غزل برائے اصلاح

فیضان قیصر — مئی 17، 2020 6:28 شام
یا تو میں درد کی شدت سے نکھر جاؤں گا
یا کسی روز میں خود پر سے گزر جاؤں گا
تم نے سوچا بھی یہ کیسے کہ گنوا دوں گا تمھیں
میں یہ سوچوں بھی تو لگتا ہے کہ مرجاؤں گا
مجھ کو بدلے میں محبت کے محبت دینا
ورنہ دعوائے محبت سے مکر جاؤں گا
چھوڑ دوں کیسے یہ محفوظ ٹھکانہ اپنا
میں ترے دل سے نکل کر تو بکھر جاؤں گا
میں تمھیں بزم سے جانے نہیں دوں گا یارو
تم تو گھر جاؤگے لیکن میں کدھر جاؤں گا
ایک دن تو بھی مجھے یاد نہیں آئے گا
میں بھی اک روز ترے دل سے اتر جاؤں گا
اب سمندر کے حوالے ہے قیادت فیضان
جہاں لے جائے گا مجھ کو میں ادھر جاؤں گا
لے کے جائے گا جدھر مجھ کو ادھر جاؤں گا
فیضان قیصر — مئی 17، 2020 6:30 شام
الف عین سر
@راحل بھائی
الف عین — مئی 18، 2020 4:57 صبح
ٹھیک ہے غزل، کوئی سقم تو نظر نہیں آتا،
آخری مصرعہ بہتر متبادل ہے
فیضان قیصر — مئی 19، 2020 2:07 صبح
ٹھیک ہے غزل، کوئی سقم تو نظر نہیں آتا،
آخری مصرعہ بہتر متبادل ہے
بہت شکریہ سر
محمد احسن سمیع راحلؔ — مئی 19، 2020 4:42 صبح
ماشاءاللہ، اچھی غزل ہے،
بس اس شعر نے کچھ مزہ کرکرا کردیا
مجھ کو بدلے میں محبت کے محبت دینا
ورنہ دعوائے محبت سے مکر جاؤں گا
یہ کیا بات ہوئی بھلا! بقول شخصے
؏. یہ تو راحلؔ عشق کی تحقیر ہے! :)
فیضان قیصر — مئی 20، 2020 4:09 شام
ماشاءاللہ، اچھی غزل ہے،
بس اس شعر نے کچھ مزہ کرکرا کردیا
مجھ کو بدلے میں محبت کے محبت دینا
ورنہ دعوائے محبت سے مکر جاؤں گا
یہ کیا بات ہوئی بھلا! بقول شخصے
؏. یہ تو راحلؔ عشق کی تحقیر ہے! :)
شاید اسکی وجہ یہ ہے کہ میں یکطرفہ محبت کا قائل نہیں ہوں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.111829/