غزل برائے اصلاح

فیضان قیصر — نومبر 13، 2020 12:17 شام
میں کہیں جا رہا ہوں بس یوں ہی
خود کو بہلا رہا ہوں بس یوں ہی
میں حقیقت پسند ہوں لیکن
سچ کو جھٹلا رہا ہوں بس یوں ہی
کیا مجھے سب سے کچھ شکایت ہے؟
یا میں کترا رہا ہوں بس یوں ہی
کب میں پہنوں گا یہ نئے کپڑے؟
جو میں بنوا رہا ہوں بس یوں ہی
یا تو مشکل ہے زندگی کا سفر
یا میں گھبرا رہا ہوں بس یوں ہی
سچ تو یہ ہے کہ ایک مدت سے
میں جیے جارہا ہوں بس یوں ہی
بس یوں ہی سن لے حالِ دل فیضان
میں بھی بتلا رہا ہوں بس یوں ہی
فیضان قیصر — نومبر 13، 2020 12:18 شام
الف عین سر
راحل بھائی
الف عین — نومبر 13، 2020 2:38 شام
درست ہے غزل، بلکہ اچھی ہے ماشاء اللہ
ڈاکٹر عظیم سہارنپوری — نومبر 13، 2020 5:37 شام
خوب
ڈاکٹر عظیم سہارنپوری — نومبر 13، 2020 5:37 شام
میں کہیں جا رہا ہوں بس یوں ہی
خود کو بہلا رہا ہوں بس یوں ہی
میں حقیقت پسند ہوں لیکن
سچ کو جھٹلا رہا ہوں بس یوں ہی
کیا مجھے سب سے کچھ شکایت ہے؟
یا میں کترا رہا ہوں بس یوں ہی
کب میں پہنوں گا یہ نئے کپڑے؟
جو میں بنوا رہا ہوں بس یوں ہی
یا تو مشکل ہے زندگی کا سفر
یا میں گھبرا رہا ہوں بس یوں ہی
سچ تو یہ ہے کہ ایک مدت سے
میں جیے جارہا ہوں بس یوں ہی
بس یوں ہی سن لے حالِ دل فیضان
میں بھی بتلا رہا ہوں بس یوں ہی

خوب
فیضان قیصر — نومبر 14، 2020 12:53 شام
درست ہے غزل، بلکہ اچھی ہے ماشاء اللہ
شکریہ سر

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.113909/