غزل برائے اصلاح

md waliullah qasmi — فروری 5، 2016 4:46 صبح
السلام علیکم
میرا ایک بھانجہ ہے وہ آپ اساتذہ سے اپنی غزل کی اصلاح چاہتے ہیں آپ حضرات سے مؤدبانہ گزارش ہے آپ اصلاح فرمادیں اور خصوصی درخواست ہے ظہیر احمد ظہیراور الف عین صاحبان سے غزل درج ذیل ہے
کیا کہیں ہم گامزن تھی بھیڑ دریا کی طرف
ایسے میں پھر دیکھتا ہی کون قطرہ کی طرف
اسکو کہتے ہیں بلندی اسکو کہتے ہیں عروج
اک ندی کل جارہی تھی ایک پیاسا کی طرف
شہر کی عریانیت سے دل بہت اکتا گیا
،،جی کھچا جاتا ہے اپنا اب تو صہرا کی طرف،،
دین پر جو چل رہے تھے پا گئے منزل سبھی
راستہ بھٹکے مڑے جو لوگ دنیا کی طرف
حسرتِ دیدار ہےمدت سے ائے پروردگار
کاش ہم کو بھیج دےاک بار کعبہ کی طرف
ساری دنیا دیکھ کر کہتی ہے جس کو بےمثال
اک محل ایسا بھی ہے تعمیر جمنا کی طرف
پھول سی بچی مری کل دیرتک روئ جمیل
دیکھ کر اک قیمتی انمول گڑیا کی طرف
md waliullah qasmi — فروری 5، 2016 4:48 صبح
جلد اصلاح فرمائیں تو بہت مہربانی ہوگی
ابن رضا — فروری 5، 2016 5:12 صبح
واہ بھئی بھانجا تو آپ کا موزوں طبیعت رکھتا ہے ماشاءاللہ۔ویسے کیا عمر ہے بھانجے کی؟ اچھی کوشش ہے، ۔عریانیت کا تلفط غلط باندھنے کی وجہ سے وزن جاتا رہا ، کئی جگہوں پر ہجے درست نہیں کہیں کہیں تذکیرو تانیث کا مسئلہ ہے۔ کچھ مسائل کی نشاندہی کیے دیتا ہوں
گامزن تھے ہونا چاہیے ویسے ہم کی جگہ سب آنا چاہیے
بھیڑِ دریا درست ترکیب نہیں موجِ دریا کر سکتے ہیں
قطرہ کی طرف نہیں بلکہ یہاں قطرے کی طرف کا محل ہے مگر قافیہ ؟
بلندی اور عروج کا ندی اور پیاسے سے کیا تعلق ہے؟
اسی طرح پیاسا کی بجائے پیاسے کا محل ہے؟
صحرا
تعمیرِ جمنا کسی کالونی کا نام ہے کیا؟
قیمتی انمول بھی غلط ہے کہ یا تو قیمتی ہوگی یا انمول دونوں ایک ساتھ درست نہیں
md waliullah qasmi — فروری 5، 2016 6:13 صبح
عمر تقریباَ 30 32 جو باتیں کھٹک رہی تھی وہ آپ نے واضح کردیا بہت بہت شکریہ میں اسے بتا دونگا
تعمیرِجمنا سے مراد ،تاج محل، جو کہ جمنا کے کنارے پر واقع اسے دیکھنے کے لئے ہجوم لگا رہتا ہے
md waliullah qasmi — فروری 5، 2016 6:26 صبح
ابن رضا صاحب میں یہاں پر آپ ہی حضرات کی تلاش میں آیا ہوں اس سے پہلے میں اپنی دو غزل بغرض اصلاح بھیجا تھا اس وقت آپ کے بارے میں مجھے علم نہیں تھا کہ اپ بھی اصلاح فرماتے خیر کوئ بات میں ٹیگ کردونگا آپ بھی اصلاح فرمادینگے اور اسی قافیہ ردیف پر میری بھی غزل ہے میں یہاں بھیجونگا تو آپ ضرور اصلاح فرمائنگے اور مین جو کچھ لکھ رہا ہو وہ بھانجہ کی حوصلہ افزائ کی وجہ سے لکھ رہا ہوں
