Muhammad Ishfaq — اپریل 23، 2021 1:00 صبح
غزل برائے اصلاح
مناسب یہ ہوتا کہ تم جان جاتے
کیا ہے حقیقت یہ پہچان جاتے
ذرا بات کو سن جو لیتے ہماری
نہ حالات سے یوں ہی انجان جاتے
اذیت نہ ہوتی ملامت نہ ہوتی
اگر بات ناصح کی تم مان جاتے
نہ ہوتی ندامت تمہیں روز محشر
جو دولت کو دنیا میں کر دان جاتے
سیاحت کی فرصت جو ملتی کبھی تو
مصر ہم بھی جاتے یا جاپان جاتے
ترے ہم خیالوں کی محفل سجی تھی
اگر ہم بھی آتے پریشان جاتے
لطافت کا دامن جو تم تھام لیتے
نہ محفل سے اٹھ کے قدر دان جاتے
حکومت اگر ہوش سے کام لیتی
نہ پھر جان سے یوں ہی انسان جاتے
کہاں ہیں وہ اشفاق اب لوگ سارے
جو ہر پل ہی تجھ پر تھے قربان جاتے
اشفآق چترانوی
ارشد چوہدری — اپریل 23، 2021 3:56 صبح
(کیا ہے حقیقت یہ پہچان جاتے) بھائی اگر کیا،،کرنے کے معانی میں ہو تو پھر سہہ حرفی ہوتا ہے،کیا اگر سوالیہ ہو تو کا کے وزن پر دو حرفی تقطیع ہوتا ہے
یاسر علی — اپریل 23، 2021 5:30 صبح
ذرا بات کو سن جو لیتے ہماری
نہ حالات سے یوں ہی انجان جاتے
اس میں تخاطب واضح نہیں ۔
شاید یوں بہتر ہوں
ہماری اگر بات وہ سن جو لیتے
تو حالات سے یوں نہ انجان ہوتے
یاسر علی — اپریل 23، 2021 5:31 صبح
نہ ہوتی ندامت تمہیں روز محشر
جو دولت کو دنیا میں کر دان جات
شاید نہ ہو گی کا محل ہے۔۔
یاسر علی — اپریل 23، 2021 5:42 صبح
نہ ہوتی ندامت تمہیں روز محشر
جو دولت کو دنیا میں کر دان جات
لطافت کا دامن جو تم تھام لیتے
نہ محفل سے اٹھ کے قدر دان جات
قدر کا وزن درست نہیں باندھا۔
Muhammad Ishfaq — مئی 1، 2021 6:51 شام
احباب کا شکریہ۔
الف عین — مئی 2، 2021 7:31 صبح
بہت کچھ تو یاسر کہہ ہی چکے ہیں
مناسب یہ ہوتا کہ تم جان جاتے
کیا ہے حقیقت یہ پہچان جاتے
... مگر کہنا کیا چاہ رہے ہو؟
ذرا بات کو سن جو لیتے ہماری
نہ حالات سے یوں ہی انجان جاتے
کہاں جانے کی بات ہو رہی ہے، اس شعر میں اور دوسرے اشعار میں بھی؟ واضح نہیں
اذیت نہ ہوتی ملامت نہ ہوتی
اگر بات ناصح کی تم مان جاتے
.. درست
نہ ہوتی ندامت تمہیں روز محشر
جو دولت کو دنیا میں کر دان جاتے
.. دان جیسا ہندی لفظ، وہ بھی ایسے شعر میں جس میں سارے فارسی الفاظ ہوں، مناسب نہیں، 'کر دان جاتے' بھی اچھا بیانیہ نہیں
سیاحت کی فرصت جو ملتی کبھی تو
مصر ہم بھی جاتے یا جاپان جاتے
... سیاحت. مصر کے تلفظ غلط ہیں
ترے ہم خیالوں کی محفل سجی تھی
اگر ہم بھی آتے پریشان جاتے
.. درست
لطافت کا دامن جو تم تھام لیتے
نہ محفل سے اٹھ کے قدر دان جاتے
.. قدر پر بات ہو چکی
حکومت اگر ہوش سے کام لیتی
نہ پھر جان سے یوں ہی انسان جاتے
... دوسرا مصرع یوں واضح اور صاف ہو گا
تو پھر جان سے یوں نہ انسان...
کہاں ہیں وہ اشفاق اب لوگ سارے
جو ہر پل ہی تجھ پر تھے قربان جاتے
... لوگ کی بہ نسبت دوست یا یار کہنا بہتر نہیں ہو گا؟