غزل برائے اصلاح

محمد فائق — اگست 22، 2019 9:35 شام
نہیں کر پائے میلا نفرت و کینہ مرے من کو
یہی تو بات کرتی ہے پریشاں میرے دشمن کو
نئے اک زاویے سے یاد کرتا ہوں تجھے ہر دن
رکھا ہے اس طرح تازہ تری یادوں کے گلشن کو
حقیقت نے اچانک بیچ میں آکر جگا ڈالا
میں سپنے میں سنورتا دیکھ نے والا تھا جیون کو
ہماری گمرہی کا کیا سب تھا تب سمجھ آیا
جو دیکھا ایک پیمانے سےرہبر اور رہزن کو
کہیں کا بھی نہیں چھوڑا ہمیں آشفتہ حالی نے
مکاں ہوتے ہوئے بھی ہم ترستے ہیں نشیمن کو
ہےدنیا ترجمانِ بے وفائی، وقت پڑنے پر
یہ دو گز کی جگہ تک بھی نہیں دیتی ہے مدفن کو
جوانی بوجھ سی محسوس ہونے لگتی ہے اس دم
کبھی جب یاد کرتا ہوں میں فائق اپنے بچپن کو
محمد فائق — اگست 22، 2019 9:36 شام
الف عین سر
محمد تابش صدیقی سر
عظیم — اگست 23، 2019 7:40 صبح
نہیں کر پائے میلا نفرت و کینہ مرے من کو
یہی تو بات کرتی ہے پریشاں میرے دشمن کو
۔۔۔من اوردشمن میں 'من' کی وجہ سے ایطا ہے۔ اس کو تبدیل کر لیں
دوسرے مصرع میں 'تو: کی جگہ 'اک ' استعمال کریں کہ روانی بہتر ہو جائے گی
نئے اک زاویے سے یاد کرتا ہوں تجھے ہر دن
رکھا ہے اس طرح تازہ تری یادوں کے گلشن کو
۔۔۔۔یہ شعر درست اور اچھا لگا
حقیقت نے اچانک بیچ میں آکر جگا ڈالا
میں سپنے میں سنورتا دیکھ نے والا تھا جیون کو
۔۔۔یہ بھی ٹھیک ہے
ہماری گمرہی کا کیا سب تھا تب سمجھ آیا
جو دیکھا ایک پیمانے سےرہبر اور رہزن کو
۔۔۔پیمانے سے دیکھنا کچھ عجیب لگ رہا ہے،
کہیں کا بھی نہیں چھوڑا ہمیں آشفتہ حالی نے
مکاں ہوتے ہوئے بھی ہم ترستے ہیں نشیمن کو
۔۔۔۔یہ شعر بھی درست اور اچھا ہے
ہےدنیا ترجمانِ بے وفائی، وقت پڑنے پر
یہ دو گز کی جگہ تک بھی نہیں دیتی ہے مدفن کو
۔۔۔دوسرے میں اگر 'یہ' کی جگہ 'کہ' استعمال کریں تو زیادہ بہتر نہیں ہو جائے گا؟
جوانی بوجھ سی محسوس ہونے لگتی ہے اس دم
کبھی جب یاد کرتا ہوں میں فائق اپنے بچپن کو
......جوانی کی جگہ اگر کسی طرح شباب لے آئین تو بہت خوب ہو جائے۔ اور لگتی میں ی کا گرنا اچھا نہیں لگ رہا
محمد فائق — اگست 23، 2019 4:39 شام
نہیں کر پائے میلا نفرت و کینہ مرے من کو
یہی تو بات کرتی ہے پریشاں میرے دشمن کو
۔۔۔من اوردشمن میں 'من' کی وجہ سے ایطا ہے۔ اس کو تبدیل کر لیں
دوسرے مصرع میں 'تو: کی جگہ 'اک ' استعمال کریں کہ روانی بہتر ہو جائے گی
نئے اک زاویے سے یاد کرتا ہوں تجھے ہر دن
رکھا ہے اس طرح تازہ تری یادوں کے گلشن کو
۔۔۔۔یہ شعر درست اور اچھا لگا
حقیقت نے اچانک بیچ میں آکر جگا ڈالا
میں سپنے میں سنورتا دیکھ نے والا تھا جیون کو
۔۔۔یہ بھی ٹھیک ہے
ہماری گمرہی کا کیا سب تھا تب سمجھ آیا
جو دیکھا ایک پیمانے سےرہبر اور رہزن کو
۔۔۔پیمانے سے دیکھنا کچھ عجیب لگ رہا ہے،
کہیں کا بھی نہیں چھوڑا ہمیں آشفتہ حالی نے
مکاں ہوتے ہوئے بھی ہم ترستے ہیں نشیمن کو
۔۔۔۔یہ شعر بھی درست اور اچھا ہے
ہےدنیا ترجمانِ بے وفائی، وقت پڑنے پر
یہ دو گز کی جگہ تک بھی نہیں دیتی ہے مدفن کو
۔۔۔دوسرے میں اگر 'یہ' کی جگہ 'کہ' استعمال کریں تو زیادہ بہتر نہیں ہو جائے گا؟
جوانی بوجھ سی محسوس ہونے لگتی ہے اس دم
کبھی جب یاد کرتا ہوں میں فائق اپنے بچپن کو
......جوانی کی جگہ اگر کسی طرح شباب لے آئین تو بہت خوب ہو جائے۔ اور لگتی میں ی کا گرنا اچھا نہیں لگ رہا
رہنمائی کے لیے بہت شکریہ محترم