ابن رضا — فروری 5، 2016 6:54 صبح
ابن رضا صاحب میں یہاں پر آپ ہی حضرات کی تلاش میں آیا ہوں اس سے پہلے میں اپنی دو غزل بغرض اصلاح بھیجا تھا اس وقت آپ کے بارے میں مجھے علم نہیں تھا کہ اپ بھی اصلاح فرماتے خیر کوئ بات میں ٹیگ کردونگا آپ بھی اصلاح فرمادینگے اور اسی قافیہ ردیف پر میری بھی غزل ہے میں یہاں بھیجونگا تو آپ ضرور اصلاح فرمائنگے اور مین جو کچھ لکھ رہا ہو وہ بھانجہ کی حوصلہ افزائ کی وجہ سے لکھ رہا ہوں
گویا آپ کا بھانجا آپ کا ہم عمر ہے ۔ہم تو خود مبتدی ہیں اصلاح کیا کریں گے تاہم اپنی صلاح دینے میں بخل نہیں کرتے مزید اصلاح کے لیے اساتذہ تو موجو د ہیں ہی ۔ آپ کے بھانجے جمیل کو کیا کمپیوٹر استعمال کرنا نہیں آتا کہ وہ خود یہاں آ کر اساتذہ سے سمجھے تو زیادہ بہتر ہو گا۔
md waliullah qasmi — فروری 5، 2016 9:17 صبح
کمپیوٹر استعمال نہیں کرتا ہے اصل وہ سرکاری ملازم ہے پیتھولوجی میں تو وقت کم ملتا ہے اور ایک استاد سے اصلاح لیتا ہے
الف عین — فروری 6، 2016 6:42 صبح
@ابن رضا۔ بھانجے نے بھیڑِ دریا نہیں باندھا ہے،
کیا کہیں ہم، گامزن تھی بھیڑ، دریا کی طرف
کہنا چاہا ہے۔
ویسے بھیڑ کا گامزن ہونا خلاف محاورہ ہے۔
بنیادی غلطی یہی ہے کہ ’امالے کی طرف شاعر موصوف کا دھیان نہیں گیا ہے۔
md waliullah qasmi — فروری 6، 2016 8:31 صبح
بھانجا نے اپنی غزل درست کر کے پھر سے آپ کے سامنے پیش کیا ایک نظر دیکھ لیں
چشم نم منزل بکف ہیں لوگ داتا کی طرف
ایک مجمع جا رہا ہے ارض کعبہ کی طرف
شورو غل نے کر دیا ہے زندگی جینا محال
جی کهنچا جاتا ہے اپنا اب تو صحرا کی طرف
شہر کی رعنائیوں سے دل بہت گهبرا گیا
جی کهنچا جاتا ہے اپنا اب تو صحرا کی طرف
یہ تو سچ ہے میکشی کی اب اجازت ہی نہیں
اک نظر تو دیکھ لیں ہم جام و مینا کی طرف
حال کیا ہے کیا بتائیں کیا کروگے جان کر
غم زدہ ہے دل چلو لے کر مسیحا کی طرف
پهول سی بچچی کسی مفلس کی روئی دیر تک
دیکھ کر اک دل نشیں انمول گڑیا کی طرف
لوٹ جائیں ساحلوں پر یہ تو ممکن ہی نہیں
ہم نکل آئے ہیں یوسف موج دریا کی طرف
ابن رضا — فروری 6، 2016 9:55 صبح
بھانجا نے اپنی غزل درست کر کے پھر سے آپ کے سامنے پیش کیا ایک نظر دیکھ لیں
چشم نم منزل بکف ہیں لوگ داتا کی طرف
ایک مجمع جا رہا ہے ارض کعبہ کی طرف
