سر الف عین اور دیگر احباب سے اصلاح کی گذارش ہے۔
ہم ان سے محبت کا انکار نہیں کرتے
لیکن وہ تو چھپ کر بھی اقرار نہیں کرتے
------------
یہ ایک نشانی ہے ہم اہلِ محبت کی
غم سہتے ہیں چپ کر کے اظہار نہیں کرتے
------------
نم دیکھ کے آنکھوں کو ہوتے ہو پریشاں کیوں
تم سے تو گلہ کوئی غم خوار نہیں کرتے
------------
قاصد جو ملے ان سےاک بار یہ کہہ دینا
اس طرح کسی کو بھی بیمار نہیں کرتے
------------
بے شک کرو پردہ تم چھوڑو نہ محلے کو
یوں آڑ میں پردے کے دیوار نہیں کرتے
------------
اک ہم نا محرم تھے انصاف یہ کیسا ہے
ہر ایک سے پردہ کیوں سرکار نہیں کرتے
------------
دیوانوں کے حلیے سے رہتا تھا گلہ جن کو
کچھ دن سے تو وہ بھی اب سنگھار نہیں کرتے
------------
سب بیٹھے ہوئے احمدؔ یوں عشق کی راہوں کے
قصے تو سناتے ہیں خبردار نہیں کرتے
لیکن وہ تو چھپ کر بھی اقرار نہیں کرتے
------------
یہ ایک نشانی ہے ہم اہلِ محبت کی
غم سہتے ہیں چپ کر کے اظہار نہیں کرتے
------------
نم دیکھ کے آنکھوں کو ہوتے ہو پریشاں کیوں
تم سے تو گلہ کوئی غم خوار نہیں کرتے
------------
قاصد جو ملے ان سےاک بار یہ کہہ دینا
اس طرح کسی کو بھی بیمار نہیں کرتے
------------
بے شک کرو پردہ تم چھوڑو نہ محلے کو
یوں آڑ میں پردے کے دیوار نہیں کرتے
------------
اک ہم نا محرم تھے انصاف یہ کیسا ہے
ہر ایک سے پردہ کیوں سرکار نہیں کرتے
------------
دیوانوں کے حلیے سے رہتا تھا گلہ جن کو
کچھ دن سے تو وہ بھی اب سنگھار نہیں کرتے
------------
سب بیٹھے ہوئے احمدؔ یوں عشق کی راہوں کے
قصے تو سناتے ہیں خبردار نہیں کرتے