غزل برائے اصلاح

فیضان قیصر — اکتوبر 6، 2019 8:06 صبح
یہ کب تک کہاں تک تُو اے دل سنے گا
فلاں سوچے گا کیا فلاں کیا کہے گا
سنو تم مجھے یوں اکیلا نہ چھوڑو
مجھے ڈر ہے مجھکو بہت ڈر لگے گا
مجھے تم سمجھنا اگر چاہتے ہو
بہت دور تک مجھ میں آنا پڑے گا
یہ دل بن تمھارے لگا تو ہوا ہے
مگر دیکھنا ہے کہ کب تک لگے گا
میں سب کو بھلا کے بھی زندہ رہوں گا
اکیلے یہ جیون مگر کٹ سکے گا؟
پسِ ذات مجھ کو کبھی کھوجنا تم
تمھیں ایک سہما سا بچہ ملے گا
جہاں جھوٹ بکتا ہو فیضان صاحب
وہاں سچ کا سودا کہاں سے بکے گا
فیضان قیصر — اکتوبر 6، 2019 8:07 صبح
الف عین سر
عظیم بھائی
عظیم — اکتوبر 6، 2019 8:16 صبح
یہ کب تک کہاں تک تُو اے دل سنے گا
فلاں سوچے گا کیا فلاں کیا کہے گا
۔۔۔ سوچے میں ے کا اسقاط اچھا نہیں لگ رہا
سنو تم مجھے یوں اکیلا نہ چھوڑو
مجھے ڈر ہے مجھکو بہت ڈر لگے گا
۔۔۔ ٹھیک
مجھے تم سمجھنا اگر چاہتے ہو
بہت دور تک مجھ میں آنا پڑے گا
۔۔۔ جانا پڑے گا کے بارے میں بھی سوچیں
یہ دل بن تمھارے لگا تو ہوا ہے
مگر دیکھنا ہے کہ کب تک لگے گا
۔۔۔ ٹھیک
میں سب کو بھلا کے بھی زندہ رہوں گا
اکیلے یہ جیون مگر کٹ سکے گا؟
۔۔۔ پہلے میں 'کے' کی جگہ 'کر' لائیں روانی کے لیے، اور دوسرے میں جیون کچھ عجیب لگا، اس کو بھی اگر بدلا جا سکے تو بہتر ہے
اس کے علاوہ پہلے میں کہیں 'تو' کی معنویت درکار لگتی ہے
پسِ ذات مجھ کو کبھی کھوجنا تم
تمھیں ایک سہما سا بچہ ملے گا
۔۔۔۔ درست لگتا ہے
جہاں جھوٹ بکتا ہو فیضان صاحب
وہاں سچ کا سودا کہاں سے بکے گا
۔۔ 'کہاں سے' کچھ اچھا نہیں لگ رہا، بھلا کیا وغیرہ لایا جا سکتا ہے
فیضان قیصر — اکتوبر 7، 2019 6:56 صبح
یہ کب تک کہاں تک تُو اے دل سنے گا
فلاں سوچے گا کیا فلاں کیا کہے گا
۔۔۔ سوچے میں ے کا اسقاط اچھا نہیں لگ رہا
سنو تم مجھے یوں اکیلا نہ چھوڑو
مجھے ڈر ہے مجھکو بہت ڈر لگے گا
۔۔۔ ٹھیک
مجھے تم سمجھنا اگر چاہتے ہو
بہت دور تک مجھ میں آنا پڑے گا
۔۔۔ جانا پڑے گا کے بارے میں بھی سوچیں
یہ دل بن تمھارے لگا تو ہوا ہے
مگر دیکھنا ہے کہ کب تک لگے گا
۔۔۔ ٹھیک
میں سب کو بھلا کے بھی زندہ رہوں گا
اکیلے یہ جیون مگر کٹ سکے گا؟
۔۔۔ پہلے میں 'کے' کی جگہ 'کر' لائیں روانی کے لیے، اور دوسرے میں جیون کچھ عجیب لگا، اس کو بھی اگر بدلا جا سکے تو بہتر ہے
اس کے علاوہ پہلے میں کہیں 'تو' کی معنویت درکار لگتی ہے
پسِ ذات مجھ کو کبھی کھوجنا تم
تمھیں ایک سہما سا بچہ ملے گا
۔۔۔۔ درست لگتا ہے
جہاں جھوٹ بکتا ہو فیضان صاحب
وہاں سچ کا سودا کہاں سے بکے گا
۔۔ 'کہاں سے' کچھ اچھا نہیں لگ رہا، بھلا کیا وغیرہ لایا جا سکتا ہے
اپنا قیمتی وقت دینے کا بہت شکریہ عظیم بھائی
پہلے شعر اگر یوں ہو تو
یہ کب تک کہاں تک تو اے دل سنے گا
اگر یوں کیا تو فلاں کیا کہے گا
باقی آپ کی رائے کے مطابق تبدیلیاں کر لی ہیں
عظیم — اکتوبر 7، 2019 8:11 صبح
اپنا قیمتی وقت دینے کا بہت شکریہ عظیم بھائی
پہلے شعر اگر یوں ہو تو
یہ کب تک کہاں تک تو اے دل سنے گا
اگر یوں کیا تو فلاں کیا کہے گا
باقی آپ کی رائے کے مطابق تبدیلیاں کر لی ہیں
کیا فلاں کیا کہے گا فلاں کیا کہے گا کی تکرار نہیں چل سکتی؟ اگر یوں کے ساتھ درست تو لگ رہا ہے مگر جچ نہیں رہا
فیضان قیصر — اکتوبر 7، 2019 8:13 صبح
کیا فلاں کیا کہے گا فلاں کیا کہے گا کی تکرار نہیں چل سکتی؟ اگر یوں کے ساتھ درست تو لگ رہا ہے مگر جچ نہیں رہا
مرے زہن میں بھی یہ تکرار والا مصرع تھا - اگر یہ ٹھیک ہے تو میں تکرار والا رکھ لیتا ہوں
فیضان قیصر — اکتوبر 7، 2019 8:40 صبح
عظیم بھائی کیا یہ شعر ایسے صحیح ہے
مجھے دسترس میں اگر لینا ہے تو
تمھیں دور تک مجھ میں جانا پڑے گا
عظیم — اکتوبر 8، 2019 7:18 صبح
عظیم بھائی کیا یہ شعر ایسے صحیح ہے
مجھے دسترس میں اگر لینا ہے تو
تمھیں دور تک مجھ میں جانا پڑے گا
لینا میں الف کا اسقاط اچھا نہیں لگ رہا، سمجھنا چاہتے والا شعر زیادہ بہتر ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.108706/