر ہو تو درست ہے لیکن مزا تمنائی میں زیادہ ہے کہ کاش وہ اتریں۔
باقی ٹھیک ہی لگ رہی ہے غزل
یاقوت — مئی 24، 2019 10:41 صبح
صنم جو برسات میں نہائے
تو سر سے اس کے خضاب اترے
ہا ہاہا ہا ہا ہاہمارا حصہ بھی شامل کر لیں۔
حضاب اترے بے حساب اترے
خضاب ہی کیا سب شباب اترے
یاقوت — مئی 24، 2019 10:44 صبح
امید پر انتظار میں ہوں۔
وہ اک گھڑی بےحجاب اترے۔
کیا کہنے آہا۔۔۔۔۔۔
بشیر بدر نے کہا تھا۔۔۔
اک چاند سا مصرعہ اکیلا ہے میرے کاغذ پر
چھت پہ آجاؤ میرا شعر مکمل کر دو
سعید احمد سجاد — مئی 24، 2019 12:51 شام
اچھی غزل ہے
برہنہ سر جب جناب اترے
تو مثلِ سایہ سحاب اترے
میں جناب محبوب کو عزت و احترام سے کہا گیا ہے لیکن اگر یہ تمنائی ہے تو اترے نہیں، 'اتریں' کا محل ہے۔ ہاں ماضی کے کسی وقوعے کا ذکر ہو تو درست ہے لیکن مزا تمنائی میں زیادہ ہے کہ کاش وہ اتریں۔
باقی ٹھیک ہی لگ رہی ہے غزل
سر بالکل بجا فرمایا آپ نے لیکن سر پہلے شعر کو
برہنہ سر جب جناب اتریں
تو مثلِ سایہ سحاب اتریں
اگر یوں اس شعر کو لیں تو شعر واقعی زیادہ معانی خیز ہو جاتا ہے لیکن پھر سر پوری غزل تبدیل کرنی پڑے گی شروع سے سر ماضی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے غزل لکھی ہے سر بہت شکریہ اللہ پاک آپ کا سایہ ہمیشہ ہمارے سروں پہ قائم رکھے آمین
الف عین — مئی 25، 2019 5:35 صبح
ٹھیک ہے، چلنے دو یہی ردیف قافیہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.106986/