انشااللہ غلطیوں کو درست کرتا ہوں
محمد فائق — اگست 23، 2019 9:59 شام
نہیں کر پائے میلا نفرت و کینہ مرے من کو
یہی تو بات کرتی ہے پریشاں میرے دشمن کو
۔۔۔من اوردشمن میں 'من' کی وجہ سے ایطا ہے۔ اس کو تبدیل کر لیں
دوسرے مصرع میں 'تو: کی جگہ 'اک ' استعمال کریں کہ روانی بہتر ہو جائے گی
نئے اک زاویے سے یاد کرتا ہوں تجھے ہر دن
رکھا ہے اس طرح تازہ تری یادوں کے گلشن کو
۔۔۔۔یہ شعر درست اور اچھا لگا
حقیقت نے اچانک بیچ میں آکر جگا ڈالا
میں سپنے میں سنورتا دیکھ نے والا تھا جیون کو
۔۔۔یہ بھی ٹھیک ہے
ہماری گمرہی کا کیا سب تھا تب سمجھ آیا
جو دیکھا ایک پیمانے سےرہبر اور رہزن کو
۔۔۔پیمانے سے دیکھنا کچھ عجیب لگ رہا ہے،
کہیں کا بھی نہیں چھوڑا ہمیں آشفتہ حالی نے
مکاں ہوتے ہوئے بھی ہم ترستے ہیں نشیمن کو
۔۔۔۔یہ شعر بھی درست اور اچھا ہے
ہےدنیا ترجمانِ بے وفائی، وقت پڑنے پر
یہ دو گز کی جگہ تک بھی نہیں دیتی ہے مدفن کو
۔۔۔دوسرے میں اگر 'یہ' کی جگہ 'کہ' استعمال کریں تو زیادہ بہتر نہیں ہو جائے گا؟
جوانی بوجھ سی محسوس ہونے لگتی ہے اس دم
کبھی جب یاد کرتا ہوں میں فائق اپنے بچپن کو
......جوانی کی جگہ اگر کسی طرح شباب لے آئین تو بہت خوب ہو جائے۔ اور لگتی میں ی کا گرنا اچھا نہیں لگ رہا
محترم الف عین سر
محترم عظیم صاحب
غلطیوں کو درست کرنے کی کوشش کی ہے دیکھیے غزل اب درست ہے یا نہیں
نہ کینہ کرسکا تاریک میرے دل کے آنگن کو
یہی اک بات کھلتی ہے مرے نادان دشمن کو
یا
یہی اک بات کرتی ہے پریشاں میرے دشمن کو
ہماری گمرہی کا کیا سبب تھا تب سمجھ آیا
جو دیکھا اک نظر سے راہبر کو اور رہزن کو
ہے دنیا ترجمانِ بے وفائی، وقت پڑنے پر
کہ دو گز کی جگہ تک بھی نہیں دیتی ہے مدفن کو
شباب اس ددم مجھے بار گراں معلوم ہوتا ہے
کبھی جب یاد کرتا ہوں میں فائق اپنے بچپن کو
شکریہ
عظیم — اگست 24، 2019 6:58 صبح
'نہ کینہ' نہ جانے کیوں اچھا نہیں لگ رہا۔ کسی طرح عداوت نفرت وغیرہ لایا جا سکتا ہے تو بہت بہتر ہو جائے گا۔ اور دوسرا مصرع 'یہی اک بات کرتی...' بہتر ہے
گمرہی والے شعر میں 'اور رہزن' میں ر کی وجہ سے تنافر ہے، اس کو بھی کسی طرح اگر تبدیل کر لیں تو یہ خامی بھی دور ہو جائے
محمد فائق — اگست 24، 2019 8:37 صبح
'نہ کینہ' نہ جانے کیوں اچھا نہیں لگ رہا۔ کسی طرح عداوت نفرت وغیرہ لایا جا سکتا ہے تو بہت بہتر ہو جائے گا۔ اور دوسرا مصرع 'یہی اک بات کرتی...' بہتر ہے
گمرہی والے شعر میں 'اور رہزن' میں ر کی وجہ سے تنافر ہے، اس کو بھی کسی طرح اگر تبدیل کر لیں تو یہ خامی بھی دور ہو جائے[/QUOT
بہت شکریہ
نہ نفرت کرسکی تاریک میرے دل کے آنگن کو
"نہ نفرت" سے تنافر پیدا ہو رہا ہے؟
الف عین — اگست 25، 2019 6:04 صبح
نہ نفرت میں بھی تنافر ہے
محمد فائق — اگست 25، 2019 9:38 شام
نہ نفرت میں بھی تنافر ہے
سیاہ کر سکی نفرت نہ میرے دل کے آنگن کو
یہی اک بات کرتی ہے پریشاں میرے دشمن کو
کیا اب مطلع درست ہے؟
عظیم — اگست 26، 2019 7:32 صبح
سیاہ کے ساتھ مصرع وزن میں نہیں رہے گا
نہیں کر پائے ویراں نفرت و کینہ مرے بن کو
کیسا رہے گا؟
محمد فائق — اگست 26، 2019 3:43 شام
سیاہ کے ساتھ مصرع وزن میں نہیں رہے گا
نہیں کر پائے ویراں نفرت و کینہ مرے بن کو
کیسا رہے گا؟
بہت بہت شکریہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.108155/