غزل برائے اصلاح

Muhammad Ishfaq — مارچ 8، 2020 1:30 صبح
فاعلن فاعلن فاعلن
جب سے تیری ادا دیکھی ہے
ہم نے سر پر قضا دیکھی ہے
جس پہ کل ناز تھا مجھ کو
بدلی اس کی ہوا دیکھی ہے
غیر تو غیر ہیں ہم نے تو
اپنوں سے بھی جفا دیکھی ہے
کیوں مری جاں کا دشمن بنا
غلطی اس نے کیا دیکھی ہے
حق پہ اشفاق جو آ جائے
اس کو ملتی بقا دیکھی ہے
الف عین — مارچ 8، 2020 6:15 صبح
دیکھی ہے ردیف ہی پسند نہیں آئی، ی کے اسقاط کی وجہ سے
جس پہ کل ناز تھا مجھ کو
... بحر سے خارج
حق پہ اشفاق....
ایضاً
محمد احسن سمیع راحلؔ — مارچ 8، 2020 7:48 صبح
’’دیکھی ہے‘‘ کو ’’دیکھ لی‘‘ کرلیں ۔۔۔ ردیف کا مسئلہ حل ہوجائے گا، بیشتر اشعار معمولی رد و بدل کے ساتھ چل جائیں گے۔
محمد خلیل الرحمٰن — مارچ 9، 2020 2:36 صبح
’’دیکھی ہے‘‘ کو ’’دیکھ لی‘‘ کرلیں ۔۔۔ ردیف کا مسئلہ حل ہوجائے گا، بیشتر اشعار معمولی رد و بدل کے ساتھ چل جائیں گے۔
خوبصورت صلاح
Muhammad Ishfaq — مارچ 9، 2020 9:41 صبح
اساتذہ اکرام کا بہت شکریہ۔
Muhammad Ishfaq — مارچ 9، 2020 9:44 صبح
اصلاح کے بعد
فاعلن فاعلن فاعلن
جب بھی تیری ادا دیکھ لی
ہم نے سر پر قضا دیکھ لی
جس پہ کل ناز تھا مجھ کو
بدلی اس کی ہوا دیکھ لی
غیر تو غیر ہیں ہم نے تو
اپنوں سے بھی جفا دیکھ لی
کیوں مری جاں کا دشمن بنا
غلطی اس نے کیا دیکھ لی
حق پہ اشفاق جو آ گیا
اس کو ملتی بقا دیکھ لی
محمد خلیل الرحمٰن — مارچ 9، 2020 10:03 صبح
ہماری صلاح
جس پہ کل ناز تھا مجھ کو
بدلی اس کی ہوا دیکھ لی
مصرع وزن میں نہیں اسے یوں کرسکتے ہیں
جس پہ کل ناز تھا، آج کیوں
غیر تو غیر ہیں ہم نے تو
اپنوں سے بھی جفا دیکھ لی
دوستوں کی جفا دیکھ لی
کیوں مری جاں کا دشمن بنا
غلطی اس نے کیا دیکھ لی
بات ایسی بھی کیا دیکھ لی
حق پہ اشفاق جو آ گیا
اس کو ملتی بقا دیکھ لی
دوسرے مصرع کو بدل کر کہہ لیجیے۔
Muhammad Ishfaq — مارچ 10، 2020 12:53 صبح
ہماری صلاح
مصرع وزن میں نہیں اسے یوں کرسکتے ہیں
جس پہ کل ناز تھا، آج کیوں
دوستوں کی جفا دیکھ لی
بات ایسی بھی کیا دیکھ لی
دوسرے مصرع کو بدل کر کہہ لیجیے۔
بہت بہت شکریہ سر !
الف عین — مارچ 10، 2020 3:17 صبح
جس پہ کل ناز تھا مجھ کو
بدلی اس کی ہوا دیکھ لی
خلیل بھائی نے پہلا مصرع تو وزن میں موزوں کر دیا ہے لیکن دوسرے میں بدلی کی ی کا اسقاط اچھا نہیں لگ رہا
اس کی بدلی ہوا... کر دو
Muhammad Ishfaq — مارچ 10، 2020 4:26 شام
درستی کے بعد
فاعلن فاعلن فاعلن
جب بھی تیری ادا دیکھ لی
ہم نے سر پر قضا دیکھ لی
جس پہ کل ناز تھا، آج کیوں
اس کی بدلی ہوا دیکھ لی
غیر تو غیر ہیں ہم نے تو
اپنوں کی بھی جفا دیکھ لی
کیوں مری جاں کا دشمن بنا
بات ایسی بھی کیا دیکھ لی
حق پہ اشفاق جو آ گیا
پھر اسی نے بقا دیکھ لی
Muhammad Ishfaq — مارچ 10، 2020 4:27 شام
جس پہ کل ناز تھا مجھ کو
بدلی اس کی ہوا دیکھ لی
خلیل بھائی نے پہلا مصرع تو وزن میں موزوں کر دیا ہے لیکن دوسرے میں بدلی کی ی کا اسقاط اچھا نہیں لگ رہا
اس کی بدلی ہوا... کر دو
جی بہت اچھا
محمد خلیل الرحمٰن — مارچ 11، 2020 2:27 صبح
اپنوں کی بھی جفا دیکھ لی
اپنوں مکمل تقطیع نہیں ہوریا ہے بلکہ "اپنَ" پڑھا جارہا ہے۔
الف عین — مارچ 11، 2020 3:23 صبح
غیر تو غیر ہیں ہم نے تو
اپنوں کی بھی جفا دیکھ لی
... اپنوں پر غور نہیں کیا تھا میں نے، اب دیکھا تو پہلے مصرع کا طویل کھنچتا 'تو' بھی اچھا نہیں لگتا ہے
حق پہ اشفاق جو آ گیا
پھر اسی نے بقا دیکھ لی
کس کی بقا؟ اگر اشفاق کی ہی بقا کی بات ہے تو 'پھر' اور 'اسی' کی اہمیت؟
اس نے اپنی بقا دیکھ لی
کر. سکتے ہو
Muhammad Ishfaq — مارچ 11، 2020 5:26 شام
غیر تو غیر ہیں ہم نے تو
اپنوں کی بھی جفا دیکھ لی
... اپنوں پر غور نہیں کیا تھا میں نے، اب دیکھا تو پہلے مصرع کا طویل کھنچتا 'تو' بھی اچھا نہیں لگتا ہے
حق پہ اشفاق جو آ گیا
پھر اسی نے بقا دیکھ لی
کس کی بقا؟ اگر اشفاق کی ہی بقا کی بات ہے تو 'پھر' اور 'اسی' کی اہمیت؟
اس نے اپنی بقا دیکھ لی
کر. سکتے ہو
بجا فرمایا آپ نے پھر ’’دوستوں‘‘ہی کرلیتے ہیں۔ااور آخری مصرع میں ’’اس نے اپنی بقا دیکھ لی‘‘کر لیتے ہیں۔
شکریہ سرجی۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.110792/