غزل برائے اصلاح

شہنواز نور — جنوری 6، 2018 7:02 شام
السلام عليكم ورحمة الله ۔۔۔۔محفلین ۔۔ایک غزل پیش ہے ۔۔اساتذہ سے اصلاح کی گزارش ہے۔۔۔ممنون رہوں گا ۔۔۔

کتنا عجیب تھا وہ محبت کا سلسلہ
دونوں بہت قریب تھے پھر بھی تھا فاصلہ
راہوں کی مشکلات کا اب ذکر کیا کروں
منزل کے پاس آ کے لٹا دل کا قافلہ
مسمار روز ہوتا ہے خوابوں کا ایک گھر
دل میں تمہاری یاد کا آتا ہے زلزلہ
اس درسگاہِ عشق میں تم کیسے آئے ہو
لگتا نیا نیا ہے تمہارا بھی داخلہ
نہ مل سکے گی اور نہ چھوڑا ہی جائے گا
کشمیر بن چکا ہے محبت کا مسئلہ
خنجر چلا کے پیٹھ پہ اترا رہا ہے تو
کر وار سامنے سے تو ہوگا مقابلہ
تیرا اگر خدا ہے تو میرا بھی خدا ہے
باقی ابھی امید ہے دل میں ہے حوصلہ
اللہ میرے تیرا سہارا ہے نور کو
کتنا سفر طویل ہے مشکل ہے مرحلہ​
شہنواز نور — جنوری 7، 2018 9:11 صبح
الف عین
شہنواز نور — جنوری 9، 2018 3:21 شام
@ الف عین سر
الف عین — جنوری 9، 2018 4:38 شام
قافیے میں ضروری ہے کہ مشترکہ حروف سے پہلے کی حرکت بھی یکساں ہو۔ سلسلہ میں ’لہ‘ سے پہلے کے سین پر زیر ہے، جب کہ مرحلہ میں ’ح‘ پر زبر۔ داخلہ قافلہ قابلہ میں بھی زیر ہے لیکن مسئلہ زلزلہ وغیرہ میں زبر۔
شہنواز نور — جنوری 9، 2018 4:44 شام
شکریہ حضرت ۔۔۔۔۔۔میں دوباره کوشش کرتا ہوں
شہنواز نور — جنوری 12، 2018 2:10 شام
الف عین سر ۔۔۔۔السلام علیکم ۔۔۔۔حضرت اگر اس غزل کا مطلع یوں کہا جائے ۔۔۔۔۔۔۔
کتنا عجیب ہے یہ محبت کا سلسلہ
ہم تم سے مل چکے ہیں مگر دل نہیں ملا
۔۔۔۔۔۔۔تو کیا یہ کلام درست ہو سکتا ہے ؟
الف عین — جنوری 14، 2018 3:02 صبح
مطلع تو پچھلا بھی درست تھا اور یہ بھی ہے۔ دوسرے اشعار میں بھی قوافی زیر والے ضروری ہیں۔
توقیر عالم — جنوری 14، 2018 7:12 صبح
مرا دل نیل تیری یاد کا فرعون اگل پاتا
اس میں فرعون کا ن اضافی ہے اب اس کا کیا کریں
توقیر عالم — جنوری 14، 2018 7:14 صبح
مطلع تو پچھلا بھی درست تھا اور یہ بھی ہے۔ دوسرے اشعار میں بھی قوافی زیر والے ضروری ہیں۔
سر الف عین
مرا دل نیل تیری یاد کا فرعون اگل پاتا
اس میں فرعون کا ن اضافی ہے اب اس کا کیا کریں
شہنواز نور — جنوری 14، 2018 8:45 صبح
جی سر ۔۔۔بہت شکریہ
sani moradabadi — جنوری 14، 2018 9:24 صبح
نور بھائی تخیلات عمدہ ہیں
پانچویں شعر میں لفظ "نہ" کو آپ نے دو حرفی باندھا ہے، یہ اصول کے مطابق ایک فنی خامی ہے کیوں کہ لفظ "نہ" یک حرفی ہی مستعمل ہے
نیز
ساتویں شعر کا مصرع اولی
"تیرا اگر خدا ہے تو میرا بھی خدا ہے"
یہ شاید یوں ہونا چاہیے
"تیرا اگر خدا ہے تو میرا بھی ہے خدا"
کیوں کہ اسی طرح وزن کی پیروی ہوگی
الف عین — جنوری 14، 2018 4:26 شام
پہلے قوافی درست ہو جائیں، اس کے بعد غزل دیکھتا ہوں۔ ابھی دیکھی ہی نہیں۔
فرعون کے نون کا کوئی مسئلہ نہیں۔ اگرچہ یہ مصرع مذکورہ غزل میں نہیں۔ نون کے بعد الف آ رہا ہے جو ساقط ہو کر نون اگل کے گاف سے مل جائے گا۔
البتہ ’نیل‘ کی معنویت سمجھ نہیں سکا۔
توقیر عالم — جنوری 15، 2018 11:25 صبح
’نیل‘ کی معنویت سمجھ نہیں سکا۔
سر نیل سے مراد دریا لی گئی ہے
شہنواز نور — جنوری 15، 2018 5:10 شام
رہنمائی کا دلی شکریہ بھائ ۔۔۔۔۔sani moradabadi صاحب
الف عین — جنوری 17، 2018 1:26 شام
سر نیل سے مراد دریا لی گئی ہے
یعنی دل کا نیل؟ لیکن محض دل نیل بے معنی ہے
توقیر عالم — جنوری 18، 2018 8:25 صبح
یعنی دل کا نیل؟ لیکن محض دل نیل بے معنی ہے
سر اس طرح کیا وزن میں فرق نہیں آے گا ؟؟؟
الف عین — جنوری 20، 2018 4:55 صبح
سر اس طرح کیا وزن میں فرق نہیں آے گا ؟؟؟
ظاہر ہے کا، کی، کے کے اضافے سے رکن بڑھ جائے گا۔ لیکن مطلب بھی تو سمجھ میں نہیں آئے گا!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.99727/