غزل برائے اصلاح

Muhammad Ishfaq — اپریل 7، 2020 10:39 صبح
مجھے ہے تیری آس تب تک
رہے گی چلتی سانس جب تک
کہ پھرے جام بزم میں تیری
نہ مگر پہنچا میرے لب تک
نہ ملے جب تک اک بھی قطرہ
رہے گی مجھ کو پیاس تب تک
کبھی تو ہوگی رات کی صبح
رہے گی چلتی یاس کب تک
خطا کا ہے کسی صلہ ملا
مجھےآئی وفا نہ راس اب تک
بجھی تو تھی یہ آگ لیکن
کہ دھواں جلا نصف شب تک
وہاں اشفاق ہوں جہاں سے
کہ پہنچے مری صدا سب تک
الف عین — اپریل 8، 2020 6:02 صبح
ایسی خود ساختہ بحور سے پرہیز کریں
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 8، 2020 8:41 صبح
رہے گی مجھ کو پیاس تب تک
اس مصرعے میں اگر پیاس کو ’’پی۔یاس‘‘ تقطیع کیا جائے (جو کہ درست تقطیع نہیں) تو بحر مفاعلاتن مفاعلاتن بنے گی۔ مجھے نہیں معلوم کہ آپ کی مزعومہ بحر یہی ہے یا نہیں۔ جیسا کہ استادِ محترم نے اشارہ کیا، یہ کوئی خودساختہ بحر بھی ہوسکتی ہے۔
بہرحال، معمولی ترامیم کے ذریعے بیشتر مصارع کو مفاعلاتن مفاعلاتن کے وزن پر موزوں کیا جاسکتا ہے۔ میرا مشورہ یہ ہوگا کہ آپ غزل کو اس وزن پر موزوں کرکے دوبارہ لگائیں تو بہتر صلاح دی جاسکتی ہے۔
اَرفَق پورن پوری — اپریل 8، 2020 9:29 صبح
مجھے ہے تیری آس تب تک
رہے گی چلتی سانس جب تک
کہ پھرے جام بزم میں تیری
نہ مگر پہنچا میرے لب تک
نہ ملے جب تک اک بھی قطرہ
رہے گی مجھ کو پیاس تب تک
کبھی تو ہوگی رات کی صبح
رہے گی چلتی یاس کب تک
خطا کا ہے کسی صلہ ملا
مجھےآئی وفا نہ راس اب تک
بجھی تو تھی یہ آگ لیکن
کہ دھواں جلا نصف شب تک
وہاں اشفاق ہوں جہاں سے
کہ پہنچے مری صدا سب تک

مجھے تیری رہے گی آس تب تک
مری چلتی رہے گی سانس جب تک
Muhammad Ishfaq — اپریل 8، 2020 12:35 شام
اس مصرعے میں اگر پیاس کو ’’پی۔یاس‘‘ تقطیع کیا جائے (جو کہ درست تقطیع نہیں) تو بحر مفاعلاتن مفاعلاتن بنے گی۔ مجھے نہیں معلوم کہ آپ کی مزعومہ بحر یہی ہے یا نہیں۔ جیسا کہ استادِ محترم نے اشارہ کیا، یہ کوئی خودساختہ بحر بھی ہوسکتی ہے۔
بہرحال، معمولی ترامیم کے ذریعے بیشتر مصارع کو مفاعلاتن مفاعلاتن کے وزن پر موزوں کیا جاسکتا ہے۔ میرا مشورہ یہ ہوگا کہ آپ غزل کو اس وزن پر موزوں کرکے دوبارہ لگائیں تو بہتر صلاح دی جاسکتی ہے۔
اساتذہ اکرام کی توجہ کا شکریہ !
ان جانے میں بن گئی ہے تو کیا یہ قابل قبول نہیں ؟ آئندہ احتیاط کریں گے۔
Muhammad Ishfaq — اپریل 8، 2020 12:36 شام
مجھے تیری رہے گی آس تب تک
مری چلتی رہے گی سانس جب تک
شکریہ جناب ! خوش آمدید مرحبا
Muhammad Ishfaq — اپریل 8، 2020 1:04 شام
اساتذہ اکرام سے گزارش ہے کہ مجھے کوئی ایک طرح مصرعہ دیں تاکہ میں اس پر طبع آزمائی کروں اور میری موزوں بحر پر مشق ہو۔ مثلا فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن شکریہ
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 8، 2020 1:09 شام
ارفق بھائی نے جو صلاح دی ہے اس کے مطابق بحر ’’مفاعیلن مفاعیلن فعولن‘‘ بنتی ہے، مصرعے بھی انہوں نے تجویز کردیئے ہیں، سو آپ ان خطوط پر سوچ سکتے ہیں۔
میرا مشورہ ہے کہ اصلاح کے لئے غزل لگاتے وقت ساتھ میں اپنی مزعومہ بحر کے افاعیل لکھ دیا کریں۔
Muhammad Ishfaq — اپریل 9، 2020 1:51 صبح
ارفق بھائی نے جو صلاح دی ہے اس کے مطابق بحر ’’مفاعیلن مفاعیلن فعولن‘‘ بنتی ہے، مصرعے بھی انہوں نے تجویز کردیئے ہیں، سو آپ ان خطوط پر سوچ سکتے ہیں۔
میرا مشورہ ہے کہ اصلاح کے لئے غزل لگاتے وقت ساتھ میں اپنی مزعومہ بحر کے افاعیل لکھ دیا کریں۔
ٹھیک ہے سر !

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.111158/