شورو غل نے کر دیا ہے زندگی جینا محال
جی کهنچا جاتا ہے اپنا اب تو صحرا کی طرف
شہر کی رعنائیوں سے دل بہت گهبرا گیا
جی کهنچا جاتا ہے اپنا اب تو صحرا کی طرف
یہ تو سچ ہے میکشی کی اب اجازت ہی نہیں
اک نظر تو دیکھ لیں ہم جام و مینا کی طرف
حال کیا ہے کیا بتائیں کیا کروگے جان کر
غم زدہ ہے دل چلو لے کر مسیحا کی طرف
پهول سی بچچی کسی مفلس کی روئی دیر تک
دیکھ کر اک دل نشیں انمول گڑیا کی طرف
لوٹ جائیں ساحلوں پر یہ تو ممکن ہی نہیں
ہم نکل آئے ہیں یوسف موج دریا کی طرف

پہلے آپ کا بھانجا جمیل تھا اب یوسف ہے کیا پورا نام جمیل یوسف ہے؟
md waliullah qasmi — فروری 6، 2016 10:41 صبح
پہلے آپ کا بھانجا جمیل تھا اب یوسف ہے کیا پورا نام جمیل یوسف ہے؟

پورا نام یوسف جمیل یوسف ہے
md waliullah qasmi — فروری 6، 2016 10:42 صبح
غزل کے بارے میں کچھ نہیں فرمایا کل اسے پڑھنا ہے
ابن رضا — فروری 6، 2016 11:35 صبح
کچھ صلاح
چشم نم منزل بکف ہیں لوگ داتا کی طرف
ایک مجمع جا رہا ہے ارض کعبہ کی طرف​
آنکھوں میں آنسو لیے منزل ہاتھ میں لیے لوگ داتا کی طرف جارے ہیں اور ایک مجمع کعبے کی طرف جا رہا ہے دونوں باتیں مربوط نہیں ہو سکیں دولخت ہے اگر داتا سے خدا مراد ہے تو دونوں مصرعوں میں ایک ہی بات کی جا رہی ہے
شورو غل نے کر دیا ہے زندگی جینا محال
جی کهنچا جاتا ہے اپنا اب تو صحرا کی طرف​
ٹھیک ہے، زندگی جینا ؟ جینا محال کرنا محاورا ہے
شہر کی رعنائیوں سے دل بہت گهبرا گیا
جی کهنچا جاتا ہے اپنا اب تو صحرا کی طرف​
ٹھیک ہے۔ یہ شعر اوپر والے شعر کے متبادل کے طور پر ہے؟ دونوں کا مدعا ایک ہی ہے اور مصرع ثانی ایک ہی ہے
یہ تو سچ ہے میکشی کی اب اجازت ہی نہیں
اک نظر تو دیکھ لیں ہم جام و مینا کی طرف​
بہتر ابلاغ کے لیے الفاظ کی نشست بدلنے کی ضرورت ہے
حال کیا ہے کیا بتائیں کیا کروگے جان کر
غم زدہ ہے دل چلو لے کر مسیحا کی طرف​
ٹھیک ہے
پهول سی بچی کسی مفلس کی روئی دیر تک
دیکھ کر اک دل نشیں انمول گڑیا کی طرف​
درست ہے مگر گڑیا انمول بھی ہوتی ہے؟ گراں قدر تو سنا تھا
لوٹ جائیں ساحلوں پر یہ تو ممکن ہی نہیں
ہم نکل آئے ہیں یوسف موج دریا کی طرف
درست ہے​
md waliullah qasmi — فروری 6، 2016 12:35 شام
شکریہ سر
الف عین — فروری 6، 2016 2:01 شام
زندگی جینا اگرچہ محاورے کے خلاف ہے لیکن ایسا غلط بھی نہیں۔ اکثر استعمال کیا جاتا ہے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.87736/