غزل برائے اصلاح

مانی عباسی — جون 5، 2016 6:35 شام
یہ حق گو سر پھرا ہے اور اس کا کیا کیا جائے
فصیل_شہر_باطل میں اسے چنوا دیا جائے​

تمنا غرق آبی کی لیے کب تک جیا جائے
سفینوں میں شگاف اے نا خداؤ کر لیا جائے​

ہے میرا عکس آئینے میں اور دیورا پر سایہ
چلو اس بزم_خود میں آج خود سے مل لیا جائے
ہوئ مدت کسی نے سنگ باری کی نہیں مجھ پر
مرا سر کہتا ھے تیری گلی کا رخ کیا جائے
کہیں اس ھجر نے آب_بقا تو پی نہیں رکھا
میں زہر_وصل دوں اس کو,مگر پهر بهی جیا جائے
شراب_خود فریبی کا زمانہ تو گیا مانی
میری آنکھوں کو اب جام_خود آگاہی دیا جائے​
عباد اللہ — جون 5، 2016 7:02 شام
واہ واہ بہت خوب
مانی عباسی — جون 6، 2016 5:46 صبح
شکریہ جناب...
حسن محمود جماعتی — جون 6، 2016 6:32 صبح
بہت خوب خیال اور عمدہ کاوش۔ داد قبول ہو۔۔۔
فرقان احمد — جون 6، 2016 8:52 صبح
یہ حق گو سر پھرا ہے اور اس کا کیا کیا جائے
فصیل_شہر_باطل میں اسے چنوا دیا جائے

کہیں اس ہجر نے آب_بقا تو پی نہیں رکھا
میں زہر_وصل دوں اس کو,مگر پهر بهی جیا جائے

بہترین! بہت اعلیٰ!
الف عین — جون 6، 2016 12:00 شام
تمنا غرق آبی کی لیے کب تک جیا جائے
سفینوں میں شگاف اے نا خداؤ کر لیا جائے
غرق آبی فاعلاتن کے طور پر باندھا گیا ہے۔ درست غرقابی بر وزن مفعولن ہے۔
بطور مزاح ۔ یہ تمنا ایسی شدید تھی کہ شعر کہنا پڑا!! اور ایک سفینے اور ایک ناخدا سے بھی کام نہیں چلنے والا!!!!
ہے میرا عکس آئینے میں اور دیورا پر سایہ
چلو اس بزم_خود میں آج خود سے مل لیا جائے
بزمِ خود (میرا خیال ہے کہ انڈر سکور سے مراد کسرہ ہے، نہ جانے کیوں لوگ اس طرح لکھتے ہیں۔ بغیر کسرہ کے بھی سمجھا جا سکتا ہے، ) سے بات نہیں بن رہی ہے یا تو اپنی یی محفل کہا جائے یا یوں کہو
چلو اس بزم میں پھر آج خود۔۔۔۔۔۔
ہوئ مدت کسی نے سنگ باری کی نہیں مجھ پر
مرا سر کہتا ھے تیری گلی کا رخ کیا جائے
’کہتا ہے‘ کا الف کا اسقاط جائز تو ہے، لیکن اچھا نہیں لگتا، یوں کہین تو۔
یہ سر کہتا ہے پھر تیری گلی کا ۔۔۔۔۔
باقی درست ہیں۔
مانی عباسی — جون 7، 2016 5:40 شام
تمنا غرق آبی کی لیے کب تک جیا جائے
سفینوں میں شگاف اے نا خداؤ کر لیا جائے
غرق آبی فاعلاتن کے طور پر باندھا گیا ہے۔ درست غرقابی بر وزن مفعولن ہے۔
بطور مزاح ۔ یہ تمنا ایسی شدید تھی کہ شعر کہنا پڑا!! اور ایک سفینے اور ایک ناخدا سے بھی کام نہیں چلنے والا!!!!
ہے میرا عکس آئینے میں اور دیورا پر سایہ
چلو اس بزم_خود میں آج خود سے مل لیا جائے
بزمِ خود (میرا خیال ہے کہ انڈر سکور سے مراد کسرہ ہے، نہ جانے کیوں لوگ اس طرح لکھتے ہیں۔ بغیر کسرہ کے بھی سمجھا جا سکتا ہے، ) سے بات نہیں بن رہی ہے یا تو اپنی یی محفل کہا جائے یا یوں کہو
چلو اس بزم میں پھر آج خود۔۔۔۔۔۔
ہوئ مدت کسی نے سنگ باری کی نہیں مجھ پر
مرا سر کہتا ھے تیری گلی کا رخ کیا جائے
’کہتا ہے‘ کا الف کا اسقاط جائز تو ہے، لیکن اچھا نہیں لگتا، یوں کہین تو۔
یہ سر کہتا ہے پھر تیری گلی کا ۔۔۔۔۔
باقی درست ہیں۔
غرق آبی کے وزن بارے آپ کی بات دل کو لگی۔۔۔بزم_۔خود تجرباتی طور پر استعمال کیا ہے۔۔۔
شکریہ سر جی

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.90276/