غزل برائے اصلاح

محمل ابراہیم — اکتوبر 21، 2020 8:55 صبح
محترم اساتذہ الف عین
محمد احسن سمیع:راحل
محمد خلیل الرحمٰن
سید عاطف علی
آداب
آپ سے اصلاح و رہنمائی کی درخواست ہے_____
تخیل سے مرے وہ شمعِ نورانی نہیں جاتی
کہ عاشق زار پروانوں کی نادانی نہیں جاتی
بہت چاہا کہ چھٹکارا ملے مجھ کو تردد سے
مگر میں کیا کروں میری پریشانی نہیں جاتی
بہ کثرت آبرو ریزی کے قصے روز سنتی ہُوں
مگر پھر بھی یہ عالم ہے کہ حیرانی نہیں جاتی
ترے در پر جو آئی ہُوں تو مل کر تُجھ سے جاؤں گی
بلا دیدار،چوکھٹ سے یہ دیوانی نہیں جاتی
وضو کے بعد گل غنچے عبادت رب کی کرتے ہیں
اسی خاطر فلک کی شبنم افشانی نہیں جاتی
بڑی تیزی سے مغرب کے مقلد بنتے جاتے ہیں
خدایا اہلِ مشرق کی یہ نادانی نہیں جاتی
نہایا خونِ بے کس سے زمیں کا چپّہ چپّہ ہے
عجب محشر بپا ہے جاں کی ارزانی نہیں جاتی
سحؔر رنگینئ دنیا میں ڈوبا ابنِ آدم ہے
یہی تو ہے سبب کہ دل کی ویرانی نہیں جاتی
امین شارق — اکتوبر 22، 2020 7:53 صبح
محترم اساتذہ الف عین
محمد احسن سمیع:راحل
محمد خلیل الرحمٰن
سید عاطف علی
آداب
آپ سے اصلاح و رہنمائی کی درخواست ہے_____
تخیل سے مرے وہ شمعِ نورانی نہیں جاتی
کہ عاشق زار پروانوں کی نادانی نہیں جاتی
بہت چاہا کہ چھٹکارا ملے مجھ کو تردد سے
مگر میں کیا کروں میری پریشانی نہیں جاتی
بہ کثرت آبرو ریزی کے قصے روز سنتی ہُوں
مگر پھر بھی یہ عالم ہے کہ حیرانی نہیں جاتی
ترے در پر جو آئی ہُوں تو مل کر تُجھ سے جاؤں گی
بلا دیدار،چوکھٹ سے یہ دیوانی نہیں جاتی
وضو کے بعد گل غنچے عبادت رب کی کرتے ہیں
اسی خاطر فلک کی شبنم افشانی نہیں جاتی
بڑی تیزی سے مغرب کے مقلد بنتے جاتے ہیں
خدایا اہلِ مشرق کی یہ نادانی نہیں جاتی
نہایا خونِ بے کس سے زمیں کا چپّہ چپّہ ہے
عجب محشر بپا ہے جاں کی ارزانی نہیں جاتی
سحؔر رنگینئ دنیا میں ڈوبا ابنِ آدم ہے
یہی تو ہے سبب کہ دل کی ویرانی نہیں جاتی
خوبصورت غزل
محمد احسن سمیع راحلؔ — اکتوبر 22، 2020 9:38 صبح
تخیل سے مرے وہ شمعِ نورانی نہیں جاتی
کہ عاشق زار پروانوں کی نادانی نہیں جاتی
عاشق زار بغیر کسرۂ اضافت کے شاید درست ترکیب نہ ہو، کسرۂ اضافت کے ساتھ وزن میں پورا نہیں آتا۔
بہت چاہا کہ چھٹکارا ملے مجھ کو تردد سے
مگر میں کیا کروں میری پریشانی نہیں جاتی
بہت مبہم سا بیان ہے؟ کیسا تردد، کس بات کی پریشانی؟؟؟ کوئی تو اشارہ ہونا چاہیے۔
ترے در پر جو آئی ہُوں تو مل کر تُجھ سے جاؤں گی
بلا دیدار،چوکھٹ سے یہ دیوانی نہیں جاتی
میرے خیال میں پہلے مصرعے کی بنت بہتر ہو سکتی ہے کم و بیش انہیں الفاظ کے ساتھ۔ مثلاً
ترے در تک جو آئی ہوں، تو اب مل کر ہی جاؤں گی
بڑی تیزی سے مغرب کے مقلد بنتے جاتے ہیں
خدایا اہلِ مشرق کی یہ نادانی نہیں جاتی
اگر دوسرے مصرعے میں خدا سے سوال کرنا مقصود ہے، تو بات ’’کیوں‘‘ کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ اسی لیے یہ مصرعے تشنۂ الفاظ محسوس ہوتا ہے۔
نہایا خونِ بے کس سے زمیں کا چپّہ چپّہ ہے
عجب محشر بپا ہے جاں کی ارزانی نہیں جاتی
یہاں بھی آسانی سے پہلے مصرعے سے تعقید دور کی جاسکتی ہے، مثلاً
زمیں کا چپہ چپہ خونِ بےکس میں نہایا ہے
سحؔر رنگینئ دنیا میں ڈوبا ابنِ آدم ہے
