بہت اچھے، بھیا۔ ہمیں تو بس ایک شعر پر اعتراض ہے فی الحال۔
پہلے مصرع میں "اور" کو سببِ خفیف یعنی فع کے وزن پر باندھا گیا ہے۔ قاعدہ اس سلسلے میں یہ ہے کہ اور کا لفظ اگر حرفِ عطف (ایسا حرف جو دو کلموں یا جملوں کو جوڑتا ہے) کے طور پر آئے تو اسے سببِ خفیف (فع) اور وتدِ مفروق (فاع) دونوں کے وزن پر باندھا جا سکتا ہے۔
مثال دیکھیے:
رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو
ہم سخن کوئی نہ ہو اور ہم زباں کوئی نہ ہو
(فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن)
ادب ہے اور یہی کش مکش تو کیا کیجے
حیا ہے اور یہی گو مگو تو کیونکر ہو؟
(مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن)
تقطیع کریں گے تو معلوم ہو گا کہ پہلے شعر کے مصرعِ ثانی میں حرفِ عطف کو سببِ خفیف کے وزن پر باندھا گیا ہے اور دوسرے شعر کے دونوں مصرعوں میں وتدِ مفروق کے وزن پر۔ دونوں طرح درست ہے۔
لیکن اگر "اور" بمعنیٰ مزید یا مختلف آئے یا اس قسم کی دلالتیں رکھتا ہو تو لازم ہے کہ اسے وتدِ مفروق کے وزن پر باندھا جائے۔ اساتذہ کے ہاں تو خیر اس کا التزام رہا ہی ہے مگر مستند معاصر شعرا نے بھی اس روایت کا کماحقہٗ لحاظ کیا ہے۔ لہٰذا اس کی رعایت نہ کرنے کو عیب گننا چاہیے۔
مثال ملاحظہ ہو:
ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے اندازِ بیاں اور
(مفعول مفاعیل مفاعیل مفاعیل/فعولن)
مصرعِ اولیٰ میں اور کا لفظ مزید کے معنیٰ میں ہے اور مصرعِ ثانی میں مختلف کے معنیٰ میں۔ دونوں جگہ اس کا وزن وتدِ مفروق یعنی فاع ہی کا ہے۔