غزل برائے اصلاح

فیضان قیصر — دسمبر 22، 2020 5:39 صبح
دل کو غم سے نجات تھوڑی ہے
بس خوشی ہی حیات تھوڑی ہے
کیوں بتا ؤں کہ پیار ہے تم سے
یہ بتا نے کی بات تھوڑی ہے
تجھ سے مانگیں دلیل ہونے کی
سب کی اتنی بساط تھوڑی ہے
خود کو میں خود بچا کے لایا ہوں
اس میں قسمت کا ہاتھ تھوڑی ہے
تم سے ملکر میں خوش تو ہوں لیکن
اس خوشی کو ثبات تھوڑی ہے
میں تو اکثر اداس رہتا ہوں
بس دسمبر کی بات تھوڑی ہے
تیری قدرت میں جتنی ہے فیضان
بس یہ ہی کائنات تھوڑی ہے
فیضان قیصر — دسمبر 22، 2020 5:40 صبح
الف عین سر
راحل بھائی
الف عین — دسمبر 22، 2020 7:46 صبح
باقی سارے اشعار تو درست لگ رہے ہیں لیکن مقطع ذرا.....
قدرت میں کوئی کام ہوتا ہے، شے نہیں۔ قبضہ یا کچھ اور لفظ استعمال کرو۔'یہ ہی' کی جگہ 'یہی' بہتر ہو گا
فیضان قیصر — دسمبر 22، 2020 12:18 شام
باقی سارے اشعار تو درست لگ رہے ہیں لیکن مقطع ذرا.....
قدرت میں کوئی کام ہوتا ہے، شے نہیں۔ قبضہ یا کچھ اور لفظ استعمال کرو۔'یہ ہی' کی جگہ 'یہی' بہتر ہو گا
شکریہ سر بدل کے یوں کر دیا ہے
جو تری دسترس میں ہے فیضان
بس یہی کائنات تھوڑی ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.114415/