غزل برائے اصلاح

محمد فائق — جولائی 6، 2017 11:32 صبح
کرتا ہے بے وفا سے وفا بار بار کیا؟
مجھ سا بھی آپ کا ہے کوئی جاں نثار کیا ؟
اے دل شکستگی سے ترا دل بھرا نہیں
اترا نہیں ہے عشق کا اب تک بخار کیا؟
بعد از فراق چھوڑ دوں امیدِ وصل کیوں
آتی نہیں ہے بعد خزاں کے بہار کیا؟
مجبور مفلسی نے کیا سوچنے پہ یہ
لگنے لگا ہوں میں بھی غریب الدیار کیا؟
اے دل سنیں گے وہ تری فریار کسطرح
پتھر نے بھی سنی ہے کسی کی پکار کیا؟
میں رو رہا ہوں جس کی جدائی کے سوگ میں
وہ بھی مری جدائی میں ہے اشکبار کیا؟
اے دعویدارِ عشق شکایت حرام ہے
عاشق کو بھی ملا ہے سکون و قرار کیا؟
جس کے ہر ایک سجدے میں شامل ریا رہی
کہلائے گا اب وہ بھی عبادت گزار کیا؟
واعظ بیان پر نہ مرے انگلیاں اٹھا
ہوتا نہیں بیاں سے ترے انتشار کیا؟
تک بندیوں پہ اپنی گھمنڈ کر رہے ہو کیوں
ہوگا سخنوروں میں تمہارا شمار کیا
فائق ہے شوقِ قافیہ پیمائی بے سبب
اب تک غزل لکھی ہے کوئی شاہکار کیا؟
محمد فائق — جولائی 6، 2017 11:36 صبح
محمد ریحان قریشی صاحب
الف عین سر
محمد خلیل الرحمٰن — جولائی 6، 2017 12:13 شام
کہلائے گا اب وہ عبادت گزار کیا؟
ہماری صلاح

کہلا سکے گا اب وہ عبادت گزار کیا؟
یا
کہلا سکے گا وہ بھی عبادت گزار کیا؟​
محمد فائق — جولائی 6، 2017 12:21 شام
ہماری صلاح

کہلا سکے گا اب وہ عبادت گزار کیا؟
یا
کہلا سکے گا وہ بھی عبادت گزار کیا؟​
کہلائے گا اب وہ بھی عبادت گزار کیا
دراصل بھی ٹائپنگ میں رہے گیا تھا
محمد ریحان قریشی — جولائی 6، 2017 12:30 شام
خوب.
عاشق کو بھی ملا ہے سکون و قرار کیا؟
کبھی کا محذوف ہونا تعقید پیدا کر رہا ہے.
محمد فائق — جولائی 6، 2017 4:57 شام
خوب.
کبھی کا محذوف ہونا تعقید پیدا کر رہا ہے.
شکریہ بھائی
اگر مصرع یوں کردیا جائے تو درست رہے گا
ملتا ہے عاشقی میں سکون و قرار کیا؟
الف عین — جولائی 6، 2017 4:59 شام
کرتا ہے بے وفا سے وفا بار بار کیا؟
مجھ سا بھی آپ کا ہے کوئی جاں نثار کیا ؟
۔۔وفا بار بار کیسے کی جاتی ہے، مجھے معلوم نہیں۔
اے دل شکستگی سے ترا دل بھرا نہیں
اترا نہیں ہے عشق کا اب تک بخار کیا؟
÷÷”اے‘ کلاسیکی اندازِ بیان ہے، آج کل استعمال میں نہیں آتا۔ اس کی جگہ ’کی‘ استرعمال کرنے میں کیا حرج تھا؟
اور
کہلائے گا اب وہ بھی عبادت گزار کیا؟
کی تقطیع درست نہیں ہوتی، اس لئے بھائی خلیل نے (ا)صلاح دی تھی!!
باقی ٹھیک ہے
محمد فائق — جولائی 6، 2017 5:10 شام
UOTE="الف عین, post: 1928672, member: 38"]کرتا ہے بے وفا سے وفا بار بار کیا؟
مجھ سا بھی آپ کا ہے کوئی جاں نثار کیا ؟
۔۔وفا بار بار کیسے کی جاتی ہے، مجھے معلوم نہیں۔
اے دل شکستگی سے ترا دل بھرا نہیں
اترا نہیں ہے عشق کا اب تک بخار کیا؟
÷÷”اے‘ کلاسیکی اندازِ بیان ہے، آج کل استعمال میں نہیں آتا۔ اس کی جگہ ’کی‘ استرعمال کرنے میں کیا حرج تھا؟
اور
کہلائے گا اب وہ بھی عبادت گزار کیا؟
کی تقطیع درست نہیں ہوتی، اس لئے بھائی خلیل نے (ا)صلاح دی تھی!!
باقی ٹھیک ہے[/QUOTE]
بہت بہت شکریہ سر
جلتا ہے تیرے عشق میں پروانہ وار کیا؟
مجھ سا بھی تیرا ہوگا کوئی جانثار کیا؟
یہ مطلع ٹھیک رہے گا سر
الف عین — جولائی 7، 2017 7:03 صبح
جلتا ہے تیرے عشق میں پروانہ وار کیا؟
مجھ سا بھی تیرا ہوگا کوئی جانثار کیا؟
یہ مطلع ٹھیک رہے گا سر
درست ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.97470/