غزل برائے اصلاح

Muhammad Ishfaq — جولائی 11، 2021 5:41 صبح
غموں کے اندھیروں کو ٹالا ہے میں نے
کیا ظلمتوں میں اجالا ہے میں نے
نہ مجبور ہو جاؤں کہیں کھولنے پر
زباں پر لگایا جو تالا ہے میں نے
مصیبت بھی آئی اذیت بھی آئی
کسی کو نہ گھر سے نکالا ہے میں نے
مرے حق میں تو فیصلہ پھر نہ آیا
ہوا میں بھی سکہ اچھالا ہے میں نے
خدا اس کو اپنی حفاظت میں رکھے
سمندر میں بیڑے کو ڈالا ہے میں نے
یہ ممکن ہے وہ ٹوٹ کے گر ہی جاتا
بڑی مشکلوں سے سنبھالا ہے میں نے
درختوں کو اشفاق خود کاٹتا ہوں
جنھیں اپنے ہاتھوں سے پالا ہے میں نے
الف عین — جولائی 11، 2021 7:18 صبح
غموں کے اندھیروں کو ٹالا ہے میں نے
کیا ظلمتوں میں اجالا ہے میں نے
.. کچھ ربط مضبوط نہیں بن رہا
نہ مجبور ہو جاؤں کہیں کھولنے پر
زباں پر لگایا جو تالا ہے میں نے
... پہلا مصرع بحر سے خارج
مصیبت بھی آئی اذیت بھی آئی
کسی کو نہ گھر سے نکالا ہے میں نے
... یہ بھی دو لخت!
مرے حق میں تو فیصلہ پھر نہ آیا
ہوا میں بھی سکہ اچھالا ہے میں نے
.. پہلا مصرع رواں ہو سکتا ہے الفاظ بدل کر
جیسے
مگر فیصلہ میرے حق میں نہ آیا
نہیں آ سکا فیصلہ میرے حق میں
باقی ٹھیک ہے تکنیکی طور پر
خدا اس کو اپنی حفاظت میں رکھے
سمندر میں بیڑے کو ڈالا ہے میں نے
.. ٹھیک ہے
یہ ممکن ہے وہ ٹوٹ کے گر ہی جاتا
بڑی مشکلوں سے سنبھالا ہے میں نے
... کیا/کون گر جاتا، حیدرآباد کا چار مینار؟
واضح کرو
درختوں کو اشفاق خود کاٹتا ہوں
جنھیں اپنے ہاتھوں سے پالا ہے میں نے
.. ٹھیک ویسے 'تھا میں نے' کا محل ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.116934/