یہی تو ہے سبب کہ دل کی ویرانی نہیں جاتی
دوسرے مصرعے میں ’’کہ‘‘ کو دوحرفی باندھنا غلط ہے۔
محمل ابراہیم — اکتوبر 22، 2020 12:53 شام
شکریہ
محمل ابراہیم — اکتوبر 23، 2020 11:29 صبح
بڑی تیزی سے مغرب کے مقلد بنتے جاتے ہیں
خدایا اہلِ مشرق کی یہ نادانی نہیں جاتی
اگر دوسرے مصرعے میں خدا سے سوال کرنا مقصود ہے، تو بات ’’کیوں‘‘ کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ اسی لیے یہ مصرعے تشنۂ الفاظ محسوس ہوتا ہے۔
یہاں سوال تو نہیں کیا میں نے خدا سے۔۔۔۔۔۔۔
سر مجھے آپ کی یہ بات سمجھ نہیں آئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تھوڑی وضاحت درکار ہے۔
محمل ابراہیم — اکتوبر 23، 2020 3:15 شام
اساتذہ سے نظرِ ثانی کی درخواست ہے_____
تخیل سے مرے وہ شمعِ نورانی نہیں جاتی
اسیر عشق پروانوں کی نادانی نہیں جاتی
بہت چاہا کہ چھٹکارا ملے فکرِ معیشت سے
یا
دلِ بے کل کو بہلانے کے ساماں کر لئے لاکھوں
مگر میں کیا کروں میری پریشانی نہیں جاتی
بہ کثرت آبرو ریزی کے قصے روز سنتی ہُوں
مگر پھر بھی یہ عالم ہے کہ حیرانی نہیں جاتی
ترے در تک جو آئی ہُوں، تو اب مل کر ہی جاؤں گی
بلا دیدار،چوکھٹ سے یہ دیوانی نہیں جاتی
وضو کے بعد گل غنچے عبادت رب کی کرتے ہیں
اسی خاطر فلک کی شبنم افشانی نہیں جاتی
بڑی تیزی سے کیوں تقلیدِ مغرب کر رہے ہیں ہم
خدایا اہلِ مشرق کی یہ نادانی نہیں جاتی
زمیں کا چپّہ چپّہ خون بے کس میں نہایا ہے
عجب محشر بپا ہے جاں کی ارزانی نہیں جاتی
جو صورت گھومتی پھرتی تھی ہر دم روبرو میرے
یہ کیا عالم ہے اب وہ شکل پہچانی نہیں جاتی
یا
مگر اب وہ شناسا شکل پہچانی نہیں جاتی
سحؔر رنگینئ دنیا میں ڈوبا ابنِ آدم ہے
یہی تو ہے سبب جو دل کی ویرانی نہیں جاتی
الف عین — اکتوبر 24، 2020 10:44 صبح
مجھے مطلع دو لخت لگ رہا ہے، شمع نورانی سے کوئی خاص شخصیت مراد ہے؟
دلِ بے کل کو بہلانے کے... والا مصرع بہتر ہے
وضو کے بعد گل غنچے عبادت رب کی کرتے ہیں
اسی خاطر فلک کی شبنم افشانی نہیں جاتی
.. گل غنچے کا مرکب کچھ عجیب ہے، صرف غنچے کہو یا گل۔
وضو کر کے عبادت رب کی کرتے ہیں چمن میں گل/پھول
بڑی تیزی سے کیوں تقلیدِ مغرب کر رہے ہیں ہم
خدایا اہلِ مشرق کی یہ نادانی نہیں جاتی
.. مجھے لگتا ہے کہ خدایا ہی بھرتی کا ہے،
اور
سحؔر رنگینئ دنیا میں ڈوبا ابنِ آدم ہے
یہی تو ہے سبب جو دل کی ویرانی نہیں جاتی
... اس دل کی ویرانی' لانا بہتر ہو گا، جیسے
یہی ہے وجہ اس دل کی جو ویرانی...
محمل ابراہیم — اکتوبر 24، 2020 11:51 صبح
مجھے مطلع دو لخت لگ رہا ہے، شمع نورانی سے کوئی خاص شخصیت مراد ہے؟
دلِ بے کل کو بہلانے کے... والا مصرع بہتر ہے
وضو کے بعد گل غنچے عبادت رب کی کرتے ہیں
اسی خاطر فلک کی شبنم افشانی نہیں جاتی
.. گل غنچے کا مرکب کچھ عجیب ہے، صرف غنچے کہو یا گل۔
وضو کر کے عبادت رب کی کرتے ہیں چمن میں گل/پھول
بڑی تیزی سے کیوں تقلیدِ مغرب کر رہے ہیں ہم
خدایا اہلِ مشرق کی یہ نادانی نہیں جاتی
.. مجھے لگتا ہے کہ خدایا ہی بھرتی کا ہے،
اور
سحؔر رنگینئ دنیا میں ڈوبا ابنِ آدم ہے
یہی تو ہے سبب جو دل کی ویرانی نہیں جاتی
... اس دل کی ویرانی' لانا بہتر ہو گا، جیسے
یہی ہے وجہ اس دل کی جو ویرانی...

