غزل برائے اصلاح

محمد فائق — فروری 19، 2017 5:20 صبح
علم کی جہل پر کوئی سبقت نہیں
علم کے ساتھ میں گر بصیرت نہیں
ناپسندی کا لوگوں سے شکوہ نہ کر
تجھ میں کیا خود پسندی کی خصلت نہیں؟
بن چکی ہے وفا باب تاریخ کا
اب کسی کو کسی سے محبت نہیں
اپنے اعمال بھی دیکھ واعظ ذرا
بس ترا کام وعظ و نصیحت نہیں
تیری باتیں ہیں فائق بڑے کام کی
شاعری میں اگرچہ لطافت نہیں
محمد فائق — فروری 19، 2017 5:25 صبح
الف عین سر
جناب محمد ریحان قریشی
الف عین — فروری 19، 2017 5:39 صبح
درست ہے غزل۔ بس یہ مصرع
علم کے ساتھ میں گر بصیرت نہیں
لطافت بڑھانے کے لیے بدل دو
علم کے ساتھ اگر کچھ بصیرت نہیں
الف عین — فروری 19، 2017 5:39 صبح
درست ہے غزل۔ بس یہ مصرع
علم کے ساتھ میں گر بصیرت نہیں
لطافت بڑھانے کے لیے بدل دو
علم کے ساتھ اگر کچھ بصیرت نہیں
محمد فائق — فروری 19، 2017 7:11 شام
درست ہے غزل۔ بس یہ مصرع
علم کے ساتھ میں گر بصیرت نہیں
لطافت بڑھانے کے لیے بدل دو
علم کے ساتھ اگر کچھ بصیرت نہیں
بہت بہت شکریہ سر

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.94942/