غموں کے اندھیروں کو ٹالا ہے میں نے
کیا ظلمتوں میں اجالا ہے میں نے
نہ مجبور ہو جاؤں کہیں کھولنے پر
زباں پر لگایا جو تالا ہے میں نے
مصیبت بھی آئی اذیت بھی آئی
کسی کو نہ گھر سے نکالا ہے میں نے
مرے حق میں تو فیصلہ پھر نہ آیا
ہوا میں بھی سکہ اچھالا ہے میں نے
خدا اس کو اپنی حفاظت میں رکھے
سمندر میں بیڑے کو ڈالا ہے میں نے
یہ ممکن ہے وہ ٹوٹ کے گر ہی جاتا
بڑی مشکلوں سے سنبھالا ہے میں نے
درختوں کو اشفاق خود کاٹتا ہوں
جنھیں اپنے ہاتھوں سے پالا ہے میں نے
کیا ظلمتوں میں اجالا ہے میں نے
نہ مجبور ہو جاؤں کہیں کھولنے پر
زباں پر لگایا جو تالا ہے میں نے
مصیبت بھی آئی اذیت بھی آئی
کسی کو نہ گھر سے نکالا ہے میں نے
مرے حق میں تو فیصلہ پھر نہ آیا
ہوا میں بھی سکہ اچھالا ہے میں نے
خدا اس کو اپنی حفاظت میں رکھے
سمندر میں بیڑے کو ڈالا ہے میں نے
یہ ممکن ہے وہ ٹوٹ کے گر ہی جاتا
بڑی مشکلوں سے سنبھالا ہے میں نے
درختوں کو اشفاق خود کاٹتا ہوں
جنھیں اپنے ہاتھوں سے پالا ہے میں نے