غزل برائے اصلاح

محمد فائق — مئی 7، 2016 8:36 شام
خطا گر ہے اس کی سزا بھی تو ہے
نہیں درد ہی بس دوا بھی تو ہے
یہ مانا محبت بھی نعمت ہے اک
محبت میں لیکن سزا بھی تو ہے
فقط حُسنِ ماہ کب ہے زیرِ بحث
ترے حسن کا تذکرہ بھی تو ہے
اگرچہ تری یاد ہے دل شکن
مگر میری وجہِ بقا بھی تو ہے
بلاتا ہوں میں آپ آتے نہیں
نہ آنے کی کوئی وجہ بھی تو ہے؟
میں تنہا پریشاں نہیں حشر میں
برا حال واعظ ترا بھی تو ہے
اے فائق اسے بس غزل نہ کہو
مری جان یہ مرثیہ بھی تو ہے
محمد فائق — مئی 8، 2016 7:38 صبح
الف عین صاحب
مزمل حسین — مئی 8، 2016 12:27 شام
واااہ واہ خوب صورت کلام ہے۔
فقط حُسنِ ماہ کب ہے زیرِ بحث
ترے حسن کا تذکرہ بھی تو ہے
کیا کہنے!
ماہ / مہ
اگرچہ تری یاد ہے دل شکن
مگر میری وجہِ بقا بھی تو ہے
آہا کیا کہنے!
عبید اللہ علیم کا شعر یاد آیا:
ہم میں اک اور بقا کی صورت
ہم پر اک اور فنا سے آئی
محمد ریحان قریشی — مئی 8، 2016 12:43 شام
خوب غزل اور مرثیہ ہے۔ مطلع میں دونوں مصرعوں کا ربط واضح نہیں ہے۔
اور دوسرا شعر بھرتی کا ہے۔
محمد فائق — مئی 8، 2016 8:15 شام
خوب غزل اور مرثیہ ہے۔ مطلع میں دونوں مصرعوں کا ربط واضح نہیں ہے۔
اور دوسرا شعر بھرتی کا ہے۔
شکریہ ریحان بھائی حوصلہ افزائی و رہنمائی کے لیے
محمد فائق — مئی 8، 2016 8:18 شام
واااہ واہ خوب صورت کلام ہے۔
کیا کہنے!
ماہ / مہ
آہا کیا کہنے!
عبید اللہ علیم کا شعر یاد آیا:
ہم میں اک اور بقا کی صورت
ہم پر اک اور فنا سے آئی
ممنون ہوں مزمل بھائی
الف عین — مئی 9، 2016 6:31 صبح
مطلع کے بارے میں ریحان سے متفق ہوں۔
یہ مانا محبت بھی نعمت ہے اک
محبت میں لیکن سزا بھی تو ہے
روانی متاثر ہے، پہلے مصرع میں ’بھی‘ بھرتی کا ہے۔
فقط حُسنِ ماہ کب ہے زیرِ بحث
ترے حسن کا تذکرہ بھی تو ہے
’مہ‘ وزن میں آتا ہے، لیکن ’زیرے بحث‘ کا تلفظ بھی اچھا نہیں لگتا۔
بلاتا ہوں میں آپ آتے نہیں
نہ آنے کی کوئی وجہ بھی تو ہے؟
وجہ کاتلفظ غلط باندھا گیا ہے۔ درست تلفظ سے قافیہ درست نہیں ہوتا۔
اے فائق اسے بس غزل نہ کہو
مری جان یہ مرثیہ بھی تو ہے
’نہ‘ بطور ’نا‘ باندھا گیا ہے۔ اس کی بجائے ’مت‘ کر دیں تو زیادہ رواں ہو سکتا ہے۔
محمد فائق — مئی 10، 2016 11:12 صبح
مطلع کے بارے میں ریحان سے متفق ہوں۔
یہ مانا محبت بھی نعمت ہے اک
محبت میں لیکن سزا بھی تو ہے
روانی متاثر ہے، پہلے مصرع میں ’بھی‘ بھرتی کا ہے۔
فقط حُسنِ ماہ کب ہے زیرِ بحث
ترے حسن کا تذکرہ بھی تو ہے
’ہ‘ وزن میں آتا ہے، لیکن ’زیرے بحث‘ کا تلفظ بھی اچھا نہیں لگتا۔
بلاتا ہوں میں آپ آتے نہیں
نہ آنے کی کوئی وجہ بھی تو ہے؟
وجہ کاتلفظ غلط باندھا گیا ہے۔ درست تلفظ سے قافیہ درست نہیں ہوتا۔
اے فائق اسے بس غزل نہ کہو
مری جان یہ مرثیہ بھی تو ہے
’نہ‘ بطور ’نا‘ باندھا گیا ہے۔ اس کی بجائے ’مت‘ کر دیں تو زیادہ رواں ہو سکتا ہے۔
شکرگزار ہوں سر کہ آپ نے میری رہنمائی کی
فقط حُسنِ مہتاب کا ذکر کیا
ترے حسن کا تذکرہ بھی تو ہے
یہ مانا محبت ہے نعمت مگر
محبت میں صاحب سزا بھی تو ہے
کیا یہ اشعار درست ہیں
باقی غلطیاں بھی درست کرنے کی کوشش کرتا ہوں
الف عین — مئی 10، 2016 8:25 شام
حسن کا تذکرہ والا بہتر ہو گیا ہے، لیکن محبت سزا والے شعر میں اب بھی ’صاحب“بھرتی کا لگ رہا ہے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.89797/