غزل برائے اصلاح

محمد ریحان قریشی — جنوری 18، 2018 9:06 شام
دل ہی قتیلِ لذتِ اخفائے حال ہے
مجھ پر بھی میری بات سمجھنا محال ہے
گو گردشِ زمانہ سواری کمال ہے
دستِ تغیرات سے دل پائمال ہے
ہر لحظہ نورِ دیدہ فزوں تر ہے ہو رہا
اب تیرگی بھی آئے نظر خال خال ہے
وہ محشرِ خیال کہ عقبیٰ کہیں جسے
دامِ خیال اک درِ دامِ خیال ہے
سچ ہے کہ ہر عروج کو آخر میں ہے زوال
ہاں جز زوالِ ما کہ جو بس لازوال ہے
آہیں مری ہوئی ہیں خلا و ملا گداز
یوں اب کے وقتِ سوختنِ ماہ و سال ہے
یوں سوچ کا سمجھ کا سفر دائرے میں ہے
ہر شے بس ایک دوسری شے کی مثال ہے
ریحان مست اپنے خیالات ہی میں رہ
"عالم تمام حلقۂ دامِ خیال ہے"
الف عین — جنوری 20، 2018 5:23 صبح
بڑی استادانہ غزل ہے ماشاء اللہ۔
بس
ہر لحظہ نورِ دیدہ فزوں تر ہے ہو رہا
اب تیرگی بھی آئے نظر خال خال ہے
دونوں مصرعوں میں محاورے کا خلاف اچھا نہیں لگ رہا۔ ’ہے ہو رہا‘ اور ’آئے نظر خال خال‘ کی وجہ سے۔
محمد تابش صدیقی — جنوری 20، 2018 5:25 صبح
سچ ہے کہ ہر عروج کو آخر میں ہے زوال
ہاں جز زوالِ ما کہ جو بس لازوال ہے
بہت خوب
حسان خان — جنوری 20، 2018 7:41 صبح
دامِ خیال اک درِ دامِ خیال ہے
کیا یہاں 'درِ دامِ خیال' میں 'در' میں/اندر کے معنی میں استعمال ہوا ہے؟
محمد ریحان قریشی — جنوری 20، 2018 7:50 صبح
کیا یہاں 'درِ دامِ خیال' میں 'در' میں/اندر کے معنی میں استعمال ہوا ہے؟
جی. کیا ایسا استعمال درست نہیں؟
حسان خان — جنوری 20، 2018 7:52 صبح
جی. کیا ایسا استعمال درست نہیں؟
'در' کسرۂ اضافت قبول نہیں کرتا۔
'درِ دامِ خیال'، 'دام خِیال کا در' کا مفہوم دے رہا ہے۔
محمد ریحان قریشی — جنوری 20، 2018 8:20 صبح
'در' کسرۂ اضافت قبول نہیں کرتا۔
'درِ دامِ خیال'، 'دام خِیال کا در' کا مفہوم دے رہا ہے۔
اسے "دامِ خیال ایک بہ دامِ خیال ہے" ، سے تبدیل کر دیتا ہوں. نشاندہی کے لیے شکریہ.
محمد تابش صدیقی — جنوری 20، 2018 8:44 صبح
اسے "دامِ خیال ایک بہ دامِ خیال ہے" ، سے تبدیل کر دیتا ہوں. نشاندہی کے لیے شکریہ.
اور اگر محض اک کو ایک سے بدل کر در کی اضافت ہٹا دیں تو مفہوم درست نہیں ہو جاتا؟
محمد ریحان قریشی — جنوری 20، 2018 9:32 صبح
اور اگر محض اک کو ایک سے بدل کر در کی اضافت ہٹا دیں تو مفہوم درست نہیں ہو جاتا؟
یعنی "دامِ خیال ایک در دامِ خیال ہے" کر دیا جائے؟ اس صورت میں وزن قائم نہیں رہے گا.
محمد تابش صدیقی — جنوری 20، 2018 9:53 صبح
یعنی "دامِ خیال ایک در دامِ خیال ہے" کر دیا جائے؟ اس صورت میں وزن قائم نہیں رہے گا.
درست مجھے مغالطہ ہوا۔
محمد ریحان قریشی — جنوری 20، 2018 4:51 شام
بڑی استادانہ غزل ہے ماشاء اللہ۔
بس
ہر لحظہ نورِ دیدہ فزوں تر ہے ہو رہا
اب تیرگی بھی آئے نظر خال خال ہے
دونوں مصرعوں میں محاورے کا خلاف اچھا نہیں لگ رہا۔ ’ہے ہو رہا‘ اور ’آئے نظر خال خال‘ کی وجہ سے۔
ہر لحظہ نورِ دیدہ ہوا جائے ہے فزوں
سو تیرگی بھی آئے نظر خال خال ہے
کیا یوں درست ہو جائے گا؟
الف عین — جنوری 22، 2018 9:58 صبح
ہر لحظہ نورِ دیدہ ہوا جائے ہے فزوں
سو تیرگی بھی آئے نظر خال خال ہے
کیا یوں درست ہو جائے گا؟
پہلے سے تو بہتر ہے۔ کہ آدھی بات تو درست ہو گئی ہے۔ دوسری نصف تو قافیہ ہی چھڑوا دے گی!!!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.99848/