غزل برائے اصلاح

فیضان قیصر — مئی 3، 2020 7:12 شام
جسے دیکھیے وہ مریضِ انا ہے
مرض غالِباً یہ وبا بن چکا ہے
چھٹی گرد منظر سے تب یہ کھلا ہے
تعلق لڑائی میں مارا گیا ہے
میں دشتِ جفا کا مسافر رہا ہوں
الم آشنا ہوں خدا جانتا ہے
مقید نہ کر طائرِ فکر کو تُو
کہ منطق کی پرواز عقدہ کشا ہے
بہلتا نہیں ہوں میں جھوٹی ادا سے
مرا دل محبت کو پہچانتا ہے
عجب رنگ ہے ان دنوں میرے دل کا
نہ خوش آشنا ہے نہ ٖغم آشنا ہے
سبھی سے ہی تُو مسکرا کر ملا کر
کسی کو ترے غم سے کیا واسطہ ہے
انھوں نے تو فیضان ہے تجھ کو پایا
ذرا تُو بتا نا تجھے کیا ملا ہے
فیضان قیصر — مئی 3، 2020 7:13 شام
الف عین سر
راحل بھائی
محمد خلیل الرحمٰن — مئی 3، 2020 8:23 شام
ہماری صلاح
عجب رنگ ہے ان دنوں میرے دل کا
نہ خوش آشنا ہے نہ ٖغم آشنا ہے

خوشی آشنا ہے نہ غم آشنا ہے
انھوں نے تو فیضان ہے تجھ کو پایا
ذرا تُو بتا نا تجھے کیا ملا ہے

انہوں نے تو پایا ہے فیضان تجھ کو
فیضان قیصر — مئی 3، 2020 9:19 شام
ہماری صلاح
خوشی آشنا ہے نہ غم آشنا ہے
انہوں نے تو پایا ہے فیضان تجھ کو