نہیں سر شمع نورانی صرف چراغ کے لئے ہی استعمال کیا ہے میں نے۔
محمل ابراہیم — اکتوبر 30، 2020 5:39 صبح
اُستاد محترم الف عین
محمد احسن سمیع: راحل
سید عاطف علی
آپ سے نظر ثانی کی درخواست ہے_____
تخیل سے مرے وہ شمعِ نورانی نہیں جاتی
وہ اُس کی ضو فشاں لپٹوں کی تابانی نہیں جاتی
دلِ بے کل کو بہلانے کے ساماں کر لئے لاکھوں
مگر میں کیا کروں میری پریشانی نہیں جاتی
بہ کثرت آبرو ریزی کے قصے روز سنتی ہُوں
مگر پھر بھی یہ عالم ہے کہ حیرانی نہیں جاتی
ترے در تک جو آئی ہُوں، تو اب مل کر ہی جاؤں گی
بلا دیدار،چوکھٹ سے یہ دیوانی نہیں جاتی
وضو کر کے عبادت رب کی کرتے ہیں چمن میں گل
اسی خاطر فلک کی شبنم افشانی نہیں جاتی
بڑی تیزی سے مغرب کے مقلد بنتے جاتے ہیں
ہے صد افسوس مشرق کی یہ نادانی نہیں جاتی
زمیں کا چپّہ چپّہ خون بے کس میں نہایا ہے
عجب محشر بپا ہے جاں کی ارزانی نہیں جاتی
سحؔر رنگینئ دنیا میں ڈوبا ابنِ آدم ہے
یہی ہے وجہ اس دل کی جو ویرانی نہیں جاتی
الف عین — اکتوبر 31، 2020 5:24 صبح
تخیل سے مرے وہ شمعِ نورانی نہیں جاتی
وہ اُس کی ضو فشاں لپٹوں کی تابانی نہیں جاتی
.. لپٹیں تو شعلے والی آگ میں ہوتی ہیں، شمع میں نہیں
دلِ بے کل کو بہلانے کے ساماں کر لئے لاکھوں
مگر میں کیا کروں میری پریشانی نہیں جاتی
... درست
بہ کثرت آبرو ریزی کے قصے روز سنتی ہُوں
مگر پھر بھی یہ عالم ہے کہ حیرانی نہیں جاتی
.. درست
ترے در تک جو آئی ہُوں، تو اب مل کر ہی جاؤں گی
بلا دیدار،چوکھٹ سے یہ دیوانی نہیں جاتی
.. درست
وضو کر کے عبادت رب کی کرتے ہیں چمن میں گل
اسی خاطر فلک کی شبنم افشانی نہیں جاتی
... درست
بڑی تیزی سے مغرب کے مقلد بنتے جاتے ہیں
ہے صد افسوس مشرق کی یہ نادانی نہیں جاتی
.. یہ تو پھر وہی سوال پیدا ہوگیا کہ کون؟ درست کر کے بگاڑ دیا اس کو!
زمیں کا چپّہ چپّہ خون بے کس میں نہایا ہے
عجب محشر بپا ہے جاں کی ارزانی نہیں جاتی
.. ٹھیک
سحؔر رنگینئ دنیا میں ڈوبا ابنِ آدم ہے
یہی ہے وجہ اس دل کی جو ویرانی نہیں جاتی
.. درست
محمل ابراہیم — اکتوبر 31، 2020 12:54 شام
سر اب ٹھیک ہے ...............؟؟؟
تخیل سے مرے وہ شمعِ نورانی نہیں جاتی
وہ اس کے پُر ضیا چہرے کی تابانی نہیں جاتی
بڑی تیزی سے کیوں تقلیدِ مغرب کر رہے ہیں ہم
ہے صد افسوس مغرب کی یہ نادانی نہیں جاتی
الف عین — نومبر 1، 2020 5:16 صبح
وہ اس کے چہرۂ روشن کی تابانی....
مجھے اچھا لگ رہا ہے
دوسرا شعر ٹھیک ہو گیا
محمل ابراہیم — نومبر 1، 2020 5:19 صبح
وہ اس کے چہرۂ روشن کی تابانی....
مجھے اچھا لگ رہا ہے
دوسرا شعر ٹھیک ہو گیا
جی بہتر
بہت شکریہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.113615/