غزل برائے اصلاح

سید تنویر رضا — دسمبر 18، 2022 9:02 صبح
الف عین سر
زخم دیتا ہے بجز زخم یہ کیا دیتا ہے
یہ زمانہ یہی انعام وفا دیتا ہے
آنکھ مشکل سے جو لگتی ہے کبھی راتوں کو
درد آکر مرے شانوں کو ہلا دیتا ہے
سب کی تقدیر میں غم ہے امرا ہو کے غریب
یہ وہ دولت ہے جو ہر اک کو خدا دیتا ہے
وہ مسیحائی بھی کرتا ہے بہ انداز دگر
اپنے بیمار کو مرنے کی دعا دیتا ہے
سرد ہوجاتی ہے دل میں جو کبھی آتشِ عشق
حسن سفاک ہے پھر آگ لگا دیتا ہے
حوصلے یوں تو مددگار ہیں صاحب لیکن
وقت حالات کے قدموں پہ گرا دیتا ہے
اس کی مرضی پہ ہی راضی ہوں میں تنویر کہ جو
کچھ جو لیتا ہے تو کچھ اس سے سوا دیتا ہے
سید تنویر رضا
ارشد چوہدری — دسمبر 18، 2022 11:18 صبح
بہت خوبصورت خیالات ہیں،غزل اچھی لگی۔تکنیکی باریکیاں تو استادِ محترم ہی دیکھیں گے
محمد عبدالرؤوف — دسمبر 18، 2022 4:15 شام
سب کی تقدیر میں غم ہے امرا ہو کے غریب
یہ وہ دولت ہے جو ہر اک کو خدا دیتا ہے
سب کی تقدیر میں غم ہیں، امرا ہوں کہ غریب
الف عین — دسمبر 19، 2022 3:47 صبح
الف عین سر
زخم دیتا ہے بجز زخم یہ کیا دیتا ہے
یہ زمانہ یہی انعام وفا دیتا ہے
میری ناقص عقل میں تو یہ مطلع سمجھ میں نہیں آیا، پہلا مصرع مجہول ہے
آنکھ مشکل سے جو لگتی ہے کبھی راتوں کو
درد آکر مرے شانوں کو ہلا دیتا ہے
درست، اچھا انداز بیان ہے
سب کی تقدیر میں غم ہے امرا ہو کے غریب
یہ وہ دولت ہے جو ہر اک کو خدا دیتا ہے
روفی نے درست کرنے کی کوشش کی ہے لیکن پھر بھی امراء، جمع اور غریب واحد کا ایک ساتھ آنا درست نہیں لگتا۔ الفاظ بدل کر کوشش کرو۔ شاید ثانی کو
غم وہ دولت ہے...
کرنے سے اولی بہتر بن سکے
وہ مسیحائی بھی کرتا ہے بہ انداز دگر
اپنے بیمار کو مرنے کی دعا دیتا ہے
درست
سرد ہوجاتی ہے دل میں جو کبھی آتشِ عشق
حسن سفاک ہے پھر آگ لگا دیتا ہے
درست
حوصلے یوں تو مددگار ہیں صاحب لیکن
وقت حالات کے قدموں پہ گرا دیتا ہے
صاحب بھرتی کا ہے. دوسرا مصرع بھی واضح نہیں
اس کی مرضی پہ ہی راضی ہوں میں تنویر کہ جو
کچھ جو لیتا ہے تو کچھ اس سے سوا دیتا ہے
سید تنویر رضا
درست
سید تنویر رضا — دسمبر 20، 2022 6:15 شام
سر الف عین
غزل کو درست کرنے کی کوشش کی ہے ، اصلاح کا طالب ہوں
آخرش خاک میں انساں کو ملا دیتا ہے
یہ زمانہ یہی انعام وفا دیتا ہے
آنکھ لگتی ہے جو مشکل سے کبھی راتوں کو
درد آکر مرے شانوں کو ہلا دیتا ہے
غم مقدر ہے سبھی کا وہ ہو مفلس کہ امیر
غم وہ دولت ہے جو ہر اک کو خدا دیتا ہے
وہ مسیحائی بھی کرتا ہے بہ انداز دگر
اپنے بیمار کو مرنے کی دعا دیتا ہے
سرد ہوجاتی ہے دل میں جو کبھی آتشِ عشق
حسن سفاک ہے پھر آگ لگا دیتا ہے
حوصلے یوں تو مددگارِ بشر ہیں لیکن
وقت انسان کو لاچار بنا دیتا ہے
اس کی مرضی پہ ہی راضی ہوں میں تنویر کہ جو
کچھ جو لیتا ہے تو کچھ اس سے سوا دیتا ہے
الف عین — دسمبر 22، 2022 5:47 صبح
اب مکمل درست لگ رہی ہے غزل
سید تنویر رضا — دسمبر 22، 2022 7:05 صبح
اب مکمل درست لگ رہی ہے غزل
بہت شکریہ الف عین سر ،ممنون ہوں
اشرف علی — دسمبر 24، 2022 9:01 شام
ماشاء اللّٰہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.119122/