عطاء اللہ جیلانی — ستمبر 24، 2022 8:36 صبح
ماضی کے پرندے جب پَر کھول لیتی ہیں
وہ اُڑنا بھول جاتی ہے صیّاد کی نظروں میں
یہ وقت بھی گزرے گی تنہائیوں کے در پر
درِ یار سے نکلے گی اک درد سر اپنوں میں
محمد عبدالرؤوف — ستمبر 24، 2022 8:48 صبح
ہر پل تیری یاد , آباد ہے مجھ میں
گزری ہوئی ہر بات تیری یاد ہے دل میں
ممکن ہی نہیں چھوڑ دوں یہ بات
ہر بات کے پیچھے تیری بات ہے مجھ میں
نمی میری آنکھوں میں تادیر رہتی ہے
ہو تیری یاد کی روشنی دل کی سیاہ خانوں میں
ماضی کے پرندے جب پَر کھول لیتی ہیں
وہ اُڑنا بھول جاتی ہے صیّاد کی نظروں میں
یہ وقت بھی گزرے گی تنہائیوں کے در پر
درِ یار سے نکلے گی اک درد سر اپنوں میں
جیلانی صاحب! قافیہ کیا ہے اس میں؟
عطاء اللہ جیلانی — ستمبر 24، 2022 8:53 صبح
جیلانی صاحب! قافیہ کیا ہے اس میں؟
استاد محترم
لفظ ( میں) قافیہ بندی کے طور پر استعمال کیا ہے
محمد عبدالرؤوف — ستمبر 24، 2022 8:55 صبح
استاد محترم
لفظ ( میں) قافیہ بندی کے طور پر استعمال کیا ہے
" میں " جب ہر مصرع کے آخر میں مسلسل دہرائی جا رہی ہے۔ یہ تو ردیف بن جائے گی۔
ردیف سے پہلے آپ کو لازمی قافیہ لانا پڑے گا۔
محمد عبدالرؤوف — ستمبر 24، 2022 9:03 صبح
جیلانی صاحب! سب سے پہلے شاعری کے حوالے سے بنیادی باتیں ذہن میں رکھیں۔
کوئی غزل ہو کہ نظم وہ مکمل ایک ہی کسی مخصوص بحر میں ہونی چاہیے۔
قافیہ و ردیف پر بھی غور کریں۔ یہ معاملات سلجھا کر پھر استاد صاحب باقی اغلاط دور فرمائیں گے۔
عطاء اللہ جیلانی — ستمبر 24، 2022 9:07 صبح
جیلانی صاحب! سب سے پہلے شاعری کے حوالے سے بنیادی باتیں ذہن میں رکھیں۔
کوئی غزل ہو کہ نظم وہ مکمل ایک ہی کسی مخصوص بحر میں ہونی چاہیے۔
قافیہ و ردیف پر بھی غور کریں۔ یہ معاملات سلجھا کر پھر استاد صاحب باقی اغلاط دور فرمائیں گے۔
بالکل آپ نے صحیح فرمایا محترم
جزاک اللہ خیرا
آیندہ مزید محنت اور فکر سے لکھنے کی کوشش کروں گا
الف عین — ستمبر 25، 2022 6:11 صبح
اس کے علاوہ زبان کی درستی بھی بہت اہم ہے۔ مجھے یہ بھی نظر نہیں آ رہی