بہت شکریہ سر، میرا خیال ہے آپ کی صلح نے دونوں مصرعوں کو بہتر کر دیا ہے، بہت شکریہ
محمد خلیل الرحمٰن — مئی 3، 2020 9:20 شام
ج
بہت شکریہ سر، میرا خیال ہے آپ کی صلح نے دونوں مصرعوں کو بہتر کر دیا ہے، بہت شکریہ
جزاک اللّہ
Muhammad Ishfaq — مئی 4، 2020 1:40 صبح
سر ! کیا انا،تا، کا ،نا وغیرہ کا قوافی ،،طہ،، ہو سکتا ہے؟
محمد احسن سمیع راحلؔ — مئی 4، 2020 4:18 صبح
سر ! کیا انا،تا، کا ،نا وغیرہ کا قوافی ،،طہ،، ہو سکتا ہے؟
جی، ہوسکتا ہے.
یہ جس کو عرف عام میں سلسلہ والی ہ کہتے ہیں، اس پر ختم ہونے والے الفاظ کو الف پر ختم ہونے الفاظ کا قافیہ بنایا جاسکتا ہے اگر مطلع میں کوئی مخصوص بندش نہ قائم کی گئی ہو.
محمد احسن سمیع راحلؔ — مئی 4، 2020 4:22 صبح
جسے دیکھیے وہ مریضِ انا ہے
مرض غالِباً یہ وبا بن چکا ہے
چھٹی گرد منظر سے تب یہ کھلا ہے
تعلق لڑائی میں مارا گیا ہے
میں دشتِ جفا کا مسافر رہا ہوں
الم آشنا ہوں خدا جانتا ہے
مقید نہ کر طائرِ فکر کو تُو
کہ منطق کی پرواز عقدہ کشا ہے
بہلتا نہیں ہوں میں جھوٹی ادا سے
مرا دل محبت کو پہچانتا ہے
عجب رنگ ہے ان دنوں میرے دل کا
نہ خوش آشنا ہے نہ ٖغم آشنا ہے
سبھی سے ہی تُو مسکرا کر ملا کر
کسی کو ترے غم سے کیا واسطہ ہے
انھوں نے تو فیضان ہے تجھ کو پایا
ذرا تُو بتا نا تجھے کیا ملا ہے
اچھی غزل ہے، ماشاءاللہ. جناب خلیل صاحب کی اصلاح نے اور نکھار دیا ہے. مزید بہتری استاد محترم ہی تجویز کرسکتے ہیں.
Muhammad Ishfaq — مئی 4، 2020 6:47 صبح
جی، ہوسکتا ہے.
یہ جس کو عرف عام میں سلسلہ والی ہ کہتے ہیں، اس پر ختم ہونے والے الفاظ کو الف پر ختم ہونے الفاظ کا قافیہ بنایا جاسکتا ہے اگر مطلع میں کوئی مخصوص بندش نہ قائم کی گئی ہو.
جی شکریہ
الف عین — مئی 4، 2020 11:41 صبح
آخری دو اشعار پر ہی مزید اعتراض کیا جا سکتا ہے
سبھی سے ہی تُو مسکرا کر ملا کر
کسی کو ترے غم سے کیا واسطہ ہے
سبھی سے ہی... میں ہی کا اضافہ اور دو بار 'کر' کچھ گراں گزرتے ہیں، الفاظ بدل دیں
انھوں نے تو فیضان ہے تجھ کو پایا
ذرا تُو بتا نا تجھے کیا ملا ہے
پہلے مصرع کی خلیل میاں کی، صلاح کے علاوہ دوسرے میں 'نا' بتا کے ساتھ 'بتانا' فعل لگتا ہے جب کہ شاید مراد ہے بتا نا! ( اس نا کو کچھ لوگ ناں بھی لکھتے ہیں جو اگرچہ غلط ہے لیکن محض سمجھانے کے لئے لکھ رہا ہوں، الفاظ بدل کر کوشش کریں
فیضان قیصر — مئی 4، 2020 6:28 شام
آخری دو اشعار پر ہی مزید اعتراض کیا جا سکتا ہے
سبھی سے ہی تُو مسکرا کر ملا کر
کسی کو ترے غم سے کیا واسطہ ہے
سبھی سے ہی... میں ہی کا اضافہ اور دو بار 'کر' کچھ گراں گزرتے ہیں، الفاظ بدل دیں
شکریہ سر
انھوں نے تو فیضان ہے تجھ کو پایا
ذرا تُو بتا نا تجھے کیا ملا ہے
پہلے مصرع کی خلیل میاں کی، صلاح کے علاوہ دوسرے میں 'نا' بتا کے ساتھ 'بتانا' فعل لگتا ہے جب کہ شاید مراد ہے بتا نا! ( اس نا کو کچھ لوگ ناں بھی لکھتے ہیں جو اگرچہ غلط ہے لیکن محض سمجھانے کے لئے لکھ رہا ہوں، الفاظ بدل کر کوشش کریں
فیضان قیصر — مئی 4، 2020 8:46 شام
آخری دو اشعار پر ہی مزید اعتراض کیا جا سکتا ہے
سبھی سے ہی تُو مسکرا کر ملا کر
کسی کو ترے غم سے کیا واسطہ ہے
سبھی سے ہی... میں ہی کا اضافہ اور دو بار 'کر' کچھ گراں گزرتے ہیں، الفاظ بدل دیں
انھوں نے تو فیضان ہے تجھ کو پایا
ذرا تُو بتا نا تجھے کیا ملا ہے
پہلے مصرع کی خلیل میاں کی، صلاح کے علاوہ دوسرے میں 'نا' بتا کے ساتھ 'بتانا' فعل لگتا ہے جب کہ شاید مراد ہے بتا نا! ( اس نا کو کچھ لوگ ناں بھی لکھتے ہیں جو اگرچہ غلط ہے لیکن محض سمجھانے کے لئے لکھ رہا ہوں، الفاظ بدل کر کوشش کریں

کیا یوں بہتر رہے گا
سرِ بزم یاروں سے ہنس کے ملا کر
یا
سرِ بزمِ یاراں فقط خوش رہا کر
کسی کو ترے غم سے کیا واسطہ ہے
انہوں نے تو پایا ہے فیضان تجھ کو
ذرا تو بتا اب تجھے کیا ملا ہے
الف عین — مئی 5، 2020 5:43 صبح
ہنس کے ملا کر.. بہتر ہے
مقطع درست ہو گیا
فیضان قیصر — مئی 7، 2020 2:30 شام
ہنس کے ملا کر.. بہتر ہے
مقطع درست ہو گیا

سران تینوں اشعار کے حوالے سے بھی رائے مطلوب ہے
انا درمیاں آگئی ہے ہمارے
وگرنہ تو اک کال کا فاصلہ ہے
سبھی کو ضرورت ہے اک دوسرے کی
محبت کا بندھن فقط واہمہ ہے
ترا مشورہ ہے بہت خوب لیکن
مرا دل کسی کی نہیں مانتا ہے
الف عین — مئی 8، 2020 5:30 صبح
سران تینوں اشعار کے حوالے سے بھی رائے مطلوب ہے
انا درمیاں آگئی ہے ہمارے
وگرنہ تو اک کال کا فاصلہ ہے
سبھی کو ضرورت ہے اک دوسرے کی
محبت کا بندھن فقط واہمہ ہے
ترا مشورہ ہے بہت خوب لیکن
مرا دل کسی کی نہیں مانتا ہے
پہلے دونوں اشعار تو درست لگ رہے ہیں لیکن تیسرا شعر واضح نہیں، کس بات کا مشورہ ہے، کچھ اس کا اشارہ تو کیا جائے!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.111643/