غزل برائے اصلاح

خورشید بھارتی — مئی 27، 2016 6:36 شام
ائے شمع تجھ سے محبت کچھ نہیں
اب اجالے کی ضرورت کچھ نہیں
ہے گلہ اپنے مقدر سے فقط
دنیا والوں سے شکایت کچھ نہی
دیکھکر گھائل کو آگے بڑھ گئے
دل میں لوگوں کی مروت کچھ نہیں
ہو گیا برباد تو وہ چل دیئے
مجھ پہ اب انکی عنایت کچھ نہیں
مسکراہٹ ہے لبوں پر قرض کی
اپنی خوشیوں کی تو دولت کچھ نہیں
عباد اللہ — مئی 27، 2016 8:23 شام
۔۔
شاہد شاہنواز — مئی 28، 2016 7:51 صبح
اے شمع تجھ سے محبت کچھ نہیں
اب اجالے کی ضرورت کچھ نہیں
۔۔۔ مطلعے کے دونوں مصرعوں میں لفظ "کچھ" اضافی معلوم ہوتا ہے اور لفظ شمع کا تلفظ مجھے یہاں کھٹک رہا ہے ۔۔ ممکن ہے درست ہو۔
ہے گلہ اپنے مقدر سے فقط
دنیا والوں سے شکایت کچھ نہی
۔۔۔ دنیا والوں میں اسقاط کی بجائے یہ بھی کرسکتے ہیں: اب زمانے سے شکایت کچھ نہیں ۔۔۔ بہرحال، مقدر سے گلہ کرنا کوئی اچھی بات نہیں۔ پھر بھی شاعر لوگ ایسا بہت کچھ کہہ جاتے ہیں ۔۔۔
دیکھکر گھائل کو آگے بڑھ گئے
دل میں لوگوں کی مروت کچھ نہیں
۔۔۔ دل میں لوگوں کے، مروت کچھ نہیں ۔۔۔
ہو گیا برباد تو وہ چل دیئے
مجھ پہ اب انکی عنایت کچھ نہیں
۔۔۔ تو ، وہ ۔۔۔ غیر فصیح ہے ۔۔۔ بدل سکتے ہیں ۔۔۔
مسکراہٹ ہے لبوں پر قرض کی
اپنی خوشیوں کی تو دولت کچھ نہیں
"تو دولت" کی جگہ "بدولت" کرسکتے ہیں ۔۔۔
الف عین — مئی 28، 2016 12:55 شام
شمع کا تلفظ غلط ہے درست تلفظ میم پر جزم کے ساتھ ہے بروزن درد
خورشید بھارتی — مئی 28، 2016 7:04 شام
اے شمع تجھ سے محبت کچھ نہیں
اب اجالے کی ضرورت کچھ نہیں
۔۔۔ مطلعے کے دونوں مصرعوں میں لفظ "کچھ" اضافی معلوم ہوتا ہے اور لفظ شمع کا تلفظ مجھے یہاں کھٹک رہا ہے ۔۔ ممکن ہے درست ہو۔
ہے گلہ اپنے مقدر سے فقط
دنیا والوں سے شکایت کچھ نہی
۔۔۔ دنیا والوں میں اسقاط کی بجائے یہ بھی کرسکتے ہیں: اب زمانے سے شکایت کچھ نہیں ۔۔۔ بہرحال، مقدر سے گلہ کرنا کوئی اچھی بات نہیں۔ پھر بھی شاعر لوگ ایسا بہت کچھ کہہ جاتے ہیں ۔۔۔
دیکھکر گھائل کو آگے بڑھ گئے
دل میں لوگوں کی مروت کچھ نہیں
۔۔۔ دل میں لوگوں کے، مروت کچھ نہیں ۔۔۔
ہو گیا برباد تو وہ چل دیئے
مجھ پہ اب انکی عنایت کچھ نہیں
۔۔۔ تو ، وہ ۔۔۔ غیر فصیح ہے ۔۔۔ بدل سکتے ہیں ۔۔۔
مسکراہٹ ہے لبوں پر قرض کی
اپنی خوشیوں کی تو دولت کچھ نہیں
"تو دولت" کی جگہ "بدولت" کرسکتے ہیں ۔۔۔
مطلع
مجھ پہ گو تیری عنایت کچھ نہیں
زندگی تجھ سے شکایت کچھ نہیں
شاہد شاہنواز — مئی 30، 2016 11:38 صبح
مطلع
مجھ پہ گو تیری عنایت کچھ نہیں
زندگی تجھ سے شکایت کچھ نہیں
آپ کے نقطہ نظر سے اختلاف سہی، شعر میں بظاہر کوئی خامی نظرنہیں آتی۔۔۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.90126/