غزل برائے اصلاح

سعید احمد سجاد — جولائی 1، 2019 7:22 شام
الف عین
یاسر شاہ
عظیم
فلسفی
سر اصلاح کے لئے گذارش ہے
مجھے یوں کفن میں وہ دیکھ کر ہوئے اشکبار نہ پوچھیے
تہہِ خاک مَیں بھی ہوں مضطرب مرا اضطرار نہ پوچھیے
کوئی ایسا رستہ نکالیے مجھے ٹوٹنے سے بچائے جو
میں بکھر رہا ہوں گھڑی گھڑی مرا حالِ زار نہ پوچھیے
مری تلخیوں کو سمیٹ کر نئی زندگی مجھے دیجیے
ہوا عشق میں، جو مَیں کیا سے کیا یہی بار بار نہ پوچھیے
مجھے درد جو بھی ملا کئے وہ زبان تک نہیں آ سکے
رہی کس قدر مری موت بھی مری پاسدار نہ پوچھیے
کبھی مست مست وہ اٹکھیلیاں تمھیں سوجھتی تھیں پہیلیاں
وہ کہاں گئیں مری شوخیاں میں ہوں بیقرار نہ پوچھیے
کبھی کلفتوں میں گذر گئی کبھی ہمسفر تھیں اداسیاں
میں تو موسموں سے ہوں بے خبر ہے کہاں بہار نہ پوچھیے
کبھی جگنوؤں کو جو ہاتھ میں لئے کھیلتا تھا سعید جب
گئے دن کہاں وہ قرار کے مرے رازدار نہ پوچھیے
الف عین — جولائی 2، 2019 6:13 صبح
درست لگ رہی ہے غزل ایک دو خامیوں کو چھوڑ کر.
۔ لیکن نہ پوچھیے سے پہلے کوما لگا دیں ہرجگہ
میں بکھر رہا ہوں گھڑی گھڑی مرا حالِ زار نہ پوچھیے
.. ہر گھڑی بہتر ہو گا، بلکہ گھڑی کے بچانے
میں بکھر رہا ہوں جو مستقل، مرا حالِ زار نہ پوچھیے
بہتر ہے
کبھی مست مست وہ اٹکھیلیاں تمھیں سوجھتی تھیں پہیلیاں
بحر سے خارج ہو گیا اٹھکھیلیاں کی جگہ شوخیاں استعمال کریں
باقی شاید درست ہے
سعید احمد سجاد — جولائی 2، 2019 9:41 صبح
شکریہ سر
سعید احمد سجاد — جولائی 2، 2019 7:13 شام
درست لگ رہی ہے غزل ایک دو خامیوں کو چھوڑ کر.
۔ لیکن نہ پوچھیے سے پہلے کوما لگا دیں ہرجگہ
میں بکھر رہا ہوں گھڑی گھڑی مرا حالِ زار نہ پوچھیے
.. ہر گھڑی بہتر ہو گا، بلکہ گھڑی کے بچانے
میں بکھر رہا ہوں جو مستقل، مرا حالِ زار نہ پوچھیے
بہتر ہے
کبھی مست مست وہ اٹکھیلیاں تمھیں سوجھتی تھیں پہیلیاں
بحر سے خارج ہو گیا اٹھکھیلیاں کی جگہ شوخیاں استعمال کریں
باقی شاید درست ہے

سر اگر یوں کر لوں
کبھی مست مست وہ شوخیاں تمھیں سوجھتی تھیں پہیلیاں۔
وہ کہاں گئیں مری راحتیں میں ہوں بےقرار نہ پوچھیے
الف عین — جولائی 3، 2019 6:44 صبح
سر اگر یوں کر لوں
کبھی مست مست وہ شوخیاں تمھیں سوجھتی تھیں پہیلیاں۔
وہ کہاں گئیں مری راحتیں میں ہوں بےقرار نہ پوچھیے
یہی تو میرا مطلب تھا!
عظیم — جولائی 3، 2019 7:07 صبح
یہی تو میرا مطلب تھا!
مجھے تو شتر گربہ بھی محسوس ہو رہا ہے
پہلے مصرع میں 'تمہیں' اور ردیف 'نہ پوچھیے' کی وجہ سے
الف عین — جولائی 3، 2019 10:10 صبح
مجھے تو شتر گربہ بھی محسوس ہو رہا ہے
پہلے مصرع میں 'تمہیں' اور ردیف 'نہ پوچھیے' کی وجہ سے
درست، اس طرف میرا دھیان نہیں گیا تھا
سعید احمد سجاد — جولائی 3، 2019 5:44 شام
درست، اس طرف میرا دھیان نہیں گیا تھا
سر کوشش کرتا ہوں مصرعہ بدلنے کی

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.107477/