غزل برائے اصلاح

صفی حیدر — فروری 28، 2016 10:39 صبح
تیرا سامان مجھ میں بکھرا ہے
دل یہ بے جان مجھ میں بکھرا ہے
سوچتا ہوں سمیٹ لوں میں اسے
میرا ارمان مجھ میں بکھرا ہے
کس کی آمد کا پیش خیمہ ہے یہ
ایک طوفان مجھ میں بکھرا ہے
سب امیدیں مری ختم ہو چکیں
اور یہ نقصان مجھ میں بکھرا ہے
ایک ٹوٹا قلم ہے پاس مرے
میرا دیوان مجھ میں بکھرا ہے
ہے مکمل کہانی میری مگر
اس کا عنوان مجھ میں بکھرا ہے
حسنِ ترتیب کیسے آئے صفی
ایک انسان مجھ میں بکھرا ہے
سید اسد معروف — فروری 29، 2016 8:59 صبح
بہت خوب ۔ عمدہ خیال ہے۔
اس مصرعے کو پڑھنے میں روانی محسوس نہیں ہوئی آپ دیکھ لیجیے۔
سب امیدیں مری ختم ہو چکیں
الف عین — فروری 29، 2016 9:56 صبح
مطلع واضح نہیں۔ اسی طرح اگلا شعر۔ ارمان یا دل کیسے بکھر سکتے ہیں؟
سب امیدیں مری ختم ہو چکیں
وزن میں نہں، جیسا اسد نے لکھا ہے۔
ہے مکمل کہانی میری مگر
اس میں چستی نہیں۔ بہتر ہو یوں کہو
ہے مکمل مری کہانی مگر
صفی حیدر — مارچ 1، 2016 1:50 شام
بہت خوب ۔ عمدہ خیال ہے۔
اس مصرعے کو پڑھنے میں روانی محسوس نہیں ہوئی آپ دیکھ لیجیے۔
سب امیدیں مری ختم ہو چکیں
بہت شکریہ سر حوصلہ افزائی کے لیے ۔میں اس مصرعے کو بدل کے رواں کرنے کی کوشش کروں گا۔:disdain:
صفی حیدر — مارچ 1، 2016 2:13 شام
مطلع واضح نہیں۔ اسی طرح اگلا شعر۔ ارمان یا دل کیسے بکھر سکتے ہیں؟
سب امیدیں مری ختم ہو چکیں
وزن میں نہں، جیسا اسد نے لکھا ہے۔
ہے مکمل کہانی میری مگر
اس میں چستی نہیں۔ بہتر ہو یوں کہو
ہے مکمل مری کہانی مگر
بہت نوازش سر آپ نے اپنی قیمتی رائے اور اصلاح سے نوازا ۔سر ارمان اس طرح بکھر سکتے ہیں جس طرح محترم شاعر جون ایلیا کے دل کے ارمان مرتے ہیں ۔ان کا شعر ہے
دل کے ارمان مرتے مرتے جاتے ہیں
سب گھروندے بکھرتے جاتے ہیں
سر میں نے یہ غزل اس بحر میں لکھی ۔فاعلاتن مفاعلن فَعِلن۔اور یہ مصرعہ ۔۔سب امیدیں مری ختم ہو چکیں۔۔فَعِلاتن مفاعلن فَعِلن ۔ میں ہے یہاں ۔فاعلاتن کو۔ فَعِلاتن۔ باندھا ہے ۔کیا ایسا کرنا درست ہے ؟؟
سر آپ کا عطا کردہ مصرعہ ۔۔ ہے مکمل مری کہانی مگر ۔۔زیادہ بر محل اور رواں ہے ۔:cute:
الف عین — مارچ 1، 2016 2:27 شام
سر میں نے یہ غزل اس بحر میں لکھی ۔فاعلاتن مفاعلن فَعِلن۔اور یہ مصرعہ ۔۔سب امیدیں مری ختم ہو چکیں۔۔فَعِلاتن مفاعلن فَعِلن ۔ میں ہے یہاں ۔فاعلاتن کو۔ فَعِلاتن۔ باندھا ہے ۔کیا ایسا کرنا درست ہے ؟؟
سر آپ کا عطا کردہ مصرعہ ۔۔ ہے مکمل مری کہانی مگر ۔۔زیادہ بر محل اور رواں ہے ۔:cute:
سب امیدیں تو درست ہے، مری ختم ہو چکیں‘ وزن میں نہیں ہے۔ اس طرح تقطیع ہوتا ہے۔مری خَ تَ م۔ مفاعلن، ہُ چ کی۔ فعلن
اس طرح ختم بر وزن درد کا وزن غلط ہو جاتا ہے، اور ہو چکیں کا ’ہو‘ محض ’ہ‘ تلفظ ہونا بھی بھلا نہیں لگتا۔
صفی حیدر — مارچ 1، 2016 4:38 شام
سب امیدیں تو درست ہے، مری ختم ہو چکیں‘ وزن میں نہیں ہے۔ اس طرح تقطیع ہوتا ہے۔مری خَ تَ م۔ مفاعلن، ہُ چ کی۔ فعلن
اس طرح ختم بر وزن درد کا وزن غلط ہو جاتا ہے، اور ہو چکیں کا ’ہو‘ محض ’ہ‘ تلفظ ہونا بھی بھلا نہیں لگتا۔
بہت شکریہ سر آپ نے راہنمائی کی ۔۔سر کیا لفظ ۔۔" ختم " ۔ کو ۔ فِعْل ۔۔ فَعَل۔۔ دونوں صورتوں میں باندھ سکتے ہیں ؟؟؟ :cute:
الف عین — مارچ 2، 2016 3:53 صبح
بہت شکریہ سر آپ نے راہنمائی کی ۔۔سر کیا لفظ ۔۔" ختم " ۔ کو ۔ فِعْل ۔۔ فَعَل۔۔ دونوں صورتوں میں باندھ سکتے ہیں ؟؟؟ :cute:
نہیں۔ میں نے بر وزن درد لکھا تھا ، یعنی فِعْل
صفی حیدر — مارچ 2، 2016 7:28 شام
نہیں۔ میں نے بر وزن درد لکھا تھا ، یعنی فِعْل
بہت شکریہ سر آپ نے راہنمائی کی ۔آپ کی قیمتی رائے کا ہمیشہ منتظر رہوں گا ۔:disdain:

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.88333/