غزل برائے اصلاح

سید احسان — اپریل 12، 2020 7:30 صبح
※غزل برائے اصلاح
خلش کیسی یہ دل میں شام سے ہونے لگی ہے
محبت پھر کسی گم نام سے ہونے لگی ہے
تمہارے حسن کو جب چاند سا کہنے لگے ہیں
محبت چرخِ نیلی فام سے ہونے لگی ہے
خماری اس قدر چھائی ہے مجھ پر، ہائے توبہ
کہ وحشت ہر سبو ہر جام سے ہونےلگی ہے
وبائے بے نشاں اتری ہے ایسی اس زمیں پر
کہ اک بیگانگی ہر گام سے ہونے لگی ہے
مرا سر تیرے سنگِ در کے آگے جھک رہا ہے
کرامت کیسی یہ اصنام سے ہونے لگی ہے
تمہارے ہجر میں حالت اب ایسی ہو گئی ہے
مجھے وحشت مرے انجام سے ہونے لگی ہے
ترے کوچے سے احساں کو نکالا یوں رقیبوں نے
عقیدت اب اسے دشنام سے ہونے لگی ہے
✍️سید احسان الحق
خورشید آباد ضلع حویلی(کہوٹہ)
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 12، 2020 8:08 صبح
خوبصورت اور پانی کی سی روانی لیے ہوئے۔ داد قبول فرمائیے
ترے کوچے سے احساں کو نکالا یوں رقیبوں نے
عقیدت اب اسے دشنام سے ہونے لگی ہے

احسان کی جگہ آپ نے احساں استعمال کیا ہے جو کچھ عجیب لگ رہا ہے۔
الف عین — اپریل 12، 2020 8:15 صبح
احسان کی جگہ آپ نے احساں استعمال کیا ہے جو کچھ عجیب لگ رہا ہے۔
کوئی حرج نہیں
البتہ ان دو اشعار میں
مرا سر تیرے سنگِ در کے آگے جھک رہا ہے
کرامت کیسی یہ اصنام سے ہونے لگی ہے
تمہارے ہجر میں حالت اب ایسی ہو گئی ہے
مجھے وحشت مرے انجام سے ہونے لگی ہے
دونوں مصرعے 'یے' ہر ختم ہو رہے ہیں، ترتیب بدل کر سقم دور کر سکتے ہیں ،مثلاً
مرا سر جھک رہا ہے تیرے سنگ در کے آگے
Anees jan — اپریل 12، 2020 8:50 صبح
ترے کوچے سے احساں کو نکالا یوں رقیبوں نے
اس میں افاعیل پورے ہے جب کی باقی غزل محذوف
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 12، 2020 1:17 شام
ترے کوچے سے احساں کو نکالا یوں رقیبوں نے
عقیدت اب اسے دشنام سے ہونے لگی ہے
کیا سالم اور محذوف کا ایک ہی غزل میں یوں مقابل آنا جائز ہے؟
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 12، 2020 2:11 شام
اس میں افاعیل پورے ہے جب کی باقی غزل محذوف

کیا سالم اور محذوف کا ایک ہی غزل میں یوں مقابل آنا جائز ہے؟

بہت خوب پکڑا!
سید احسان — اپریل 12، 2020 7:05 شام
کوئی حرج نہیں
البتہ ان دو اشعار میں
مرا سر تیرے سنگِ در کے آگے جھک رہا ہے
کرامت کیسی یہ اصنام سے ہونے لگی ہے
تمہارے ہجر میں حالت اب ایسی ہو گئی ہے
مجھے وحشت مرے انجام سے ہونے لگی ہے
دونوں مصرعے 'یے' ہر ختم ہو رہے ہیں، ترتیب بدل کر سقم دور کر سکتے ہیں ،مثلاً
مرا سر جھک رہا ہے تیرے سنگ در کے آگے
بہتر سر ۔۔ تعمیل ہو گی
سید احسان — اپریل 12، 2020 7:06 شام
خوبصورت اور پانی کی سی روانی لیے ہوئے۔ داد قبول فرمائیے
احسان کی جگہ آپ نے احساں استعمال کیا ہے جو کچھ عجیب لگ رہا ہے۔
احسان کہنے سے وزن کا مسئلہ ہوگا ۔۔ یا کہ نہیں؟؟
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 12، 2020 7:20 شام
احسان کہنے سے وزن کا مسئلہ ہوگا ۔۔ یا کہ نہیں؟؟
آپ ہی بتائیے احساں صاحب، ہمیں تو علم نہیں!!!
سید احسان — اپریل 12، 2020 7:24 شام
آپ ہی بتائیے احساں صاحب، ہمیں تو علم نہیں!!!
سر معذرت ۔۔۔ میں نے پوچھا ہے اگر احسان لکھنے میں کوئی قباحت نہ تو لکھ دیا جائے ۔۔ معذرت سر
الف عین — اپریل 13، 2020 4:25 صبح
احساں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اگر مجبوری ہو، لیکن کیونکہ یہ شعر ہی تقطیع کر کے نہیں دیکھا تھا اس لیے افاعیل مکمل ہونے پر غور نہیں کیا جا سکا
شعر کے الفاظ بدلے جائیں تو دیکھ لیں، اگر احسان مکمل آ سکتا ہو تو بہتر، ورنہ احساں پر اکتفا کیا جائے
سید احسان — اپریل 13، 2020 5:01 صبح
احساں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اگر مجبوری ہو، لیکن کیونکہ یہ شعر ہی تقطیع کر کے نہیں دیکھا تھا اس لیے افاعیل مکمل ہونے پر غور نہیں کیا جا سکا
شعر کے الفاظ بدلے جائیں تو دیکھ لیں، اگر احسان مکمل آ سکتا ہو تو بہتر، ورنہ احساں پر اکتفا کیا جائے
جی سر ۔۔ دیکھتا ہوں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.111217/